مہدی سوڈانی کا ظاہر ہونا
The Sudanese Dervish Appears
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
برق بیتابانه رخشید اندر آب
موجها بالید و غلطید اندر آب
پانی کے اندر بجلی بے قراری کی حالت میں چمکی ، پانی کے اندر موجیں اٹھیں اور آپس میں ٹکرا کر پانی میں مل گئیں ۔
A restless lightning flashed in the water, waves surged and rolled in the water;
بوی خوش از گلشن جنت رسید
روح آن درویش مصر آمد پدید
جنت کی طرف سے ایک خوشبو آئی اور اس مصری درویش کی روح ظاہر ہوئی ۔
A sweet scent wafted from the rose-garden of Paradise, the spirit of that dervish of Egypt appeared.
در صدف از سوز او گوهر گداخت
سنگ اندر سینه کشنر گداخت
اس کے سوز سے سیپی میں موتی پگھل کر رہ گیا ۔ کچز کے سینے میں پتھر پگھل گیا ۔ (اس کے سوز سے کچز کے سینے کے اندر جو پتھر کا دل تھا وہ بھی یوں پگھل گیا جیسے صدف کے اندر گوہر پگھل جائے) ۔
His fire melted the pearl in the oyster-shell, melted the stone in the breast of Kitchener.
گفت «ای کشنر اگر داری نظر
انتقام خاک درویشی نگر
مہدی نے کہا اے کچز اگر تو نظر رکھتا (صاحبِ بصیرت) ہے تو ایک درویش کی خاک کا انتقام دیکھ (تو نے میری قبر کھود کر میری لاش کو رسوا کیا ) ۔
He cried, ‘Kitchener, if you have eyes to see, behold the avenging of a dervish’s dust!
آسمان خاک ترا گوری نداد
مرقدی جز در یم شوری نداد
آسمان نے تیری لاش کو قبر بھی نہ دی ۔ تیری قبر شور سمندر ہی میں بنی (تو سمندر میں مرا اور تیری لاش کو زمین بھی نصیب نہ ہوئی ) ۔
Heaven granted no grave for your dust, gave no resting-place but the salty ocean.’
باز حرف اندر گلوی او شکست
از لبش آهی جگر تابی گسست»
پھر اس کی آواز گلے میں اٹک گئی اور اس کے ہونٹوں سے جگر کو پگھلا دینے والی ایک آہ نکلی ۔
Then the words broke in his throat; from his lips a heart-rending sigh was loosed.
گفت «ای روح عرب بیدار شو
چون نیاکان خالق اعصار شو
وہ (مہدی) پھر بولا کہ اے روح عرب بیدار ہو اور اپنے بزرگوں کی طرح نئے نئے زمانے تخلیق کر ۔
‘Spirit of the Arabs’, he cried, ‘arise; like your forebears, be the creator of new ages!
ای فواد ای فیصل ای ابن سعود
تا کجا بر خویش پیچیدن چو دود
اے فواد (مصر) اے فیصل (عراق) اور اے ابن سعود تم کب تک دھوئیں کی طرح خود میں بل کھاتے رہو گے ۔
Fouad, Feisal, Ibn Saoud, how long will you twist like smoke on yourselves?
زنده کن در سینه آن سوزی که رفت
در جهان باز آور آن روزی که رفت
اپنے سینے میں وہ سوز دوبارہ پیدا کرو جو کبھی پہلے تھا اب جا چکا ہے ۔ گیا ہوا زمانہ دنیا میں پھر واپس لاوَ ۔
Revive in the breast that fire which has departed, bring back to the world the day that has gone.
خاک بطحا خالدی دیگر بزای
نغمه توحید را دیگر سرای
اے سرزمین مکہ تو پھر کوئی خالد پیدا کر اورر ایک بار پھر توحید کا راگ گا ۔
Soil of Batha, give birth to another Khalid, chant once more the song of God’s Unity.
ای نخیل دشت تو بالنده تر
بر نخیزد از تو فاروقی دگر
تیرے صحرا کے کھجور کے درخت اور بلند ہوں ۔ کیا تیرے اندر سے کوئی اور یا دوسرا فاروق پیدا نہیں ہو سکتا
In your plains taller grow the palm-trees; shall not a new Farouk arise from you?
ای جهان مؤمنان مشک فام
از تو می آید مرا بوی دوام
اے سیاہ فام مومنو ں کی دنیا (افریقہ) مجھے تجھ سے ہمیشہ قائم رہنے والی خوشبو آ رہی ہے ۔
World of musky-hued believers, from you the scent of eternal life is coming to me.
زندگانی تا کجا بی ذوق سیر
تا کجا تقدیر تو در دست غیر
تم (اہل مصر و سوڈان) کب تک جہد و عمل کے ذوق کے بغیر زندگی (بسر کرو گے) اور کب تک اپنی تقدیر غیروں کے ہاتھ میں دیے رہو گے ۔
How long will you live without the joy of journeying, how long with your destiny in alien hands?
بر مقام خود نیائی تا به کی
استخوانم در یمی نالد چو نی
تم کب تک اپنے مقام حاصل نہ کرو گے تمہارے ان حالات سے میری ہڈیاں سمندر میں بانسری کی طرح نالہ کناں ہیں ۔
How long will you desert your true station? My bones lament in the deep like a reed-pipe;
از بلا ترسی حدیث مصطفی است
«مرد را روز بلا روز صفاست»
کیا تم مصیبتوں سے ڈرتے ہو رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث مبارکہ نہیں سنی ہے کہ مرد کے لیے مصیبت کا دن روزِ صفا ہے ۔ (مومن کے لیے جہاد کا دن پاکی نفس کا دن ہوتا ہے ،وہ ہر گناہ سے پاک ہو جاتا ہے )
Are you afraid to suffer? The Chosen One declared, "For man the day of suffering is the day of purification."
ساربان یاران به یثرب ما به نجد
آن حدی کو ناقه را آرد بوجد
ساربان دوست تو مدینہ منورہ میں پہنچے ہوئے ہیں اور ہم نجد میں ہیں ۔ وہ حدی کہاں ہے جو ہماری اونٹنی کو وجد میں لائے ۔
‘Cameleer, our friends are in Yathrib, we in Nejd; sing that song which will stir the camel to ecstasy.
ابر بارید از زمین ها سبزه رست
می شود شاید که پای ناقه سست
بادل برسا اور زمین سے سبزہ اگ آیا ہے ہو سکتا ہے کہ اونٹنی کی رفتار سست ہو جائے ۔
The cloud has rained, grasses have sprouted from the earth, it may be that the camel’s pace grows languid.
جانم از درد جدائی در نفیر
آن رهی کو سبزه کم دارد بگیر
درد جدائی سے میری جان فریاد کر رہی ہے تو (ساربان) وہ راستہ اختیار کر جہاں سبزہ کم ہو ۔
My soul wails of the pain of separation; take the road where fewer grasses grow.
ناقه مست سبزه و من مست دوست
او بدست تست و من در دست دوست
اونٹنی تو سبزے میں مست ہے جبکہ میں اپنے دوست کے خیال میں مست ہوں ۔ اونٹنی کی باگ ڈور تیرے ہاتھ میں ہے اور میری مہار محبوب کے ہاتھ میں ہے ۔
My camel is drunk with the grass, I for the Beloved; the camel is in your hands, I in the hands of the Beloved.
آب را کردند بر صحرا سبیل
بر جبل ها شسته اوراق نخیل
بارش کے پانی نے صحرا میں راستے بنا لیے ہیں ۔ اور پہاڑوں پر کھجور کے درختوں کے پتے دھل گئے ہیں ۔
They have made a way for waters into the desert, upon the mountains the palm fronds are washed.
آن دو آهو در قفای یکدگر
از فراز تل فرود آید نگر
دیکھو وہ سامنے ٹیلے کی چوٹی پر دو ہرن ایک دوسرے کے پیچھے ٹیلے کی چوٹی سے نیچے آ رہے ہیں ۔
Yonder two gazelles one after the other – see how they are descending from the hill,
یک دم آب از چشمهٔ صحرا خورد
باز سوی راه پیما بنگرد
ان ہرنوں نے کچھ دیر صحرا کے چشمے سے پانی پیا پھر راستہ چلنے والے مسافر کی طرف دیکھا ۔
For a moment drink from the desert spring and then glance upon the traveller.
ریگ دشت از نم مثال پرنیان
جاده بر اشتر نمی آید گران
نمی کی وجہ سے صحرا کی ریت ریشمی کپڑے کی طرح نرم ہو گئی ہے ۔ اس اونٹنی کے لیے راستہ دشوار نہیں رہا ۔
The dew has softened the sands of the plain like silk, the highway is not hard for the camel:
حلقه حلقه چون پر تیهو غمام
ترسم از باران که دوریم از مقام
آسمان پر بادل تیتر کے پروں کی طرح رنگ رنگ کے بدلیوں کے حلقے بنائے ہوئے ہیں ۔ میں بارش سے ڈرتا ہوں کہ ہم ابھی منزل سے دور ہیں ۔
The clouds ring on ring like the wings of the partridge – I fear the rain, for we are far from the goal.
ساربان یاران به یثرب ما به نجد
آن حدی کو ناقه را آرد بوجد»
اے ساربان دوست تو مدینہ منورہ میں ہے اور ہم نجد میں ہیں ۔ وہ حدی کہاں ہے جو ہماری اونٹنی کو وجد میں لے آئے تاکہ ہم جلد مدینہ پہنچ کر محبوب کا دیدار کریں ۔
Cameleer, our friends are in Yathrib, we in Nejd; sing that song which will stir the camel to ecstasy.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور