صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک زهره
  4. »بخش 2 - مجلس خدایان اقوام قدیم

بخش 2 - مجلس خدایان اقوام قدیم

گذشتہ اقوام کے بتوں کی مجلس

The Assembly of the Gods of the Ancient Peoples

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

آن هوای تند و آن شبگون سحاب

برق اندر ظلمتش گم کرده تاب

تیز ہوا تھی، بادل رات کی طرح سیاہ جسکی تاریکی میں بجلی اپنی چمک بھی کھو چکی تھی ۔

That tempestuous wind, those night black clouds – in their darkness the lightning itself had lost its lustre;

22

قلزمی اندر هوا آویخته

چاک دامان و گهر کم ریخته

وہ ہوا میں لٹکا ہو ایک سمندر تھا جس کا دامن تو پھٹا ہوا تھا لیکن اس میں سے موتی نہیں گرتے تھے ۔

An ocean suspended in their air, its skirt rent, few pearls pouring;

33

ساحلش ناپید و موجش گرم خیز

گرم خیز و با هواها کم ستیز

اس کا ساحل ناپید تھا ۔ جبکہ اس کی موجیں گرم خیز تھیں ۔ یہ موجیں تیزی سے اٹھ رہی تھیں لیکن ہوا سے نہیں ٹکرا رہی تھیں ۔

Its shore invisible, its waves high-surging, high-surging, powerless to battle with the winds.

44

رومی و من اندر آن دریای قیر

چون خیال اندر شبستان ضمیر

رومی اور میں اس سیاہ سمندر میں کچھ اس طرح تھے جیسے ضمیر کے شبستان میں خیال ہو ۔

Rumi and I in that sea of pitch were as phantoms in the bedchamber of the mind.

55

او سفر ها دیده و من نو سفر

در دو چشمم ناصبور آمد نظر

انھوں (رومی) نے تو بہت سے سفر دیکھے ہوئے تھے جبکہ میں نیا نیا مسافر بنا تھا ۔ اس صورت حال میں میری دونوں آنکھوں میں نظر بیقرار ہو گئی ۔

He much-travelled, I new to travel, my eyes impatient to gaze abroad.

66

هر زمان گفتم نگاهم نارساست

آن دگر عالم نمی بینم کجاست

میں ہر لمحہ یہ کہتا تھا کہ میری نگاہ وہاں تک نہیں پہنچ رہی ۔ وہ دوسرا جہان جس کا ذکر آپ (رومی) نے کیا تھا وہ کہاں ہے مجھے نظر نہیں آتا ۔

Continually I cried: ‘My sight is inadequate, I do not see where the other world may be!’

77

تا نشان کوهسار آمد پدید

جویبار و مرغزار آمد پدید

یہاں تک کہ کوہسار کا نشان ظاہر ہوا ۔ ندی اور سبزہ زار نظر آ گئے ۔

Presently a mountain-range appeared, a river, a broad meadow appeared,

88

کوه و صحرا صد بهار اندر کنار

مشکبار آمد نسیم از کوهسار

یہاں کے پہاڑ اور صحرا ایسے تھے جن میں سینکڑوں بہاریں تھیں ۔ ان پہاڑوں سے آنے والی بادِ نسیم میں خوشبو رچی بسی تھی ۔

Mountain and plain embracing a hundred springtides – fragrant with musk came the breeze from the hills.

99

نغمه های طایران هم نفس

چشمه زار و سبزه های نیم رس

وہاں ایک طرح کے راگ الاپنے والے پرندوں کے نغمے تھے، وہ چشموں کا سلسلہ اور تازہ اگا سبزہ تھا ۔

Songs of birds conspiring together, fountains, and verdant herbs half-grown.

1010

تن ز فیض آن هوا پاینده تر

جان پاک اندر بدن بیننده تر

اس فضا کے فیض سے جسم اور زیادہ پائیدار ہو گیا جبکہ بدن میں پاک جان خوب دیکھنے والی بن گئی ۔

The body was fortified by the emanation of that air, the pure spirit in the flesh keener of vision.

1111

از سر که پاره ئی کردم نظر

خرم آن کوه و کمر آن دشت و در

میں نے ایک پہاڑی پر نظر ڈالی ۔ وہ پہاڑ اور وادی اور وہ دشت و در کا نظارہ سبھی مبارک یا دلکش تھے، بہت پیارا تھا ۔

I fixed my gaze on the top of a mountain; a joyful the mountain, the slope, the stretching plain;

1212

وادی خوش بی نشیب و بی فراز

آب خضر آرد بخاک او نیاز

وہ ایک ایسی خوبصورت وادی تھی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ تھا، جسکی خاک کے سامنے آبِ خضر سراپا انکسار تھا ۔

A lovely valley, even, not sinking nor rising – the water of Kbizr would have need of such a land.

1313

اندرین وادی خدایان کهن

آن خدای مصر و این رب الیمن

اس وادی کے اندر پرانے زمانے کے باطل خدا تھے ۔ ان میں کوئی تو اہل مصر کا خدا تھا اور کوئی اہل یمن کا رب تھا ۔

In this valley were the ancient gods, there the God of Egypt, here the Lord of Yemen;

1414

آن ز ارباب عرب این از عراق

این اله الوصل و آن رب الفراق

کوئی عرب کے خداؤں میں سے تھا تو کوئی عراق والوں کا ۔ ایک وصل کا دیوتا تھا تو دوسرا فراق کا رب تھا ۔

There a Lord of the Arabs, here of Iraq, this one the god of union, that the god of separation;

1515

این ز نسل مهر و داماد قمر

آن به زوج مشتری دارد نظر

یہ معبود اگر سورج کی نسل سے اور چاند کا داماد تھا تو وہ کوئی مشتری کی زوج پر نظر رکھے ہوئے یعنی مشتری کو چاہنے والا تھا ۔

Here an offspring of the sun, and the moon’s son-in-law, another looking to the consort of Jupiter;

1616

آن یکی در دست او تیغ دو رو

وان دگر پیچیده ماری در گلو

وہ کوئی ایسا تھا جس کے ہاتھ میں دو دھاری تلوار تھی اور دوسرے کے گلے میں سانپ لپٹا ہوا تھا ۔

One holding a two-edged sword in his hand, another with a serpent wreathed about his throat.

1717

هر یکی ترسنده از ذکر جمیل

هر یکی آزرده از ضرب خلیل

یہ سب اللہ پاک کے ذکر جمیل سے خوفزدہ تھے اور حضرت ابراہیم کی ضرب سے ملول تھے ۔

Each one was trembling at the Beautiful Name, each wounded by the smiting of Abraham.

1818

گفت مردوخ آدم از یزدان گریخت

از کلیسا و حرم نالان گریخت

مردوخ نے کہا کہ آج کا انسان خدائے واحد سے بھاگ گیا (دور ہو گیا ہے) وہ کلیسا اور حرم سے نالہ و فریاد کرتے ہوئے دوڑ گیا ہے (مذہب سے بیگانہ ہو گیا ہے ) ۔

Mardukh said: ‘Man has fled from God, fled from church and sanctuary, lamenting;

1919

تا بیفزاید به ادراک و نظر

سوی عهد رفته باز آید نگر

ذرا دیکھو کہ آج کا انسان اس خاطر کہ وہ اپنی سمجھ اور نظر میں اضافہ کرے ، گزرے ہوئے عہد کی طرف واپس آ رہا ہے ۔

And to augment his vision and perception turns his gaze backwards to the past age.

2020

می برد لذت ز آثار کهن

از تجلی های ما دارد سخن

آج وہ انسان پرانے آثار سے لذت حاصل کر رہا ہے ۔ وہ ہماری تجلیوں کی بات کر رہا ہے ۔

He takes delight in ancient relics, makes speeches about our theophanies.

2121

روزگار افسانهٔ دیگر گشاد

می وزد زان خاکدان باد مراد

اس نے ایک اور افسانے کا باب کھولا اور خاکدان سے ہمارے لیے موافق ہوا آ رہی ہے ۔

Time has revealed a new legend; a favourable wind is wafting from younder earth.’

2222

بعل از فرط طرب خوش میسرود

بر خدایان رازهای ما گشود

یہ سن کر بعل دیوتا نے خوشی میں ایک گیت گایا او ر ان خدایان باطل پر ہمارے راز کھولے ۔

Baal in excess of joy chanted sweetly Unveiling our secrets to the gods.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در میان ماه و نور آفتاب

از فضای تو بتو چندین حجاب

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زهره»بخش 1 - در میان ماه و نور آفتاب

اگلی نظم

آدم این نیلی تتق را بر درید

آنسوی گردون خدائی را ندید

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زهره»بخش 3 - نغمهٔ بعل

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور