رسدگاہ سے ایک مریخی عالم فلکیات کا باہر آنا۔
The Martian Astronomer Comes Out of the Observatory
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
پیر مردی ریش او مانند برف
سالها در علم و حکمت کرده صرف
ایک بوڑھا آدمی جس کی داڑھی برف کی مانند سفید تھی اور جس نے برسوں حصولِ علم و حکمت میں گزارے تھے ۔
An aged man, his beard white as snow, having expended many years upon science and wisdom;
تیز بین مانند دانایان غرب
کسوتش چون پیر ترسایان غرب
وہ مغرب (یورپ) کے داناؤں کی طرح تیز فہم تھا اور اس کا لباس یورپ کے عیسائی پادریوں جیسا تھا ۔
Keen of eye like the Western sages, his raiment like the robes of a Christian monk;
دیر سال و قامتش بالا چو سرو
طلعتش تابنده چون ترکان مرو
وہ خاصی عمر کا تھا اور اس کا قد سرو کی مانند بلند تھا اور اس کا چہرہ مرو شہر کے ترکوں کی طرح چمک رہا تھا ۔
Far on in years, yet tall of stature as a cypress, his features glowing like a Turk of Merv;
آشنای رسم و راه هر طریق
آشکار از چشم او فکر عمیق
وہ ہر علم کے رسم و راہ سے واقف تھا ۔ اس کی آنکھوں سے اس کی گہری فکر نمایاں تھی ۔
Well-versed in the wont and way of every road, the deep thoughts evident in his eyes;
آدمی را دید و چون گل بر شکفت
در زبان طوسی و خیام گفت
اس نے ہمیں (رومی و زندہ رود) دیکھا تو وہ پھول کی طرح کھل اٹھا ۔ بہت خوش ہوا اس نے نصیر الدین طوسی اور عمر خیام کی زبان (فارسی ) میں بات کی ۔
Seeing a man approaching, he opened like a flower and spoke in the tongue of Tusi and Khayyam.
«پیکر گل آن اسیر چند و چون
از مقام تحت و فوق آمد برون
وہ بولا مٹی کا مجسمہ جو دلائل و مقدار کا اسیر ہے ، وہ نچلے اور اونچے مقام سے باہر آ گیا ہے ۔
‘A form of clay, prisoner to Quantity and Quality, has come forth from the abode of Under and Over;
خاک را پرواز بی طیاره داد
ثابتان را جوهر سیاره داد»
اس نے اپنی مٹی ، خاک کو ہوائی جہاز کے بغیر ہی پرواز دی ہے ۔ زمینی آدمی نے ساکن کو حرکت کرنیوالے کی خوبی (وصف) عطا کی ہے ۔
He gave dust the power to fly without an aeroplane, he gave the fixed stars the essence of planets.
نطق و ادراکش روان چون آب جو
محو حیرت بودم از گفتار او
اس کی زبان اور اس کی سوجھ بوجھ (فہم) ندی کے پانی کی طرح رواں تھی ۔ میں (زندہ رود) تو اس کی گفتار سے حیرت میں ڈوب گیا (حیران رہ گیا) ۔
His speech and comprehension flowed like a river; I was lost in stupefaction at his words:
این همه خوابست یا افسونگری
بر لب مریخیان حرف دری
اور سوچنے لگا کہ یہ خواب ہے یا جادوگری کہ ایک مریخی کے لبوں پر فارسی زبان ہے ۔
Is this all a dream, or a trick of magic? Pure Persian proceeding from a Martian’s lips!
گفت «بود اندر زمان مصطفی
مردی از مریخیان با صفا
اس نے کہا کہ (حضرت محمد) مصطفی کے دور میں اہل مریخ میں سے ایک مرد باصفا تھا ۔
He continued: ‘In the time of the Chosen One there was a Martian, a man pure of soul,
بر جهان چشم جهان بین را گشاد
دل به سیر خطه آدم نهاد
اس نے جہان پر اپنی جہاں بیں آنکھ کھولی اور خطہ آدم زمین کی سیر پر اپنے دل کو تیار کیا ۔
Who opened his world-beholding eyes on your world and set his heart on travelling the confines of man.
پر گشود اندر فضا های وجود
تا به صحرای حجاز آمد فرود
اس نے وجود (کائنات) کی فضاؤں میں پر کھولے، یہاں تک کہ وہ حجاز (مکہ و مدینہ کا علاقہ) کے صحرا میں جا اترا ۔
He spread his wings in the vast expanses of being until he alighted in the desert of Hejaz.
آنچه دید از مشرق و مغرب نوشت
نقش او رنگین تر از باغ بهشت
اس نے مشرق و مغرب میں جو کچھ دیکھا اسے لکھ لیا ۔ اس کا نقش (تحریر) باغ بہشت سے بھی زیادہ رنگین تھا ۔
He wrote down all that he saw in East and West, his picture more colourful than the Garden of Paradise.
بوده ام من هم به ایران و فرنگ
گشته ام در ملک نیل و رود گنگ
میں بھی ایران اور یورپ میں گیا ہوں ۔ میں ملک دریائے نیل یعنی مصر اور دریائے گنگا (ہندوستان) میں پھرا ہوں ۔
I too have been in Iran and Europe; I have travelled in the realms of Nile and Ganges;
دیده ام امریک و هم ژاپون و چین
بهر تحقیق فلزات زمین
میں نے امریکہ، جاپا ن اور چین کے ملک بھی دیکھے ہیں میں نے یہ سفر زمین کی دھاتوں کی تحقیق کے لیے کیا تھا ۔
I have seen America and Japan and China, investigating the metals of the earth.
از شب و روز زمین دارم خبر
کرده ام اندر بر و بحرش سفر
میں زمین کے شب و روز کی خبر رکھتا ہوں (آگاہ ہوں ) میں نے اس (زمین) یعنی دنیا کے بحر و بر کا سفر کیا ہے ۔
I have knowledge of earth’s nights and days; I have journeyed through its lands and seas.
پیش ما هنگامه های آدم است
گرچه او از کار ما نامحرم است»
آدم کے ہنگامے میری نگاہوں کے سامنے ہیں ، اگرچہ انسان ہمارے کام سے ناواقف ہیں ۔
The tumults of Adam’s sons are open before me, though man is not intimate with our labours.’
RUMI
من ز افلاکم رفیق من ز خاک
سر خوش و نا خورده از رگهای تاک
میں افلاک سے ہوں یعنی میرا تعلق آسمان سے ہے ۔ جبکہ میرا ساتھی زمین سے ہے ، اگرچہ وہ انگور کی شراب تو نہیں پیتا پھر بھی وہ بہت خوش ،مست رہتا ہے ۔
I am of the skies, my companion is of the earth, intoxicated, yet he has not tasted the veins of the vine;
مرد بی پروا و نامش زنده رود
مستی او از تماشای وجود
وہ ایک بے پروا آزاد انسان ہے ۔ اس کا نام زندہ رود ہے اس کی مستی کائنات کے نظارے کی وجہ سے ہے ۔
A man intrepid, his name is Zinda-Rud, his drunkenness derived from contemplating existence.
ما که در شهر شما افتاد ایم
در جهان و از جهان آزاده ایم
ہم جو تمہارے شہر میں اترے ہیں اگرچہ ہمارا تعلق جہان سے ہے لیکن ہم جہان سے آزاد ہیں ۔
We who have chanced thus upon your city are in the world, yet free from the world.
در تلاش جلوه های نو بنو
یک زمان ما را رفیق راه شو
ہم نئے نئے جلووں کی تلاش میں نکلے ہیں ۔ تم تھوڑی دیر کے لیے ہمارے راستے کے ساتھی بن جاوَ یعنی ہماری رہنمائی کرو ۔
In our quest for ever new apparitions be our companion on the road for a little time.
این نواح مرغدین برخیاست
بر خیا نام ابوآلابای ماست
یہ مرغدینِ برخیا کا گردونواح ہے ۔ برخیا ہمارے مورثِ اعلیٰ کا نام ہے ۔
The Martian Sage These are the environs of Marghadin of Barkhiya – Barkhiya is the name of our ancestor.
فرز مرز ، آن آمر کردار زشت
رفت پیش برخیا اندر بهشت
فرزمرز وہ جو برائی کا حکم دینے والا ہے وہ ایک روز برخیا کے پاس بہشت میں گیا تا کہ شیطان کی طرح ہمارے برخیا کو بہکائے ۔
Farzmarz, the tempter to all evil, came up to Barkhiya once in Paradise;
گفت «تو اینجا چسان آسوده ئی
عمرها محکوم یزدان بوده ئی
(فرزمرز ان سے) کہنے لگا تو یہاں کس لیے آرام کر رہا ہے تو ساری عمر خدا کا محکوم رہا ہے ۔
‘How can you remain here content?’ he cried. ‘For many ages you have been dominated by God.
از مقام تو نکوتر عالمی است
پیش او جنت بهار یکدمی است
تیرے اس مقام سے بڑھ کر (بہتر) ایک اور مقام ہے جس کے سامنے یہ جنت (تیرا مقام) ایک لمحہ کی بہار ہے ۔
There is a world far better than your abode; compared with which Paradise itself is but a moment’s springtide;
آن جهان از هر جهان بالاتر است
آن جهان از لامکان بالاتر است
وہ جہاں ہر جہان سے کہیں اونچا اور بلند ہے ۔ وہ جہاں تو لامکاں سے بھی بڑھ کر بالاتر ہے ۔
That world is loftier than all other worlds, that world is more sublime than spacelessness.
نیست یزدان را از آن عالم خبر
من ندیدم عالمی آزاد تر
اس جہان کی تو یزداں (خدا) کو بھی خبر نہیں ہے ۔ میں نے تو اس سے زیادہ آزاد جہان کہیں اور نہیں دیکھا ۔
God Himself knows nothing of that world; I have never seen a world more free.
نی خدائی در نظام او دخیل
نی کتاب و نی رسول و جبرئیل
ٍمطلب: اس جہان کے نظام میں خدا کا کوئی دخل نہ ہے اور نہ وہاں کوئی (آسمانی کتاب ہے اور نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی جبرئیل) ۔
God does not interfere in its ordering, it has no Book, no Prophet, no Gabriel,
نی طوافی ، نی سجودی اندرو
نی دعائی نی درودی اندرو»
نہ اس کے اندرکوئی طواف ہے اور نہ کسی کو سجدہ کرنا ہے ۔ نہ کوئی دعا ہے اور نہ کوئی درود ہی ہے ۔
No circumambulations, no prostrations there, no prayers, no thanksgivings.’
برخیا گفت« ای فسون پرداز خیز،
نقش خود را اندر آن عالم بریز»
برخیا نے کہا اے جادوگر یہاں سے اٹھ جا اور اس جہان میں جا کر اپنا نقش جما ۔
Barkhiya replied, ‘Depart, you sorcerer, pour your own image upon that world!’
تا ابوآلابا فریب او نخورد
حق جهانی دیگری با ما سپرد
چونکہ ہمارے ابوالآبا برخیا (شیطان) فرزمرز کے دھوکے میں نہیں آئے اس لیے حق تعالیٰ نے ایک اور قسم کا جہان ہمارے سپرد کر دیا ۔
Since our ancestor did not succumb to his guile God entrusted to us another world.
اندرین ملک خدا دادی گذر
مرغدین و رسم و آئینش نگر
اب تم خدا کے اس عطا کردہ ملک کی سیر کرو اور شہر مرغدین اور اس کے رہ و رسم دیکھو ۔
So enter this God-given kingdom; behold Marghadin and its laws and customs.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور