روح ہندوستان ظاہر ہوتی ہے
The Spirit of India Appears
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
آسمان شق گشت و حوری پاک زاد
پرده را از چهره خود بر گشاد
آسمان پھٹ گیا اور ایک پاکیزہ حور نے اپنے چہرے سے پردہ اٹھایا ۔
A Houri descended from heavens and she removed niqaab from her face.
در جبینش نار و نور لایزال
در دو چشم او سرور لایزال
اس کی پیشانی میں لافانی نور اور روشنی تھی اس کی آنکھوں میں ہمیشہ قائم رہنے والا سرور تھا ۔
She had ever-lasting shine on her forehead and her two eyes had bright with ecstasy.
حله ئی در بر سبکتر از سحاب
تار و پودش از رگ برگ گلاب
اس کا لباس بادل سے بھی زیادہ ہلکا تھا ۔ لباس کا تانا بانا گلاب کی پتیوں کے ریشے سے بنا ہوا تھا ۔
Her dress was lighter than thin cloud which was woven of threads made of rose-petals.
با چنین خوبی نصبیش طوق و بند
بر لب او ناله های درد مند
اس خوبی کے باوجود اس کی قسمت میں قید و بند (غلامی) تھی ، اس کے ہونٹوں پر درد بھرے نالے تھے ۔
With such loveliness, her portion was collar and chain; on her lips were sorrowful laments.
گفت رومی «روح هند است این نگر
از فغانش سوزها اندر نگر»
مطلب (اسے دیکھ کر ) رومی نے زندہ رود سے کہا کہ دیکھ یہ ہندوستان کی روح ہے، اس کی آہ و فغاں سن کر جگر میں کئی سوز پیدا ہو رہے ہیں ۔ (جگر پھٹا جا رہا ہے ) ۔
Rumi said this is the spirit of India; its cries tear apart the heart of the listener.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور