روح ہندوستان نالہ و فریاد کرتی ہے
The Spirit of India Laments and Cries Out
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
شمع جان افسرد در فانوس هند
هندیان بیگانه از ناموس هند
ہندوستان کے فانوس میں جان کی شمع بجھ گئی ہے، اہلِ ہند ہندوستان کی عزت و ناموس سے بیگانہ ہو گئے ہیں ۔
Indian chandelier has no candle alight; Indians care no more for their honour.
مردک نامحرم از اسرار خویش
زخمهٔ خود کم زند بر تار خویش
ایک چھوٹا یا حقیر آدمی جو اپنے اسرار سے آگاہ نہیں ہے وہ اپنے ساز کے تاروں پر مضراب نہیں لگاتا ۔
One who is unaware of his potentials seldom tries to exploit those to their optimum 9the poet has said it equating him with a musical instrument).
بر زمان رفته می بندد نظر
از تش افسرده میسوزد جگر
یہاں کا آدمی ماضی پر نظر رکھے ہوئے ہے، اس کا جگر بجھی ہوئی آگ سے جلتا رہتا ہے ۔
He always lives in the past; his heart burns over that has gone-by (lacks in endeavours to improve his present and the future).
بند ها بر دست و پای من ازوست
ناله های نارسای من ازوست
ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے میرے ہاتھوں اور پاؤں میں زنجیریں ہیں اور میرے بے اثر نالے بھی انہیں کی وجہ سے ہیں ۔
Because of such people my hands and feet are tied and my request goes unheard.
خویشتن را از خودی پرداخته
از رسوم کهنه زندان ساخته
وہ اپنی خودی سے بے خبر ہو گیا ہے، اس نے اپنے گرد پرانی رسموں کا قید خانہ بنا رکھا ہے ۔
They have surrendered their self-respect and ego; they have built a prison of rudundent customs around themselves.
آدمیت از وجودش دردمند
عصر نو از پاک و ناپاکش نژند
اس کے وجود سے آدمیت دکھ درد میں مبتلا ہے، جدید دور اس کے پاک اور ناپاک عقیدوں کی وجہ سے ذلیل و خوار ہے ۔
Humanity is pains because of them and contemporary world is in agony due the standards it has set for determining sacred and evil.
بگذر از فقری که عریانی دهد
ای خنک فقری که سلطانی دهد
تو ایسے فقر سے دور رہ جو عریانی دیتا ہے، فقر مبارک وہ ہے جو سلطانی دیتا ہے ۔
Give up that faqr which gives nakedness and blessed is the faqr that bestows upon a crown (comparison of Hindu and Muslim concepts of faqr).
الحذر از جبر و هم از خوی صبر
صابر و مجبور را زهر است جبر
تو جبر سے بچ اور صبر کی عادت سے بھی بچ ۔ جابر اور مجبور دونوں کے لیے جبر زہر ہے ۔
God may save from oppression and also from the habit of tolerating oppression without protest; oppression, is poison both for the oppressor and the oppressed.
این به صبر پیهمی خوگر شود
آن به جبر پیهمی خوگر شود
یہ (صابر) مسلسل صبر کا عادی بن جاتا ہے اور وہ یعنی جابر (ظالم) مسلسل جبر کرنے کا عادی بن جاتا ہے ۔
The oppressed gets used to it by tolerating it constantly and oppressor becomes habitual by perpetrating it unchecked.
هر دو را ذوق ستم گردد فزون
ورد من «یالیت قومی یعلمون»
دونوں میں (جابر اور مجبور میں ) ظلم کا ذوق بڑھ جاتا ہے (جابر میں ظلم کرنے کا اور مجبور میں ظلم سہنے کا ذوق بڑھ جاتا ہے ) میری زبان پر یالیت قومی یعلمون (اے کاش میری قوم اس نکتے کو جانتی ) کا ورد رہتا ہے ۔
This attitude of the oppressed and the oppressors results in flourishing of the oppression; I pray that my nation comprehends this simple poit.
کی شب هندوستان آید بروز
مرد جعفر ، زنده روح او هنوز
ہندوستان کی رات کیسے دن میں بدل سکتی ہے، اگرچہ جعفر مر گیا لیکن اس کی روح ابھی تک زندہ ہے (یعنی آج بھی غدار موجود ہیں ) ۔
How can the dark night of India turns into bright day; though Ja’afar (traitor) is dead but his spirit still haunts India.
تا ز قید یک بدن وا می رهد
آشیان اندر تن دیگر نهد
جب یہ غدار روح ایک جسم کی قید سے رہائی پاتی ہے تو پھر کسی دوسرے بدن میں اپنا ٹھکانا بنا لیتی ہے ۔
When this spirit (of traitor) gets free from a one person’s body it enters into another and makes it its abode.
گاه او را با کلیسا ساز باز
گاه پیش دیریان اندر نیاز
کبھی تو وہ عیسائی یا انگریز حکمرانوں سے سازباز کرتی ہے اور کبھی بت پرستوں سے نیازمندی کا مظاہرہ کرتی ہے ۔
At times it conspires in connivance with Christianity and at times shows gratitude to idol-worshipers (with reference to Muslim traitors of The Subcontinent).
دین او آئین او سوداگری است
عنتری اندر لباس حیدری است
اس کا دین و آئین سوداگری ہے، یہ گویا حیدری لباس میں عنتری ہے ۔
His beliefs and practices are mere commercial in nature; he is Antari dressed like Haidar (R.A.)
تا جهان رنگ و بو گردد دگر
رسم او آئین او گردد دگر
جب رنگ و بو کی دنیا بدل جاتی ہے تو ان غداروں کے رسم و آئین بھی بدل جاتے ہیں ۔
When there is change (of rulers) in the world, they also change (their loyalties).
پیش ازین چیزی دگر مسجود او
در زمان ما وطن معبود او
اس سے پہلے ان کا مسجود کوئی اور تھا جبکہ ہمارے زمانے میں وطن اس کا معبود ہے ۔
In the past they worshipped something else; today they worship watan (homeland).
ظاهر او از غم دین دردمند
باطنش چون دیریان زنار بند
ان کا ظاہر دین کے غم سے دردمند ہے جبکہ اس کا باطن بت پرستوں کی طرح زنار پہنے ہوئے ہے ۔
Overtly they are passionate about every religion but covertly they are simply non-believers.
جعفر اندر هر بدن ملت کش است
این مسلمانی کهن ملت کش است
جعفر (یعنی غدار) کی روح کسی بھی بدن میں آ جائے وہ شخص ملت کش (ملت کو مارنے والا) ہی ہوتا ہے ۔ ایسا نام نہاد مسلمان پرانا ملت کش ہے ۔
Spirit of Ja’afar in the body of any person is an enemy of Millat; such a Muslim is the killer of the Millat.
خند خندان است و با کس یار نیست
مار اگر خندان شود جز مار نیست
وہ غدار ہر وقت مسکراتا رہتا ہے لیکن وہ کسی کا دوست نہیں ہے ، اس لیے کہ سانپ اگر ہنستا مسکراتا ہے تو بھی وہ سانپ ہی رہے گا ۔
Traitar has apprarently cordial relations with everyone, but he is friend of none; a snake, even when smiling, remains a snake.
از نفاقش وحدت قومی دونیم
ملت او از وجود او لیم
اس کے نفاق سے ملت کی وحدت دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور اس کا وجود ملت کو ذلیل کر دیتا ہے ۔
Because of his conspiring mischief the millat is shattered into splinters; his existence degrades a nation.
ملتی را هر کجا غارتگری است
اصل او از صادقی یا جعفری است
جہاں کہیں بھی کسی ملت کا کوئی غارت گر ہے، اس کی اصل کسی صادق یا کسی جعفر سے ہے ۔
Wherever a nation has been doomed that has been because of a Sadiq or a Ja’afar (traitors).
الامان از روح جعفر الامان
الامان از جعفران این زمان
اللہ تعالیٰ جعفر کی روح سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آج کے دور کے جعفروں سے خدا کی پناہ ہے ۔
God may save from the evil spirit of Ja’afar (traitor); especially from contemporary traitors.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور