اہل مریخ
The Sphere of Mars
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
چشم را یک لحظه بستم اندر آب
اندکی از خود گسستم اندر آب
میں (زندہ رود) نے کچھ دیر کے لیے پانی میں اپنی آنکھ بند کی اور کچھ دیر کے لیے اپنے آپ سے دور ہو گیا ۔
For an instant I closed my eyes in the waters, for a little in the depths I broke away from myself;
رخت بردم زی جهانی دیگری
با زمان و با مکانی دیگری
پھر میں اس جہان (فلک زہرہ) سے دوسرے جہان کی طرف اپنا سامانِ سفر لے گیا ۔ اس جہان کا زمان و مکان کچھ اور طرح کا تھا ۔
Bore my baggage towards another world, with another time, another space.
آفتاب ما به آفاقش رسید
روز و شب را نوع دیگر آفرید
ہمارا سورج اس (نئے جہان ) کے آفاق تک پہنچا اور وہاں اس نے نئی قسم کے دن رات پیدا کئے (وہاں کے دن رات مختلف تھے) ۔
Our sun reached its horizons, creating a different kind of night and day.
تن ز رسم و راه جان بیگانه ایست
در زمان و از زمان بیگانه ایست
یہاں (فلک مریخ میں ) بدن، روح کے طور طریقوں سے بیگانہ ہے ۔ وہ زمان میں رہتے ہوئے بھی زمان سے بیگانہ ہے (نا آشنا) ہے ۔
The body is a stranger to the spirit’s wont and way which dwells in time, yet is a stranger to time.
جان ما سازد بهر سوزی که هست
وقت او خرم بهر روزی که هست
ہماری جان ہر طرح کے سوز سے موافقت اختیار کر لیتی ہے ۔ اور جو بھی دن آئے اس کا وقت خوشی میں گزر جاتا ہے ۔
Our soul accords with every fire there is, its time rejoices in every day there is;
می نگردد کهنه از پرواز روز
روزها از نور او عالم فروز
وہ (ہماری جان) وقت گزرنے سے پرانی نہیں ہو جاتی ، بلکہ دن اس کے نور سے دنیا کو چمکا دیتے ہیں ۔
It grows not old with the flight of time; the days illumine the world through its light.
روز و شب را گردش پیهم ازوست
سیر او کن زانکه هر عالم ازوست
دن اور رات کی مسلسل گردش اسی طرح ہے تو اس کی سیر کر کیونکہ ہر جہان اسی سے ہے ۔
The ceaseless revolution of day and night from it derives; make it your journey, for the very world springs from it.
مرغزاری با رصدگاه بلند
دور بین او ثریا در کمند
وہاں ایک سبزہ زار تھا جس میں اونچی رصدگاہ تھی ، جس کی دوربین ثریا کو کمند لیے ہوئے تھی ۔
A broad meadow with a tall observatory whose telescope lassoed the Pleiades;
خلوت نه گنبد خضراست این
یا سواد خاکدان ماست این
میں سوچنے لگا کہ یہ جگہ نو سبز آسمانوں کی خلوت گاہ ہے یا پھر یہ ہماری زمین کا ماحول ہے ۔
Is this the nine-domed retreat of Khizr, or is it the dark territory of our earth?
گاه جستم وسعت او را کران
گاه دیدم در فضای آسمان
کبھی تو میں اس کی وسعت کا کنارہ تلاش کرتا اور کبھی میں آسمان کی فضا کی طرف دیکھتا ۔
Now I searched for the bounds of its immensity, anon I gazed upon the expanse of heaven.
پیر روم آن مرشد اهل نظر
گفت «مریخ است این عالم نگر
پیر روم جو اہل نظر کے مرشد ہیں کہنے لگے کہ (حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ) یہ مریخ ہے اس کا عالم دیکھ ۔
The Sage of Rum, that guide of the visionaries, spoke: ‘Behold, this world is Mars;
چون جهان ما طلسم رنگ و بوست
صاحب شهر و دیار و کاخ و کوست
یہ بھی ہماری دنیا ہی کی طرح رنگ و بو کا طلسم ہے اور اس میں بھی شہر، آبادی اور مکان و محل موجود ہیں ۔
Like our world, it is a talisman of colours and scents, having cities and habitations, palaces and streets.
ساکنانش چون فرنگان ذوفنون
در علوم جان و تن از ما فزون
اس کے باشندے اہل یورپ کی طرح ذوفنون اور جسم و جان سے متعلق علوم میں ہم سے بڑھے ہوئے ہیں ۔
Its dwellers are skilled in many arts, like the Franks, excelling us in physical and psychical sciences.
بر زمان و بر مکان قاهرترند
زانکه در علم فضا ماهرترند
یہ لوگ زمان و مکان پر قوت و قدرت رکھنے والے ہیں ، اس لیے کہ وہ فضا کے علم میں ہم سے زیادہ ماہر ہیں ۔
They have greater dominion over time and place because they are cleverer at the science of space;
بر وجودش آنچنان پیچیده اند
هر خم و پیچ فضا را دیده اند
یہ لوگ فضا کے وجود پر کچھ اس طرح لپٹے ہوئے ہیں کہ وہ اس کے ہر پیچ و خم سے باخبر ہو چکے ہیں ۔
They have so penetrated into its essence that they have seen its every twist and turn.
خاکیان را دل به بند آب و گل
اندرین عالم بدن در بند دل
اہل زمین کا دل تو بدن کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے لیکن اس جہان میں بدن دل کے زیر اثر ہے ۔ (یہاں کے باشندوں کے بدن دل کی قید میں ہیں ) ۔
Earth’s dwellers-their hearts are bound to water and clay; in this world, body is in bondage to heart.
چون دلی در آب و گل منزل کند
هر چه می خواهد به آب و گل کند
جب کوئی دل بدن کو اپنی منزل بنا لیتا ہے تو وہ جو چاہتا ہے بدن کے ساتھ کرتا ہے ۔
When a heart makes its lodging in water and clay, with water and clay it makes what it wills;
مستی و ذوق و سرور از حکم جان
جسم را غیب و حضور از حکم جان
مستی اور ذوق و سرور جان کے حکم سے ہے، جسم کے لیے غیب اور حضور بھی جان ہی کے حکم سے ہے ۔
Intoxication, joy, happiness are at the disposal of the soul, the soul determines the body’s absence and presence.
در جهان ما دو تا آمد وجود
جان و تن آن بی نمود آن با نمود
ہمارے جہان میں وجود کے دو حصے (ایک جان اور دوسرا تن ہے ۔ ) ایک نظر نہیں آتا اور دوسرا نظر آتا ہے ۔ روح نظر نہیں آتی جسم نظر آتا ہے ۔
In our world, existence is a duality, soul and body, the one invisible, the other visible;
خاکیان را جان و تن مرغ و قفس
فکر مریخی یک اندیش است و بس
اہل زمین خاکیوں کے لیے جان اور جسم کا تعلق پرندے اور پنجرے کی طرح ہے (پرندہ پنجرے میں قید ہو ) روح جسم میں قید ہے جب کہ اہل مریخ کی فکر صرف ایک ہے او ریک اندیشی ہے ۔
For terrestrials, soul and body are bird and cage, whereas the thought of Martians is unitive.
چون کسی را میرسد روز فراق
چست تر می گردد از سوز فراق
جب وہاں کسی کا روز فراق آ جاتا ہے تو وہ سوز فراق سے اور زیادہ چست ہو جاتا ہے ۔
When the day of separation arrives for any, he becomes livelier from the flame of separation;
یک دو روزی پیشتر از آن مرگ
می کند پیش کسان اعلان مرگ
موت سے ایک دو روز پہلے ہی وہ دوسروں ، لوگوں کے سامنے موت کا اعلان کر دیتا ہے ۔
A day or two before the day of death he proclaims his decease to his fellows.
جانشان پروردهٔ اندام نیست
لاجرم خو کردهٔ اندام نیست
ان کی جان جسم کی پروردہ (پالی ہوئی) نہیں ہے اس لیے وہ بدن کی اتنی عادی نہیں ہے ۔
Their soul is not nourished by the body; therefore it has not become habituated to the body.
تن بخویش اندر کشیدن مردن است
از جهان در خود رمیدن مردن است
جسم کو اپنے اندر گھسیٹ لینا ہی ان کے نزدیک موت ہے ۔
Death is to draw in the body; death is to flee from the world into one’s self.
برتر از فکر تو آمد این سخن
زانکه جان تست محکوم بدن
اے زندہ رود یہ بات تیری فکر (سمجھ) سے کہیں بلند ہے ۔ کیونکہ تیری (اہل زمین کی) جان تو بدن کی محکوم ہے ۔
This discourse is too high for your thought because your soul is dominated by your body.
رخت اینجا یکدو دم باید گشاد
اینچین فرصت خدا کس را نداد
یہاں دو ایک لمحوں کے لیے اپنا سامان سفر کھول لینا چاہیے یعنی ٹھہرنا چاہیے خدا تعالیٰ نے اس قسم کا موقع کسی اور کو نہیں دیا ۔
You must wander here for a moment or two; God gives not such an opportunity to everyone.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور