فلک زہرہ
The Sphere of Venus
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
در میان ماه و نور آفتاب
از فضای تو بتو چندین حجاب
چاند اور سورج کی روشنی کے درمیان کئی تہ بتہ پردے ہیں ۔
Between us and the light of the sun there hang how many veils of space fold upon fold!
پیش ما صد پرده را آویختند
جلوه های آتشین را بیختند
ہمارے سامنے کارکنانِ قضا و قدر نے سینکڑوں پردے لٹکا دیے ہیں اور ان میں آتشیں جلوے لپیٹ دیے ہیں ۔ یعنی جلووَ ں کو پیچ در پیچ بنا دیا گیا ۔
A hundred curtains have been suspended before us, intertwisted firework displays,
تا ز کم سوزی شود دل سوز تر
سازگار آید بشاخ و برگ و بر
تا کہ کم سوزی سے دل زیادہ سوز والا بن جائے اور یہ سوز شاخ اور پتوں اور پھل کے لیے سازگار ٹھہرے ۔
That the unardent heart may increase in ardour and become agreeable to branch, leaf and fruit.
از تب او در عروق لاله خون
آب جو از رقص او سیماب گون
اسکی تپش سے لالہ کے پھول کی رگوں میں خون ہے ندی اسکے رقص گردش سے پارے کی مانند بیقرار رہتی ہے ۔
Through its glow blood leaps in the tulip’s veins, its dance transmutes the stream to quicksilver.
همچنان از خاک خیزد جان پاک
سوی بی سوئی گریزد جان پاک
اسی طرح جان پاک بھی مٹی سے پیدا ہوتی ہے اور جانِ پاک لا مکاں کی طرف دوڑتی ہے ۔
Even so the pure spirit rises from the dust, the pure spirit flees towards whither towards is not;
در ره او مرگ و حشر و نشر و مرگ
جز تب و تابی ندارد ساز و برگ
جان پاک کی راہ میں موت، دوبارہ زندہ ہونا اور حشر و موت تب و تاب کے سوائے اور کوئی سامان نہیں رکھتے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
On that road are but death and resurrection, resurrection and death, no other provision save fever and glowing.
در فضائی صد سپهر نیلگون
غوطه پیهم خورده باز آید برون
وہ (جان پاک) سینکڑوں نیلے آسمانوں کی فضا میں پیہم غوطے لگا کر باہر آتی رہتی ہے ۔
Into that expanse of a hundred azure heavens plunging continually, it surges out anew;
خود حریم خویش و ابراهیم خویش
چون ذبیح الله در تسلیم خویش
یہ (جانِ پاک) آپ ہی اپنا کعبہ اور آپ ہی اپنا ابراہیم ہے اور ذبیح اللہ (حضرت اسماعیل) کی طرح خود ہی اپنے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے ۔
Itself its own sanctuary, its own Abraham, self-offering, like him who was sacrificed to God.
پیش او نه آسمان نه خیبر است
ضربت او از مقام حیدر است
اس کے سامنے یہ نو آسمان نو خیبر ہیں ۔ اس کا وار حیدر کے مقام سے ہے ۔
Before it the nine heavens are nine Khaibars, its smiling is of the stature of Haidar.
این ستیز دمبدم پاکش کند
محکم و سیار و چالاکش کند
یہ ہر لمحہ کی جنگ اسے پاک کر دیتی ہے اور اسے مضبوط متحرک اور مستعد بناتی ہے ۔
It is this incessant conflict that purifies the spirit, makes it firm, speedy, nimble,
می کند پرواز در پهنای نور
مخلبش گیرندهٔ جبریل و حور
وہ نور کی وسعتوں میں پرواز کرتی ہے ۔ اس کا پنجہ جبرئیل اور حور کو اپنی گرفت میں لینے والا بن جاتا ہے ۔
It spreads its wings in the broadness of light, its talons seize Gabriel and the houris,
تاز «ما زاغ البصر» گیرد نصیب
بر مقام «عبده» گردد رقیب
یہاں تک کہ وہ مازاغ البصر سے حصہ پا لیتی ہے اور عبدہ کے مقام کی نگران بن جاتی ہے ۔
That it may take its share in the eye swerved out and stand guardian in the ranks of God’s servants.
از مقام خود نمیدانم کجاست
این قدر دانم که از یاران جداست
میں نہیں جانتا کہ میرا مقام کہاں ہے ۔ اتنا جانتا ہوں کہ وہ دوستوں سے جدا ہے ۔
I do not know where my own station is, I only know that it is apart from all friends.
اندرونم جنگ بی خیل و سپه
بیند آنکو همچو من دارد نگه
میرے اندر فوج اور لشکر کے بغیر جنگ جاری رہتی ہے ۔ اسے وہی دیکھ سکتا ہے جو میری طرح صاحب نگاہ ہو ۔
Deep within me rages a war without horsemen and armies; he well descries it who has vision like me.
بیخبر مردان ز رزم کفر و دین
جان من تنها چو زین العابدین
لوگ کفر اور دین کے درمیان اس جنگ سے بے خبر ہیں ۔ میری جان زین العابدین کی طرح تنہا ہے ۔
Men are ignorant of the conflict between unbelief and faith, my soul is lonely, like Zain al-Abidin;
از مقام و راه کس آگاه نیست
جز نوای من چراغ راه نیست
(اس دور میں ) منزل اور راستے سے کوئی بھی شخص آگاہ نہیں ۔ میری شاعری کے سوا راستے کا اور کوئی چراغ نہیں ہے ۔
None is apprised of the station and the way, but for my song there is no lamp to light the path.
غرق دریا طفلک و برنا و پیر
جان بساحل برده یک مرد فقیر
جوان اور بوڑھے غفلت کے سمندر میں غرق ہیں ، صرف ایک مردِ فقیر (اقبال) جان بچا کر ساحل تک پہنچا ہے ۔ یعنی پوری قوم بری طرح غفلت کا شکار ہے ۔
Infant, youth, old man-all are drowned in the sea, only one poor soul has won his way to the shore.
بر کشیدم پرده های این وثاق
ترسم از وصل و بنالم از فراق
میں (اقبال) نے اس حریم کے غفلت کے مکان کے پردے ہٹا دیے ہیں ۔ میں وصل سے ڈرتا ہوں جبکہ ہجر میں آہ و زاری کرتا ہوں ۔
I have drawn aside the curtains of this tent; I am fearful of union, and lament for separation
وصل ار پایان شوق است الحذر
ای خنک آه و فغان بی اثر
اگر وصل سے شوق ختم ہو جائے تو خدا اس سے بچائے ۔ (اس سے بچو) وہ آ ہ و فغاں مبارک (بہتر) ہے جس کا کوئی اثر نہیں ہے ۔
If union be the end of yearning, beware; how blessed the sighs and vain lamentations!
راهرو از جاده کم گیرد سراغ
گر بجانش سازگار آید فراغ
راستہ چلنے والے کی جان کو اگر فراغت راس آ جائے تو وہ پھر راستے کا سراغ ہی نہیں لگاتا ۔
The wayfarer searches little for the high-road if to be carefree is congenial to his soul.
آن دلی دارم که از ذوق نظر
هر زمان خواهد جهانی تازه تر
میں وہ دل رکھتا ہوں یا میرے سینے میں ایک ایسا دل ہے جو ذوقِ نظر کے سبب ہر پل ایک نئی دنیا کی آرزو میں رہتا ہے ۔
My soul is such that, for the joy of gazing, it every moment desires a new world.
رومی از احوال جان من خبیر
گفت «می خواهی دگر عالم بگیر!
رومی نے جو میری جان کی کیفیات سے باخبر ہے کہا کیا تم کوئی اور جہان چاہتے ہو تو یہ لو ۔
Rumi, well aware of the states of my soul, said ‘Do you desire another world? Take it!
عشق شاطر ، ما بدستش مهره ایم
پیش بنگر در سواد زهره ایم»
عشق شطرنج کا کھلاڑی ہے اور ہم اس کے ہاتھ میں شطرنج کی گوٹ ہیں ۔ سامنے دیکھ اب ہم زہرہ کی حدود میں ہیں ۔
Love is cunning, and we are counters in his hand; look ahead-we are in the land of Venus.
عالمی از آب و خاک او را قوام
چون حرم اندر غلاف مشک فام
یہ ایسا جہان ہے جس کا خمیر پانی اور مٹی سے ہے ۔ کعبہ کی طرح یہ سیاہ رنگ کے غلاف میں ہے یعنی اس کی فضا تاریک ہے ۔
This world too subsists on water and clay, a sanctuary enveloped in purest musk;
با نگاه پرده سوز و پرده در
از درون میغ و ماغ او گذر
پردے کو جلا دینے والی اور پردہ ہٹا دینے والی نگاہ سے اس کی بادلوں اور دھند میں سے گزر جا ۔
With a glance that burns and rends all veils pass within its clouds and mists
اندرو بینی خدایان کهن
می شناسم من همه را تن بتن
وہاں تو پرانے خدایان باطل پائے گا ۔ میں ان میں سے ایک ایک کو خوب پہچانتا ہوں ۔
And you will see therein the ancient gods; I know them all, one by one;
بعل و مردوخ و یعوق و نسروفسر
رم خن و لات و منات و عسروغسر
یہ پرانے خدا (یا بت ) ان ناموں سے مشہور تھے، بعل ، مردوخ، یعوق، نسر، فسر، رم، خن، لات، منات عسر اور غسر
Baal, Marduk, Ya‘uq, Nasr, Fasr, Ramkhan, Lat, Manat, Asr, Ghasr;
بر قیام خویش می آرد دلیل
از مزاج این زمان بی خلیل»
یہ پرانے خدا اپنے زندہ ہونے پر آج کے دور کے مزاج کی دلیل لاتے ہیں جو ابراہیم جیسے بت شکن سے خالی ہے ۔ مطلب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی طرح تو دریائے نیل سے گزر جا اور خلیل کی طرح آگ کی طرف قدم بڑھا ۔
Every one of them offers proof of its immortality in the temper of this age that knows no Abraham.’