صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک زهره
  4. »بخش 5 - نمودار شدن درویش سودانی

بخش 5 - نمودار شدن درویش سودانی

مہدی سوڈانی کا ظاہر ہونا

The Sudanese Dervish Appears

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

برق بیتابانه رخشید اندر آب

موجها بالید و غلطید اندر آب

پانی کے اندر بجلی بے قراری کی حالت میں چمکی ، پانی کے اندر موجیں اٹھیں اور آپس میں ٹکرا کر پانی میں مل گئیں ۔

A restless lightning flashed in the water, waves surged and rolled in the water;

22

بوی خوش از گلشن جنت رسید

روح آن درویش مصر آمد پدید

جنت کی طرف سے ایک خوشبو آئی اور اس مصری درویش کی روح ظاہر ہوئی ۔

A sweet scent wafted from the rose-garden of Paradise, the spirit of that dervish of Egypt appeared.

33

در صدف از سوز او گوهر گداخت

سنگ اندر سینه کشنر گداخت

اس کے سوز سے سیپی میں موتی پگھل کر رہ گیا ۔ کچز کے سینے میں پتھر پگھل گیا ۔ (اس کے سوز سے کچز کے سینے کے اندر جو پتھر کا دل تھا وہ بھی یوں پگھل گیا جیسے صدف کے اندر گوہر پگھل جائے) ۔

His fire melted the pearl in the oyster-shell, melted the stone in the breast of Kitchener.

44

گفت «ای کشنر اگر داری نظر

انتقام خاک درویشی نگر

مہدی نے کہا اے کچز اگر تو نظر رکھتا (صاحبِ بصیرت) ہے تو ایک درویش کی خاک کا انتقام دیکھ (تو نے میری قبر کھود کر میری لاش کو رسوا کیا ) ۔

He cried, ‘Kitchener, if you have eyes to see, behold the avenging of a dervish’s dust!

55

آسمان خاک ترا گوری نداد

مرقدی جز در یم شوری نداد

آسمان نے تیری لاش کو قبر بھی نہ دی ۔ تیری قبر شور سمندر ہی میں بنی (تو سمندر میں مرا اور تیری لاش کو زمین بھی نصیب نہ ہوئی ) ۔

Heaven granted no grave for your dust, gave no resting-place but the salty ocean.’

66

باز حرف اندر گلوی او شکست

از لبش آهی جگر تابی گسست»

پھر اس کی آواز گلے میں اٹک گئی اور اس کے ہونٹوں سے جگر کو پگھلا دینے والی ایک آہ نکلی ۔

Then the words broke in his throat; from his lips a heart-rending sigh was loosed.

77

گفت «ای روح عرب بیدار شو

چون نیاکان خالق اعصار شو

وہ (مہدی) پھر بولا کہ اے روح عرب بیدار ہو اور اپنے بزرگوں کی طرح نئے نئے زمانے تخلیق کر ۔

‘Spirit of the Arabs’, he cried, ‘arise; like your forebears, be the creator of new ages!

88

ای فواد ای فیصل ای ابن سعود

تا کجا بر خویش پیچیدن چو دود

اے فواد (مصر) اے فیصل (عراق) اور اے ابن سعود تم کب تک دھوئیں کی طرح خود میں بل کھاتے رہو گے ۔

Fouad, Feisal, Ibn Saoud, how long will you twist like smoke on yourselves?

99

زنده کن در سینه آن سوزی که رفت

در جهان باز آور آن روزی که رفت

اپنے سینے میں وہ سوز دوبارہ پیدا کرو جو کبھی پہلے تھا اب جا چکا ہے ۔ گیا ہوا زمانہ دنیا میں پھر واپس لاوَ ۔

Revive in the breast that fire which has departed, bring back to the world the day that has gone.

1010

خاک بطحا خالدی دیگر بزای

نغمه توحید را دیگر سرای

اے سرزمین مکہ تو پھر کوئی خالد پیدا کر اورر ایک بار پھر توحید کا راگ گا ۔

Soil of Batha, give birth to another Khalid, chant once more the song of God’s Unity.

1111

ای نخیل دشت تو بالنده تر

بر نخیزد از تو فاروقی دگر

تیرے صحرا کے کھجور کے درخت اور بلند ہوں ۔ کیا تیرے اندر سے کوئی اور یا دوسرا فاروق پیدا نہیں ہو سکتا

In your plains taller grow the palm-trees; shall not a new Farouk arise from you?

1212

ای جهان مؤمنان مشک فام

از تو می آید مرا بوی دوام

اے سیاہ فام مومنو ں کی دنیا (افریقہ) مجھے تجھ سے ہمیشہ قائم رہنے والی خوشبو آ رہی ہے ۔

World of musky-hued believers, from you the scent of eternal life is coming to me.

1313

زندگانی تا کجا بی ذوق سیر

تا کجا تقدیر تو در دست غیر

تم (اہل مصر و سوڈان) کب تک جہد و عمل کے ذوق کے بغیر زندگی (بسر کرو گے) اور کب تک اپنی تقدیر غیروں کے ہاتھ میں دیے رہو گے ۔

How long will you live without the joy of journeying, how long with your destiny in alien hands?

1414

بر مقام خود نیائی تا به کی

استخوانم در یمی نالد چو نی

تم کب تک اپنے مقام حاصل نہ کرو گے تمہارے ان حالات سے میری ہڈیاں سمندر میں بانسری کی طرح نالہ کناں ہیں ۔

How long will you desert your true station? My bones lament in the deep like a reed-pipe;

1515

از بلا ترسی حدیث مصطفی است

«مرد را روز بلا روز صفاست»

کیا تم مصیبتوں سے ڈرتے ہو رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث مبارکہ نہیں سنی ہے کہ مرد کے لیے مصیبت کا دن روزِ صفا ہے ۔ (مومن کے لیے جہاد کا دن پاکی نفس کا دن ہوتا ہے ،وہ ہر گناہ سے پاک ہو جاتا ہے )

Are you afraid to suffer? The Chosen One declared, "For man the day of suffering is the day of purification."

1616

ساربان یاران به یثرب ما به نجد

آن حدی کو ناقه را آرد بوجد

ساربان دوست تو مدینہ منورہ میں پہنچے ہوئے ہیں اور ہم نجد میں ہیں ۔ وہ حدی کہاں ہے جو ہماری اونٹنی کو وجد میں لائے ۔

‘Cameleer, our friends are in Yathrib, we in Nejd; sing that song which will stir the camel to ecstasy.

1717

ابر بارید از زمین ها سبزه رست

می شود شاید که پای ناقه سست

بادل برسا اور زمین سے سبزہ اگ آیا ہے ہو سکتا ہے کہ اونٹنی کی رفتار سست ہو جائے ۔

The cloud has rained, grasses have sprouted from the earth, it may be that the camel’s pace grows languid.

1818

جانم از درد جدائی در نفیر

آن رهی کو سبزه کم دارد بگیر

درد جدائی سے میری جان فریاد کر رہی ہے تو (ساربان) وہ راستہ اختیار کر جہاں سبزہ کم ہو ۔

My soul wails of the pain of separation; take the road where fewer grasses grow.

1919

ناقه مست سبزه و من مست دوست

او بدست تست و من در دست دوست

اونٹنی تو سبزے میں مست ہے جبکہ میں اپنے دوست کے خیال میں مست ہوں ۔ اونٹنی کی باگ ڈور تیرے ہاتھ میں ہے اور میری مہار محبوب کے ہاتھ میں ہے ۔

My camel is drunk with the grass, I for the Beloved; the camel is in your hands, I in the hands of the Beloved.

2020

آب را کردند بر صحرا سبیل

بر جبل ها شسته اوراق نخیل

بارش کے پانی نے صحرا میں راستے بنا لیے ہیں ۔ اور پہاڑوں پر کھجور کے درختوں کے پتے دھل گئے ہیں ۔

They have made a way for waters into the desert, upon the mountains the palm fronds are washed.

2121

آن دو آهو در قفای یکدگر

از فراز تل فرود آید نگر

دیکھو وہ سامنے ٹیلے کی چوٹی پر دو ہرن ایک دوسرے کے پیچھے ٹیلے کی چوٹی سے نیچے آ رہے ہیں ۔

Yonder two gazelles one after the other – see how they are descending from the hill,

2222

یک دم آب از چشمهٔ صحرا خورد

باز سوی راه پیما بنگرد

ان ہرنوں نے کچھ دیر صحرا کے چشمے سے پانی پیا پھر راستہ چلنے والے مسافر کی طرف دیکھا ۔

For a moment drink from the desert spring and then glance upon the traveller.

2323

ریگ دشت از نم مثال پرنیان

جاده بر اشتر نمی آید گران

نمی کی وجہ سے صحرا کی ریت ریشمی کپڑے کی طرح نرم ہو گئی ہے ۔ اس اونٹنی کے لیے راستہ دشوار نہیں رہا ۔

The dew has softened the sands of the plain like silk, the highway is not hard for the camel:

2424

حلقه حلقه چون پر تیهو غمام

ترسم از باران که دوریم از مقام

آسمان پر بادل تیتر کے پروں کی طرح رنگ رنگ کے بدلیوں کے حلقے بنائے ہوئے ہیں ۔ میں بارش سے ڈرتا ہوں کہ ہم ابھی منزل سے دور ہیں ۔

The clouds ring on ring like the wings of the partridge – I fear the rain, for we are far from the goal.

2525

ساربان یاران به یثرب ما به نجد

آن حدی کو ناقه را آرد بوجد»

اے ساربان دوست تو مدینہ منورہ میں ہے اور ہم نجد میں ہیں ۔ وہ حدی کہاں ہے جو ہماری اونٹنی کو وجد میں لے آئے تاکہ ہم جلد مدینہ پہنچ کر محبوب کا دیدار کریں ۔

Cameleer, our friends are in Yathrib, we in Nejd; sing that song which will stir the camel to ecstasy.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیر روم آن صاحب «ذکر جمیل»

ضرب او را سطوت ضرب خلیل

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زهره»بخش 4 - فرو رفتن به دریای زهره و دیدن ارواح فرعون و کشنر را

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور