خونیں سمندر
The Bloody Sea
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
آنچه دیدم می نگنجد در بیان
تن ز سهمش بیخبر گردد ز جان
میں نے جو کچھ وہاں دیکھا وہ بیان میں نہیں سما سکتا ۔ جسم اس کے خوف سے جان ہی سے بے خبر ہو جاتا ہے ۔
What I beheld was indescribable; body by terror was dissundered from soul.
من چه دیدم قلزمی دیدم ز خون
قلزمی ، طوفان برون ، طوفان درون
میں نے وہاں دیکھا، ایک خون سے بھرا ہوا سمندر تھا ۔ جس کے باہر اور اندر طوفان ہی طوفان تھے (طوفان اٹھ رہے تھے) ۔
What met my eyes? A sea of blood I viewed tempest-torn outwardly and inwardly;
در هوا ماران چو در قلزم نهنگ
کفچه شبگون بال و پر سیماب رنگ
اس کی فضا میں ایسے سانپ جس طرح سمندر میں مگر مچھ ہوتے ہیں ۔ ان کے پھن رات کی طرح سیاہ اور بال و پر پارے کی طرح سفید تھے ۔
The air swarmed with snakes, as with sharks the sea, their hoods black as night, their pinions quicksilver;
موجها درنده مانند پلنگ
از نهیبش مرده بر ساحل نهنگ
اس کی موجیں چیتوں کی طرح چیرنے اور پھاڑنے والی تھیں ۔ اس کے خوف سے مگر مچھ ساحل پر مردہ پڑے تھے ۔
Billows roaring and rending like panthers so that the sharks in terror of them lay dead on the shore.
بحر ساحل را امان یک دم نداد
هر زمان که پاره ئی در خون فتاد
یہ سمندر، ساحل کو ایک پل کے لیے بھی آرام نہیں لینے دیتا تھا، (وہاں ایک پل بھی سکون نہ تھا ) کیونکہ ہر لمحے اس سمندر کے اندر پہاڑ کی چٹانیں خون میں گر رہی تھیں ۔
The sea gave the shore not one moment’s respite; every instant mountain-blocks fell crashing in blood.
موج خون با موج خون اندر ستیز
درمیانش زورقی در افت و خیز
اس سمندر کی خونیں موجیں آپس میں برسر پیکار تھی ۔ ان کے درمیان ایک کشتی تھی جو کبھی ڈوبتی اور کبھی تیرتی تھی ۔
Bloody wave fought with wave of blood, whilst in their midst a skiff tossed up and down;
اندر آن زورق دو مرد زرد روی
زرد رو عریان بدن آشفته موی
اس کشتی میں زرد چہروں والے دو آدمی (خبیث غدار) بیٹھے ہوئے تھے جن کے چہرے زرد تھے اور بدن ننگے تھے اور بال بکھرے ہوئے تھے ۔
In that skiff were two men pale of cheek, pale of cheek, naked, with hair dishevelled.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور