صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک زحل
  4. »بخش 4 - روح هندوستان ناله و فریاد می‌کند

بخش 4 - روح هندوستان ناله و فریاد می‌کند

روح ہندوستان نالہ و فریاد کرتی ہے

The Spirit of India Laments and Cries Out

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

شمع جان افسرد در فانوس هند

هندیان بیگانه از ناموس هند

ہندوستان کے فانوس میں جان کی شمع بجھ گئی ہے، اہلِ ہند ہندوستان کی عزت و ناموس سے بیگانہ ہو گئے ہیں ۔

Indian chandelier has no candle alight; Indians care no more for their honour.

22

مردک نامحرم از اسرار خویش

زخمهٔ خود کم زند بر تار خویش

ایک چھوٹا یا حقیر آدمی جو اپنے اسرار سے آگاہ نہیں ہے وہ اپنے ساز کے تاروں پر مضراب نہیں لگاتا ۔

One who is unaware of his potentials seldom tries to exploit those to their optimum 9the poet has said it equating him with a musical instrument).

33

بر زمان رفته می بندد نظر

از تش افسرده میسوزد جگر

یہاں کا آدمی ماضی پر نظر رکھے ہوئے ہے، اس کا جگر بجھی ہوئی آگ سے جلتا رہتا ہے ۔

He always lives in the past; his heart burns over that has gone-by (lacks in endeavours to improve his present and the future).

44

بند ها بر دست و پای من ازوست

ناله های نارسای من ازوست

ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے میرے ہاتھوں اور پاؤں میں زنجیریں ہیں اور میرے بے اثر نالے بھی انہیں کی وجہ سے ہیں ۔

Because of such people my hands and feet are tied and my request goes unheard.

55

خویشتن را از خودی پرداخته

از رسوم کهنه زندان ساخته

وہ اپنی خودی سے بے خبر ہو گیا ہے، اس نے اپنے گرد پرانی رسموں کا قید خانہ بنا رکھا ہے ۔

They have surrendered their self-respect and ego; they have built a prison of rudundent customs around themselves.

66

آدمیت از وجودش دردمند

عصر نو از پاک و ناپاکش نژند

اس کے وجود سے آدمیت دکھ درد میں مبتلا ہے، جدید دور اس کے پاک اور ناپاک عقیدوں کی وجہ سے ذلیل و خوار ہے ۔

Humanity is pains because of them and contemporary world is in agony due the standards it has set for determining sacred and evil.

77

بگذر از فقری که عریانی دهد

ای خنک فقری که سلطانی دهد

تو ایسے فقر سے دور رہ جو عریانی دیتا ہے، فقر مبارک وہ ہے جو سلطانی دیتا ہے ۔

Give up that faqr which gives nakedness and blessed is the faqr that bestows upon a crown (comparison of Hindu and Muslim concepts of faqr).

88

الحذر از جبر و هم از خوی صبر

صابر و مجبور را زهر است جبر

تو جبر سے بچ اور صبر کی عادت سے بھی بچ ۔ جابر اور مجبور دونوں کے لیے جبر زہر ہے ۔

God may save from oppression and also from the habit of tolerating oppression without protest; oppression, is poison both for the oppressor and the oppressed.

99

این به صبر پیهمی خوگر شود

آن به جبر پیهمی خوگر شود

یہ (صابر) مسلسل صبر کا عادی بن جاتا ہے اور وہ یعنی جابر (ظالم) مسلسل جبر کرنے کا عادی بن جاتا ہے ۔

The oppressed gets used to it by tolerating it constantly and oppressor becomes habitual by perpetrating it unchecked.

1010

هر دو را ذوق ستم گردد فزون

ورد من «یالیت قومی یعلمون»

دونوں میں (جابر اور مجبور میں ) ظلم کا ذوق بڑھ جاتا ہے (جابر میں ظلم کرنے کا اور مجبور میں ظلم سہنے کا ذوق بڑھ جاتا ہے ) میری زبان پر یالیت قومی یعلمون (اے کاش میری قوم اس نکتے کو جانتی ) کا ورد رہتا ہے ۔

This attitude of the oppressed and the oppressors results in flourishing of the oppression; I pray that my nation comprehends this simple poit.

1111

کی شب هندوستان آید بروز

مرد جعفر ، زنده روح او هنوز

ہندوستان کی رات کیسے دن میں بدل سکتی ہے، اگرچہ جعفر مر گیا لیکن اس کی روح ابھی تک زندہ ہے (یعنی آج بھی غدار موجود ہیں ) ۔

How can the dark night of India turns into bright day; though Ja’afar (traitor) is dead but his spirit still haunts India.

1212

تا ز قید یک بدن وا می رهد

آشیان اندر تن دیگر نهد

جب یہ غدار روح ایک جسم کی قید سے رہائی پاتی ہے تو پھر کسی دوسرے بدن میں اپنا ٹھکانا بنا لیتی ہے ۔

When this spirit (of traitor) gets free from a one person’s body it enters into another and makes it its abode.

1313

گاه او را با کلیسا ساز باز

گاه پیش دیریان اندر نیاز

کبھی تو وہ عیسائی یا انگریز حکمرانوں سے سازباز کرتی ہے اور کبھی بت پرستوں سے نیازمندی کا مظاہرہ کرتی ہے ۔

At times it conspires in connivance with Christianity and at times shows gratitude to idol-worshipers (with reference to Muslim traitors of The Subcontinent).

1414

دین او آئین او سوداگری است

عنتری اندر لباس حیدری است

اس کا دین و آئین سوداگری ہے، یہ گویا حیدری لباس میں عنتری ہے ۔

His beliefs and practices are mere commercial in nature; he is Antari dressed like Haidar (R.A.)

1515

تا جهان رنگ و بو گردد دگر

رسم او آئین او گردد دگر

جب رنگ و بو کی دنیا بدل جاتی ہے تو ان غداروں کے رسم و آئین بھی بدل جاتے ہیں ۔

When there is change (of rulers) in the world, they also change (their loyalties).

1616

پیش ازین چیزی دگر مسجود او

در زمان ما وطن معبود او

اس سے پہلے ان کا مسجود کوئی اور تھا جبکہ ہمارے زمانے میں وطن اس کا معبود ہے ۔

In the past they worshipped something else; today they worship watan (homeland).

1717

ظاهر او از غم دین دردمند

باطنش چون دیریان زنار بند

ان کا ظاہر دین کے غم سے دردمند ہے جبکہ اس کا باطن بت پرستوں کی طرح زنار پہنے ہوئے ہے ۔

Overtly they are passionate about every religion but covertly they are simply non-believers.

1818

جعفر اندر هر بدن ملت کش است

این مسلمانی کهن ملت کش است

جعفر (یعنی غدار) کی روح کسی بھی بدن میں آ جائے وہ شخص ملت کش (ملت کو مارنے والا) ہی ہوتا ہے ۔ ایسا نام نہاد مسلمان پرانا ملت کش ہے ۔

Spirit of Ja’afar in the body of any person is an enemy of Millat; such a Muslim is the killer of the Millat.

1919

خند خندان است و با کس یار نیست

مار اگر خندان شود جز مار نیست

وہ غدار ہر وقت مسکراتا رہتا ہے لیکن وہ کسی کا دوست نہیں ہے ، اس لیے کہ سانپ اگر ہنستا مسکراتا ہے تو بھی وہ سانپ ہی رہے گا ۔

Traitar has apprarently cordial relations with everyone, but he is friend of none; a snake, even when smiling, remains a snake.

2020

از نفاقش وحدت قومی دونیم

ملت او از وجود او لیم

اس کے نفاق سے ملت کی وحدت دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور اس کا وجود ملت کو ذلیل کر دیتا ہے ۔

Because of his conspiring mischief the millat is shattered into splinters; his existence degrades a nation.

2121

ملتی را هر کجا غارتگری است

اصل او از صادقی یا جعفری است

جہاں کہیں بھی کسی ملت کا کوئی غارت گر ہے، اس کی اصل کسی صادق یا کسی جعفر سے ہے ۔

Wherever a nation has been doomed that has been because of a Sadiq or a Ja’afar (traitors).

2222

الامان از روح جعفر الامان

الامان از جعفران این زمان

اللہ تعالیٰ جعفر کی روح سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آج کے دور کے جعفروں سے خدا کی پناہ ہے ۔

God may save from the evil spirit of Ja’afar (traitor); especially from contemporary traitors.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آسمان شق گشت و حوری پاک زاد

پرده را از چهره خود بر گشاد

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زحل»بخش 3 - آشکارا می‌شود روح هندوستان

اگلی نظم

«نی عدم ما را پذیرد نی وجود

وای از بی مهری بود و نبود

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زحل»بخش 5 - فریاد یکی از زورق‌نشینان قلزم خونین

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور