دریائے زہرہ کے اندر جانا اور فرعون و کچنر کی ارواح دیکھنا۔
We Plunge into the Sea of Venus and Behold the Spirits of Pharaoh and Kitchener
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
پیر روم آن صاحب «ذکر جمیل»
ضرب او را سطوت ضرب خلیل
پیر روم نے جو صاحب ذکر جمیل ہیں اور ان کی ضرب میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی ضرب کا سا دبدبہ ہے ۔
The Sage of Rum, that master of fair Report whose blow has the power of Abraham’s fist,
این غزل در عالم مستی سرود
هر خدای کهنه آمد در سجود
انھوں نے یہ غزل مستی کی حالت میں یا عالم مستی میں گائی جسے سن کر ہر پرانا خدا سجدے میں گر گیا ۔
Chanted this song in the world of intoxication and all the ancient gods prostrate fell.
GHAZAL (SONG)
«باز بر رفته و آینده نظر باید کرد
هله بر خیز که اندیشه دگر باید کرد
گزشتہ اور آئندہ پر پھر سے نظر دوڑانی چاہیے ۔ ہاں اٹھ کہ ایسے سب امور کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔
Again one must gaze on the past and the future; ho, rise up, for one must think anew.
عشق بر ناقهٔ ایام کشد محمل خویش
عاشقی راحله از شام و سحر باید کرد
عشق نے زمانے کی اونٹنی پر اپنا کجاوہ باندھ لیا ہے ۔ کیا تو عاشق ہے اگر تو واقعی عاشق ہے تو پھر تجھے چاہیے کہ تو صبح اور شام کو اپنی سواری بنائے ۔
Love carries its load on the she-camel of Time; are you a lover? You must make your mount of evening and morn.
پیر ما گفت جهان بر روشی محکم نیست
از خوش و ناخوش او قطع نظر باید کرد
ہمارے پیر نے کہا جہان کسی ایک روش پر مستقل طور پر قائم نہیں رہتا، اس کے اچھے اور برے سے چشم پوشی کرنی چاہیے ۔ اس کی پسند اور ناپسند کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ۔
Our elder said, ‘The world follows not a constant way, one must close one’s eyes to its joys and griefs.
تو اگر ترک جهان کرده سر او داری
پس نخستین ز سر خویش گذر باید کرد
اگر تو ترکِ دنیا کر کے اس (خدا) کا خواہش مند ہے تو پھر اس کے لیے تجھے پہلے اپنے سر سے گزر جانا چاہیے یعنی اپنے سر کی خیر منانا چاہیے ۔
If, having abandoned the world, you intend Him, first you must pass away from your self.’
گفتمش در دل من لات و منات است بسی
گفت این بتکده را زیر و زبر باید کرد»
میں نے اپنے پیر سے کہا کہ میرے دل میں بہت سے لات و منات جیسے بت بسے ہوئے ہیں ۔ اس پر اس نے کہا کہ اس بت کدے کو تباہ کر دینا چاہیے ۔
I said to him, ‘In my heart are many Lats and Manats.’ He said, ‘You must destroy this idol-house utterly.’
باز با من گفت «بر خیز ای پسر
جز بدامانم میاویز ای پسر
پھر وہ مجھ سے کہنے لگے کہ اے بیٹے اٹھ تاکہ ہم اپنا سفر جاری رکھیں ، تو اے بیٹے میرے دامن کے سوا کسی اور کا دامن نہ تھام ۔
Again he said to me: ‘Rise up, boy, cling only to my skirt, boy.
آن کهستان آن جبال بی کلیم
آنکه از برف است چون انبار سیم
(جب آگے بڑھے تو) ایک ایسا کوہستان نظر آیا جو کلیم (حضرت موسیٰ) کے بغیر تھا اور جو برف کی وجہ سے یوں لگ رہا تھا جیسے چاندی کا ڈھیر لگا ہو ۔
Yonder mountains, yonder heights without a Moses, so covered with snow as to seem a heap of silver,
در پس او قلزم الماس گون
آشکارا تر درونش از برون
اس کے پیچھے ہیرے کے سے رنگ کا ایک سمندر تھا جس کا اندر اس کے باہر سے زیادہ ظاہر تھا ۔
Beyond them stretches a diamond-shining ocean, its depths even more translucent than its surface;
نی بموج و نی به سیل او را خلل
در مزاج او سکون لم یزل
نہ تو کسی موج کے باعث اور نہ سیلاب سے اس میں کوئی خلل واقع ہو رہا تھا ۔ اس کے مزاج میں لافانی سکون تھا ۔
Undisturbed by wave or torrent, in its nature an eternal quiet.
این مقام سر کشان زور مست
منکران غایب و حاضر پرست
یہ زور مست سرکشوں کا مقام ہے جو غائب کے منکر تھے اور صرف حاضر کے پرستار تھے ۔
This is the place of power-drunk arrogants denying the Unseen, worshipping the seen;
آن یکی از شرق و آن دیگر ز غرب
هر دو با مردان حق در حرب و ضرب
ان میں ایک کا تعلق مشرق سے ہے یعنی فرعون اور دوسرے کا تعلق مغرب سے ہے یعنی لارڈ کچز ، یہ دونوں اپنی زندگی میں مردانِ حق سے برسرِ پیکار رہے ۔
That one from the East, the other from the West, both at war and blows with the men of God.
آن یکی بر گردنش چوب کلیم
وان دگر از تیغ درویشی دو نیم
ان میں سے ایک کی گردن پر حضرت موسیٰ کی لکڑی یعنی عصا نے ضرب لگائی (مراد فرعون) اور دوسرا جو ایک درویش کی تلوار سے دو ٹکڑے ہوا یعنی لارڈ کچز (درویش سے مراد مہدی سوڈانی ہے ) ۔
One has had on his neck the staff of Moses, the other struck asunder by a dervish’s sword,
هر دو فرعون این صغیر و آن کبیر
هر دو در آغوش دریا تشنه میر
یہ دونوں فرعون تھے ۔ ایک بڑا ایک چھوٹا ۔ یہ دونوں دریا کی آغوش میں پیاسے مرے ۔
Both Pharaohs, one little, the other great, both dying of thirst in the embrace of the sea;
هر کسی با تلخی مرگ آشناست
مرگ جباران ز آیات خداست
ہر کسی کو موت کی تلخی سے آشنا ہونا پڑتا ہے، ہر کسی کو ایک روز مرنا ہے ۔ لیکن جابر لوگوں کی موت خدا کی نشانیوں میں سے ہوتی ہے ۔
Each is familiar with the bitterness of death – the death of tyrants is one of God’s signs.
درپی من پا بنه از کس مترس
دست در دستم بده از کس مترس
تو میرے پیچھے چلتا آ اور کسی سے خوف نہ کھا ۔ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے اور کسی سے نہ ڈر ۔
Follow me closely and fear no one; place your hand in mine and fear no one.
سینهٔ دریا چو موسی بر درم
من ترا اندر ضمیر او برم»
میں موسیٰ کی طرح دریا کا سینہ چیر دوں گا اور تجھے دریا کی تہ تک لے جاؤں گا ۔
I will rend apart the sea like Moses; I will guide you into its very breast.’
بحر بر ما سینهٔ خود را گشود
یا هوا بود و چو آبی وانمود
سمندر نے ہمارے لیے اپنا سینہ کھول دیا یا پھر وہ کوئی ہوا تھی جو پانی دکھائی دے رہی تھی ۔
The sea opened to us its breast – or was it air, that appeared as a water?
قعر او یک وادی بیرنگ و بو
وادی تاریکی او تو به تو
اس سمندر کی گہرائی میں ایک رنگ و بو سے عاری وادی تھی ایسی وادی جس کی تاریکی تہ بہ تہ تھی (جس کے اندر تاریکی کے پردے پڑے ہوئے تھے) ۔
Its depths were a valley without colour and scent, a valley whose darkness was fold on fold.
پیر رومی سورهٔ طه سرود
زیر دریا ماهتاب آمد فرود
پیر رومی نے سورہَ طہٰ کی تلاوت کی اور سمندر کی تہ سے چاند ابھر آیا (چاندنی پھیل گئی) ۔
Taha The Sage of Rum chanted the Sura of Taha; under the sea streamed down moonshine.
کوههای شسته و عریان و سرد
اندر آن سر گشته و حیران دو مرد
اس روشنی میں جو کچھ نظر آیا وہ دھلے ہوئے سبزہ سے خالی اور ٹھنڈے پہاڑ تھے، انکے اندر دو حیران اور پریشان آدمی پھر رہے تھے ۔
Mountains washed, naked and cold, and amid them two bewildered men.
سوی رومی یک نظر نگریستند
باز سوی یکدگر نگریستند
پہلے انھوں نے رومی کی طرف ایک نظر دیکھا پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔
Who first cast a glance on Rumi, then gazed one upon the other.
گفت فرعون این سحر این جوی نور
از کجا این صبح و این نور و ظهور
فرعون نے کہا یہ صبح یعنی صبح کی روشنی اور یہ نور کی ندی یہ صبح اور یہ نور و ظہور کہاں سے آیا ہے
Pharaoh cried, ‘What wizardry! What a river of light! whence comes this dawn, this light, this apparition?’
هر چه پنهان است ازو پیداستی
اصل این نور از یدبیضاستی
جو کچھ بھی چھپا ہوا ہے وہ اس نور سے ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اس نور کی بنیاد یدِ بیضا سے ہے ۔
All that is hidden through Him is manifest; the origin of this Light is from the White Hand.
آه نقد عقل و دین در باختم
دیدم و این نور را نشناختم
افسوس میں نے عقل اور دین کی نقدی ہار دی ۔ میں نے اس نور کو دیکھا بھی لیکن میں اسے پہچان نہ سکا ۔
Pharaoh Ah, I have gambled away the coin of reason and religion; I saw, but did not recognize this light.
ای جهانداران سوی من بنگرید
ای زیانکاران سوی من بنگرید
اے دنیا دارو میری طرف دیکھو اور اے نقصان اٹھانے والو میری طرف دیکھو (میرے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کرو) ۔
World-rulers, gaze all upon me; world-destroyers, gaze all upon me!
وای قومی از هوس گردیده کور
می برد لعل و گهر از خاک گور
افسوس اس قوم پر جو حرص و ہوس سے اندھی ہو گئی ہے ۔ وہ قبر کی مٹی سے بھی لعل و گہر لے جاتی ہے(انگریزوں نے فرعون کا مقبرہ کھو د کر اس سے زرد جواہر اور قیمتی اشیا غائب کر لی تھیں ) ۔
Woe to a people blinded by avarice who have robbed the tomb of rubies and pearls!
پیکری کو در عجایب خانه ایست
بر لب خاموش او افسانه ایست
وہ مجسمے جو ان کے عجائب خانہ میں پڑے ہیں اس کے خاموش ہونٹوں پر ایک افسانہ ہے ۔
A human shape dwells in a museum with a legend upon its silent lips
از ملوکیت خبرها می دهد
کور چشمان را نظرها می دهد
وہ بادشاہت کے انجام کی خبر دیتے ہیں ۔ وہ اندھوں کو آنکھیں عطا کرتے ہیں ۔
Telling the history of imperialism and giving visions to the blind.
چیست تقدیر ملوکیت ، شقاق
محکمی جستن ز تدبیر نفاق
بادشاہت کی تقدیر کیا ہے وہ ہے پھوٹ ڈالنا اور نفاق کی تدبیر سے اپنی حکومت کا استحکام تلاش کرنا (انگریز نے یہی ابلیسی پالیسی اپنائی ہے ) ۔
What is the grand design of imperialism? To seek security by contriving division.
از بد آموزی زبون تقدیر ملک
باطل و آشفته تر تدبیر ملک
ایسا برا طرز عمل سکھانے کے سبب ملک کی تقدیر بری ہو جاتی ہے اور ملک کی تقدیر زیادہ باطل اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے ۔ ملک تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور رعایا پریشان ہو جاتی ہے ۔
From such evil doctrine the fate of rulership declines, the contrivances of rulership become void and confused.
باز اگر بینم کلیم الله را
خواهم از وی یک دل آگاه را
اگر میں (فرعون) حضرت موسیٰ کو پھر دیکھ لوں تو میں ان سے ایک آگاہ دل کی خواہش کروں ۔
If I could only see God’s interlocutor again I would beg from him a heart aware.
Rumi
حاکمی بی نور جان خام است خام
بی یدبیضا ملوکیت حرام
نورِ جاں کے بغیر حکمرانی خام ہے ، خام اور یدِ بیضا کے بغیر ملوکیت حرام ہے ۔
Government without spiritual light is raw, raw, imperial power without the White Hand is a sin.
حاکمی از ضعف محکومان قویست
بیخش از حرمان محرومان قویست
حاکمیت محکوموں (رعایا) کی کمزوری کے باعث قوت پکڑتی ہے ۔ اس کی جڑ محروموں کی محرومی سے قوی ہوتی ہے ۔
Rulership is strong through the weakness of the subjects, its roots are firm through the deprivation of the deprived.
تاج از باج است و از تسلیم باج
مرد اگر سنگ است میگردد زجاج
تاج (بادشاہت کا وجود) خراج لینے اور رعایا کے خراج دینے پر مبنی ہے ۔ اس سے پتھر جیسا قوی انسان بھی شیشے کی طرح نازک یا کمزور ہو جاتا ہے ۔
The crown derives from tribute and the yielding of tribute; if a man be a rock, he soon becomes glass.
فوج و زندان و سلاسل رهزنی است
اوست حاکم کز چنین سامان غنی است
فوج ، قید خانہ اور زنجیریں سب رہزنی ہیں ۔ حقیقی حاکم وہی ہے جو ان اشیاء سے بے نیاز ہے ۔
Armies, prisons, chains are banditry; he is the true ruler who needs not such apparatus.
مقصد قوم فرنگ آمد بلند
از پی لعل و گهر گوری نکند
انگریزوں کا مقصد بلند ہے ۔ انھوں نے لعل و گہر کی خاطر (فرعونوں کی) کوئی قبر نہیں کھودی ۔ (لارڈ کچز نے چونکہ خرطوم فتح کیا تھا اس لیے حکومت انگلستان نے اسے لارڈ آف خرطوم کا خطاب دیا تھا جسے عربی میں ذوالخرطوم کہا جاتا ہے ۔ )
Kitchener of Khartoum The goal of the people of Europe is lofty, they excavate not any grave for rubies and pearls;
سر گذشت مصر و فرعون و کلیم
می توان دیدن ز آثار قدیم
مصر اور فرعون اور (حضرت موسیٰ ) کلیم کی سرگزشت آثار قدیمہ سے دیکھی جا سکتی ہے ۔
The history of Egypt, Pharaoh and Moses can be seen from ancient monuments.
علم و حکمت کشف اسرار است و بس
حکمت بی جستجو خوار است و بس
علم و حکمت تو صرف رازوں کے ظاہر کرنے کا نام ہے ۔ بغیر جستجو کے جو حکمت ہے وہ تو بس ذلیل و رسوا ہے ۔
Science and wisdom is simply the unveiling of secrets; wisdom without research is utterly worthless.
قبر ما را علم و حکمت بر گشود
لیکن اندر تربت مهدی چه بود
ہماری قبر کو تو علم و حکمت نے کھولا تھا (یعنی آثار قدیمہ نے ہماری قبریں کھودیں تھیں ) لیکن مہدی سوڈانی کی قبر کے اندر کیا تھا (فرعون کی یہ بات ایک لحاظ سے خبیث کچز کے منہ پر تھپڑ ہے ) ۔
Science and wisdom uncovered my tomb; but what was there to find in the Mahdi’s grave?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور