نغمۂ بعل
The Song of Baal
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
آدم این نیلی تتق را بر درید
آنسوی گردون خدائی را ندید
انسان نے اس نیلے آسمان کو پھاڑ ڈالا (یعنی وہ ستاروں تک پہنچ گیا ) لیکن آسمان کے اس پار (لامکاں میں ) خدا کو نہ دیکھا ۔
Man has rent younder azure veil and, beyond the sky, has seen no God.
در دل آدم به جز افکار چیست
همچو موج این سر کشید و آن رمید
انسان کے دل میں افکار کے سوا اور کیا ہے موج کی طرح ایک فکر اس میں سر اٹھاتا اور دوسرا بھاگ جاتا ہے (آج کا انسان صرف عقل کا بندہ ہے ، سوز و عشق اس کے نزدیک بھی نہیں آیا) ۔
What is there in man’s heart but thoughts, like waves this upsurging and that fleeing?
جانش از محسوس می گیرد قرار
بو که عهد رفته باز آید پدید
اس کی جان محسوس (حواس خمسہ) سے قرار پاتی ہے ۔ ممکن ہے کہ گزرا ہوا زمانہ دورِ بت پرستی پھر واپس آ جائے ۔ وہ روحانیت کے بجائے مادہ پرستی سے دل لگائے ہوئے ہے ۔
His soul takes repose in the sensible; would that the past age might return!
زنده باد افرنگی مشرق شناس
آنکه ما را از لحد بیرون کشید
مشرق کا مزاج شناس افرنگی سلامت رہے ۔ اسی نے ہمیں قبر سے باہر نکالا ہے
Long live the European orientalist who has drawn us forth from the tomb!
ای خدایان کهن وقت است وقت
اے پرانے خداوَ یہ وقت ہے فائدہ اٹھانے کا وقت، فائدہ اٹھاوَ ۔
Ancient gods, our time has come!
در نگر آن حلقهٔ وحدت شکست
آل ابراهیم بی ذوق الست
دیکھو وہ توحید کا حلقہ ٹوٹ چکا ہے ۔ اولادِ ابراہیم الست (عشق الہٰی ) کے ذوق سے محروم ہے ۔ (خدا پر ایمان رکھنے والے مسلمان بھی روحوں کی اس ہاں کو بھول گئے ہیں ) ۔
Behold, the ring of unity is broken, Abraham’s people have lost the joy of Alast;
صحبتش پاشیده جامش ریز ریز
آنکه بود از بادهٔ جبریل مست
وہ مسلمان جو کبھی جبرئیل کی شراب سے مست تھے ان کی محفل منتشر پراگندہ ہو چکی اور ان کا جام ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے ۔
Its company is scattered, its cup in fragments, the cup which was drunken with the wine of Gabriel.
مرد حر افتاد در بند جهات
با وطن پیوست و از یزدان گسست
آزاد مرد اب اطراف کی بندشوں میں گرفتار ہے وہ وطن سے وابستہ ہو کر خدا کو چھوڑ رہا ہے ۔
Free man has fallen into the bonds of directions, joined up with fatherland and parted from God;
خون او سرد از شکوه دیریان
لاجرم پیر حرم زنار بست
ان کا خون بت پرستوں کے دبدبہ سے سرد ہو چکا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیر حرم نے زنار باندھ لیا ہے وہ غیر اسلامی عقیدوں کا شیدائی بن گیا ہے ۔
His blood is cold of the glory of the ancients, the Elder of the Sanctuary has tied the Magian girdle.
ای خدایان کهن وقت است وقت
اے پرانے خداوَ یہ وقت ہے فائدہ اٹھانے کا وقت، فائدہ اٹھاوَ ۔
Ancient gods, our time has come!
در جهان باز آمد ایام طرب
دین هزیمت خورده از ملک و نسب
دنیا میں پھر ہماری خوشی کا دور واپس آ گیا ہے ۔ دین (اسلام) ملک اور نسب سے شکست کھا گیا ہے ۔ (مذہب کی بجائے ان کا سارا زور فرقہ بندی اور حسب نسب وغیرہ پر ہے ) ۔
The days of joy have returned to the world, religion has been routed by sovereignty and lineage.
از چراغ مصطفی اندیشه چیست
زانکه او را پف زند صد بولهب
رسول اللہ کے چراغ سے اب ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی ۔ اس لیے کہ اب سینکڑوں بولہب اسے بجھانے کے لیے پھونکیں مار رہے ہیں ۔
What thought is there now of the lamp of the Chosen One, seeing that a hundred Bu Lahabs blow it out?
گرچه می آید صدای لااله
آنچه از دل رفت کی ماند به لب
اگرچہ لا الہ ( توحید ایزدی ) کی آواز آ رہی ہے جب توحید دل سے نکل گئی ہو وہ بھلا ہونٹوں پر کب تک رہے گی ۔
Though the cry ‘There is no god’ rises up still how should that remain on the lips which has gone from the heart?
اهرمن را زنده کرد افسون غرب
روز یزدان زرد رو از بیم شب
مغرب کے جادو نے شیطان کو زندہ کر دیا ہے ۔ خدا کا دن رات کے خوف سے زرد رو ہو گیا ہے ۔
The West’s enchantment has revived Ahriman; the day of God is pale-cheeked, fearful of the night.
ای خدایان کهن وقت است وقت
اے پرانے خداوَ یہ وقت ہے فائدہ اٹھانے کا وقت، فائدہ اٹھاوَ ۔
Ancient gods, our time has come!
بند دین از گردنش باید گشود
بندهٔ ما بندهٔ آزاد بود
اس کی گردن کو دین کے پھندے سے رہائی دلانی چاہیے ۔ ہمارا بندہ تو آزاد بندہ تھا (جو چاہتا تھا وہ کر لیتا تھا لیکن اسلام نے اسے کئی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے ۔ )
Religion’s chain must be loosed from his neck, our slave was ever a free slave;
تا صلوت او را گران آید همی
رکعتی خواهیم و آن هم بی سجود
چونکہ نماز مسلمان کے لیے ایک بوجھ بن چکی ہے اس لیے ہم اس سے صرف ایک رکعت چاہتے ہیں اور وہ بھی سجدے کے بغیر ہو ۔
Since the ritual prayers are heavy for him, we seek only one prayer, and that without prostration.
جذبه ها از نغمه می گردد بلند
پس چه لذت در نماز بی سرود
انسانی جذبات تو نغمے سے بلند ہوتے ہیں ، اس نماز کا کیا لطف جس میں کوئی راگ نہ ہو ۔
Passions are elevated by songs, so what pleasure is there in prayers without hymns?
از خداوندی که غیب او را سزد
خوشتر آن دیوی که آید در شهود
وہ خدا جسے غیب میں رہنا ہی پسند ہے اس سے وہ دیوتا کہیں اچھا ہے جو سامنے نظر آئے ۔
Better the demon that makes itself visible than a God to whom the Unseen is meet.
ای خدایان کهن وقت است وقت
اے پرانے خداوَ یہ وقت ہے فائدہ اٹھانے کا وقت، فائدہ اٹھاوَ ۔
Ancient gods, our time has come!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور