صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مریخ
  4. »بخش 2 - برآمدن انجم‌شناس مریخی از رصدگاه

بخش 2 - برآمدن انجم‌شناس مریخی از رصدگاه

رسدگاہ سے ایک مریخی عالم فلکیات کا باہر آنا۔

The Martian Astronomer Comes Out of the Observatory

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
11

پیر مردی ریش او مانند برف

سالها در علم و حکمت کرده صرف

ایک بوڑھا آدمی جس کی داڑھی برف کی مانند سفید تھی اور جس نے برسوں حصولِ علم و حکمت میں گزارے تھے ۔

An aged man, his beard white as snow, having expended many years upon science and wisdom;

22

تیز بین مانند دانایان غرب

کسوتش چون پیر ترسایان غرب

وہ مغرب (یورپ) کے داناؤں کی طرح تیز فہم تھا اور اس کا لباس یورپ کے عیسائی پادریوں جیسا تھا ۔

Keen of eye like the Western sages, his raiment like the robes of a Christian monk;

33

دیر سال و قامتش بالا چو سرو

طلعتش تابنده چون ترکان مرو

وہ خاصی عمر کا تھا اور اس کا قد سرو کی مانند بلند تھا اور اس کا چہرہ مرو شہر کے ترکوں کی طرح چمک رہا تھا ۔

Far on in years, yet tall of stature as a cypress, his features glowing like a Turk of Merv;

44

آشنای رسم و راه هر طریق

آشکار از چشم او فکر عمیق

وہ ہر علم کے رسم و راہ سے واقف تھا ۔ اس کی آنکھوں سے اس کی گہری فکر نمایاں تھی ۔

Well-versed in the wont and way of every road, the deep thoughts evident in his eyes;

55

آدمی را دید و چون گل بر شکفت

در زبان طوسی و خیام گفت

اس نے ہمیں (رومی و زندہ رود) دیکھا تو وہ پھول کی طرح کھل اٹھا ۔ بہت خوش ہوا اس نے نصیر الدین طوسی اور عمر خیام کی زبان (فارسی ) میں بات کی ۔

Seeing a man approaching, he opened like a flower and spoke in the tongue of Tusi and Khayyam.

66

«پیکر گل آن اسیر چند و چون

از مقام تحت و فوق آمد برون

وہ بولا مٹی کا مجسمہ جو دلائل و مقدار کا اسیر ہے ، وہ نچلے اور اونچے مقام سے باہر آ گیا ہے ۔

‘A form of clay, prisoner to Quantity and Quality, has come forth from the abode of Under and Over;

77

خاک را پرواز بی طیاره داد

ثابتان را جوهر سیاره داد»

اس نے اپنی مٹی ، خاک کو ہوائی جہاز کے بغیر ہی پرواز دی ہے ۔ زمینی آدمی نے ساکن کو حرکت کرنیوالے کی خوبی (وصف) عطا کی ہے ۔

He gave dust the power to fly without an aeroplane, he gave the fixed stars the essence of planets.

88

نطق و ادراکش روان چون آب جو

محو حیرت بودم از گفتار او

اس کی زبان اور اس کی سوجھ بوجھ (فہم) ندی کے پانی کی طرح رواں تھی ۔ میں (زندہ رود) تو اس کی گفتار سے حیرت میں ڈوب گیا (حیران رہ گیا) ۔

His speech and comprehension flowed like a river; I was lost in stupefaction at his words:

99

این همه خوابست یا افسونگری

بر لب مریخیان حرف دری

اور سوچنے لگا کہ یہ خواب ہے یا جادوگری کہ ایک مریخی کے لبوں پر فارسی زبان ہے ۔

Is this all a dream, or a trick of magic? Pure Persian proceeding from a Martian’s lips!

1010

گفت «بود اندر زمان مصطفی

مردی از مریخیان با صفا

اس نے کہا کہ (حضرت محمد) مصطفی کے دور میں اہل مریخ میں سے ایک مرد باصفا تھا ۔

He continued: ‘In the time of the Chosen One there was a Martian, a man pure of soul,

1111

بر جهان چشم جهان بین را گشاد

دل به سیر خطه آدم نهاد

اس نے جہان پر اپنی جہاں بیں آنکھ کھولی اور خطہ آدم زمین کی سیر پر اپنے دل کو تیار کیا ۔

Who opened his world-beholding eyes on your world and set his heart on travelling the confines of man.

1212

پر گشود اندر فضا های وجود

تا به صحرای حجاز آمد فرود

اس نے وجود (کائنات) کی فضاؤں میں پر کھولے، یہاں تک کہ وہ حجاز (مکہ و مدینہ کا علاقہ) کے صحرا میں جا اترا ۔

He spread his wings in the vast expanses of being until he alighted in the desert of Hejaz.

1313

آنچه دید از مشرق و مغرب نوشت

نقش او رنگین تر از باغ بهشت

اس نے مشرق و مغرب میں جو کچھ دیکھا اسے لکھ لیا ۔ اس کا نقش (تحریر) باغ بہشت سے بھی زیادہ رنگین تھا ۔

He wrote down all that he saw in East and West, his picture more colourful than the Garden of Paradise.

1414

بوده ام من هم به ایران و فرنگ

گشته ام در ملک نیل و رود گنگ

میں بھی ایران اور یورپ میں گیا ہوں ۔ میں ملک دریائے نیل یعنی مصر اور دریائے گنگا (ہندوستان) میں پھرا ہوں ۔

I too have been in Iran and Europe; I have travelled in the realms of Nile and Ganges;

1515

دیده ام امریک و هم ژاپون و چین

بهر تحقیق فلزات زمین

میں نے امریکہ، جاپا ن اور چین کے ملک بھی دیکھے ہیں میں نے یہ سفر زمین کی دھاتوں کی تحقیق کے لیے کیا تھا ۔

I have seen America and Japan and China, investigating the metals of the earth.

1616

از شب و روز زمین دارم خبر

کرده ام اندر بر و بحرش سفر

میں زمین کے شب و روز کی خبر رکھتا ہوں (آگاہ ہوں ) میں نے اس (زمین) یعنی دنیا کے بحر و بر کا سفر کیا ہے ۔

I have knowledge of earth’s nights and days; I have journeyed through its lands and seas.

1717

پیش ما هنگامه های آدم است

گرچه او از کار ما نامحرم است»

آدم کے ہنگامے میری نگاہوں کے سامنے ہیں ، اگرچہ انسان ہمارے کام سے ناواقف ہیں ۔

The tumults of Adam’s sons are open before me, though man is not intimate with our labours.’

بند 2
رومی

RUMI

Toggle stanza 2
1818

من ز افلاکم رفیق من ز خاک

سر خوش و نا خورده از رگهای تاک

میں افلاک سے ہوں یعنی میرا تعلق آسمان سے ہے ۔ جبکہ میرا ساتھی زمین سے ہے ، اگرچہ وہ انگور کی شراب تو نہیں پیتا پھر بھی وہ بہت خوش ،مست رہتا ہے ۔

I am of the skies, my companion is of the earth, intoxicated, yet he has not tasted the veins of the vine;

1919

مرد بی پروا و نامش زنده رود

مستی او از تماشای وجود

وہ ایک بے پروا آزاد انسان ہے ۔ اس کا نام زندہ رود ہے اس کی مستی کائنات کے نظارے کی وجہ سے ہے ۔

A man intrepid, his name is Zinda-Rud, his drunkenness derived from contemplating existence.

2020

ما که در شهر شما افتاد ایم

در جهان و از جهان آزاده ایم

ہم جو تمہارے شہر میں اترے ہیں اگرچہ ہمارا تعلق جہان سے ہے لیکن ہم جہان سے آزاد ہیں ۔

We who have chanced thus upon your city are in the world, yet free from the world.

2121

در تلاش جلوه های نو بنو

یک زمان ما را رفیق راه شو

ہم نئے نئے جلووں کی تلاش میں نکلے ہیں ۔ تم تھوڑی دیر کے لیے ہمارے راستے کے ساتھی بن جاوَ یعنی ہماری رہنمائی کرو ۔

In our quest for ever new apparitions be our companion on the road for a little time.

بند 3
حکیم مریخی
Toggle stanza 3
2222

این نواح مرغدین برخیاست

بر خیا نام ابوآلابای ماست

یہ مرغدینِ برخیا کا گردونواح ہے ۔ برخیا ہمارے مورثِ اعلیٰ کا نام ہے ۔

The Martian Sage These are the environs of Marghadin of Barkhiya – Barkhiya is the name of our ancestor.

2323

فرز مرز ، آن آمر کردار زشت

رفت پیش برخیا اندر بهشت

فرزمرز وہ جو برائی کا حکم دینے والا ہے وہ ایک روز برخیا کے پاس بہشت میں گیا تا کہ شیطان کی طرح ہمارے برخیا کو بہکائے ۔

Farzmarz, the tempter to all evil, came up to Barkhiya once in Paradise;

2424

گفت «تو اینجا چسان آسوده ئی

عمرها محکوم یزدان بوده ئی

(فرزمرز ان سے) کہنے لگا تو یہاں کس لیے آرام کر رہا ہے تو ساری عمر خدا کا محکوم رہا ہے ۔

‘How can you remain here content?’ he cried. ‘For many ages you have been dominated by God.

2525

از مقام تو نکوتر عالمی است

پیش او جنت بهار یکدمی است

تیرے اس مقام سے بڑھ کر (بہتر) ایک اور مقام ہے جس کے سامنے یہ جنت (تیرا مقام) ایک لمحہ کی بہار ہے ۔

There is a world far better than your abode; compared with which Paradise itself is but a moment’s springtide;

2626

آن جهان از هر جهان بالاتر است

آن جهان از لامکان بالاتر است

وہ جہاں ہر جہان سے کہیں اونچا اور بلند ہے ۔ وہ جہاں تو لامکاں سے بھی بڑھ کر بالاتر ہے ۔

That world is loftier than all other worlds, that world is more sublime than spacelessness.

2727

نیست یزدان را از آن عالم خبر

من ندیدم عالمی آزاد تر

اس جہان کی تو یزداں (خدا) کو بھی خبر نہیں ہے ۔ میں نے تو اس سے زیادہ آزاد جہان کہیں اور نہیں دیکھا ۔

God Himself knows nothing of that world; I have never seen a world more free.

2828

نی خدائی در نظام او دخیل

نی کتاب و نی رسول و جبرئیل

ٍمطلب: اس جہان کے نظام میں خدا کا کوئی دخل نہ ہے اور نہ وہاں کوئی (آسمانی کتاب ہے اور نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی جبرئیل) ۔

God does not interfere in its ordering, it has no Book, no Prophet, no Gabriel,

2929

نی طوافی ، نی سجودی اندرو

نی دعائی نی درودی اندرو»

نہ اس کے اندرکوئی طواف ہے اور نہ کسی کو سجدہ کرنا ہے ۔ نہ کوئی دعا ہے اور نہ کوئی درود ہی ہے ۔

No circumambulations, no prostrations there, no prayers, no thanksgivings.’

3030

برخیا گفت« ای فسون پرداز خیز،

نقش خود را اندر آن عالم بریز»

برخیا نے کہا اے جادوگر یہاں سے اٹھ جا اور اس جہان میں جا کر اپنا نقش جما ۔

Barkhiya replied, ‘Depart, you sorcerer, pour your own image upon that world!’

3131

تا ابوآلابا فریب او نخورد

حق جهانی دیگری با ما سپرد

چونکہ ہمارے ابوالآبا برخیا (شیطان) فرزمرز کے دھوکے میں نہیں آئے اس لیے حق تعالیٰ نے ایک اور قسم کا جہان ہمارے سپرد کر دیا ۔

Since our ancestor did not succumb to his guile God entrusted to us another world.

3232

اندرین ملک خدا دادی گذر

مرغدین و رسم و آئینش نگر

اب تم خدا کے اس عطا کردہ ملک کی سیر کرو اور شہر مرغدین اور اس کے رہ و رسم دیکھو ۔

So enter this God-given kingdom; behold Marghadin and its laws and customs.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چشم را یک لحظه بستم اندر آب

اندکی از خود گسستم اندر آب

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 1 - اهل مریخ

اگلی نظم

مرغدین و آن عمارات بلند

من چه گویم زان مقام ارجمند

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مریخ»بخش 3 - گردش در شهر مرغدین

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور