صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک زحل
  4. »بخش 2 - قلزم خونین

بخش 2 - قلزم خونین

خونیں سمندر

The Bloody Sea

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

آنچه دیدم می نگنجد در بیان

تن ز سهمش بیخبر گردد ز جان

میں نے جو کچھ وہاں دیکھا وہ بیان میں نہیں سما سکتا ۔ جسم اس کے خوف سے جان ہی سے بے خبر ہو جاتا ہے ۔

What I beheld was indescribable; body by terror was dissundered from soul.

2

من چه دیدم قلزمی دیدم ز خون

قلزمی ، طوفان برون ، طوفان درون

میں نے وہاں دیکھا، ایک خون سے بھرا ہوا سمندر تھا ۔ جس کے باہر اور اندر طوفان ہی طوفان تھے (طوفان اٹھ رہے تھے) ۔

What met my eyes? A sea of blood I viewed tempest-torn outwardly and inwardly;

3

در هوا ماران چو در قلزم نهنگ

کفچه شبگون بال و پر سیماب رنگ

اس کی فضا میں ایسے سانپ جس طرح سمندر میں مگر مچھ ہوتے ہیں ۔ ان کے پھن رات کی طرح سیاہ اور بال و پر پارے کی طرح سفید تھے ۔

The air swarmed with snakes, as with sharks the sea, their hoods black as night, their pinions quicksilver;

4

موجها درنده مانند پلنگ

از نهیبش مرده بر ساحل نهنگ

اس کی موجیں چیتوں کی طرح چیرنے اور پھاڑنے والی تھیں ۔ اس کے خوف سے مگر مچھ ساحل پر مردہ پڑے تھے ۔

Billows roaring and rending like panthers so that the sharks in terror of them lay dead on the shore.

5

بحر ساحل را امان یک دم نداد

هر زمان که پاره ئی در خون فتاد

یہ سمندر، ساحل کو ایک پل کے لیے بھی آرام نہیں لینے دیتا تھا، (وہاں ایک پل بھی سکون نہ تھا ) کیونکہ ہر لمحے اس سمندر کے اندر پہاڑ کی چٹانیں خون میں گر رہی تھیں ۔

The sea gave the shore not one moment’s respite; every instant mountain-blocks fell crashing in blood.

6

موج خون با موج خون اندر ستیز

درمیانش زورقی در افت و خیز

اس سمندر کی خونیں موجیں آپس میں برسر پیکار تھی ۔ ان کے درمیان ایک کشتی تھی جو کبھی ڈوبتی اور کبھی تیرتی تھی ۔

Bloody wave fought with wave of blood, whilst in their midst a skiff tossed up and down;

7

اندر آن زورق دو مرد زرد روی

زرد رو عریان بدن آشفته موی

اس کشتی میں زرد چہروں والے دو آدمی (خبیث غدار) بیٹھے ہوئے تھے جن کے چہرے زرد تھے اور بدن ننگے تھے اور بال بکھرے ہوئے تھے ۔

In that skiff were two men pale of cheek, pale of cheek, naked, with hair dishevelled.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیر رومی آن امام راستان

آشنای هر مقام راستان

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زحل»بخش 1 - ارواح رذیله که با ملک و ملت غداری کرده و دوزخ ایشان را قبول نکرده

اگلی نظم

آسمان شق گشت و حوری پاک زاد

پرده را از چهره خود بر گشاد

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زحل»بخش 3 - آشکارا می‌شود روح هندوستان

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور