صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک زحل
  4. »بخش 5 - فریاد یکی از زورق‌نشینان قلزم خونین

بخش 5 - فریاد یکی از زورق‌نشینان قلزم خونین

خونیں سمندر کے اندر کشتی میں سوار غداروں میں سے ایک کی فریاد

The Cry of One of the Boatmen on the Bloody Sea

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

«نی عدم ما را پذیرد نی وجود

وای از بی مهری بود و نبود

ہم (غداروں ) کو نہ تو عدم قبول کرتا ہے اور نہ ہی وجود ، وجود اور عدم کی بے مہری پر افسوس ہے ۔

Do no repent over being or not-being; to us neither the past is acceptable nor the present.

22

تا گذشتیم از جهان شرق و غرب

بر در دوزخ شدیم از درد و کرب

جب ہم مشرق و مغرب کی دنیا سے گزر گئے (ہم مر گئے) اور بڑے دکھ درد کے ساتھ دوزخ کے دروازے پر پہنچے ۔

When after leaving the East and West we reached the door of Hell (it then);

33

یک شرر بر صادق و جعفر نزد

بر سر ما مشت خاکستر نزد

تو اس (دوزخ) نے بھی جعفر اور صادق (غداروں ) پر ایک چنگاری تک نہ پھینکی اور ہمارے سر پر خاک کی مٹھی ڈالنا بھی پسند نہ کیا ۔

Did not throw a flame of fire at Sadiq and Ja’afer; or threw a handful of its ash on us.

44

گفت دوزخ را خس و خاشاک به

شعلهٔ من زین دو کافر پاک به

دوزخ نے کہا کہ تم سے تو خس و خاشاک بہتر ہیں ، ان دو کافروں سے میں اپنی چنگاری پاک رکھنا چاہتی ہوں ۔

The Hell said the straw blades are worthier than you; I want to keep my flames cleans of infidels like you.

55

آنسوی نه آسمان رفتیم ما

پیش مرگ ناگهان رفتیم ما

ہم نو آسمانوں کے اس پار گئے اور وہاں اچانک آنے والی موت کے پاس پہنچے ۔

Then we reached the ‘sudden death’ on the other side of the sky.

66

گفت «جان سری ز اسرار من است

حفظ جان و هدم تن کار من است

تواس نے کہا کہ جان میرے رازوں میں سے ایک راز ہے، جان کی حفاظت کرنا اور جسم کو مٹانا میرا کام ہے ۔

The death said the life itself is one of my secrets; my responsibility is to cause death of body and protect the spirit (the body of a traitor is spiritless).

77

جان زشتی گرچه نرزد با دو جو

ایکه از من هدم جان خواهی برو

اگرچہ ایک بری جان کی قدروقیمت دو جو کے بھی برابر نہیں ہے تاہم تو جو (تم غدار جو) مجھ سے جان ختم کرنے کی خواہش کرتا ہے تو یہاں سے دور ہو جاوَ ۔

An evil spirit is not worth the two grains of barley; do you (Jaafar and Sadiq) seek death from me! Go away!

88

اینچنین کاری نمی آید ز مرگ

جان غداری نیاساید ز مرگ»

موت یہ کام نہیں کر سکتی، غدار کی جان موت سے سکون نہیں پا سکتی ۔

Death cannot do that; traitors spirit cannot have solitude even with the death.

99

ای هوای تند ای دریای خون

ای زمین ای آسمان نیلگون

اے ہوائے تند اے دریاے خون، اے زمین اور اے نیلے آسمان ۔

O stormy wind! O river (full) of blood! O Earth! O blue sky!

1010

ای نجوم ای ماهتاب ای آفتاب

ای قلم ای لوح محفوظ ای کتاب

اے ستارو اے چاند اور اے سورج، اے قلم، اے لوح محفوظ اور اے کتاب ۔

O stars! O full moon! O sun! O Pen! O the Protected Holy Script! O Kitab (Qur’an)!

1111

ای بتان ابیض ای لردان غرب

ای جهانی ، در بغل بی حرب و ضرب

ا ے سفید بتو یعنی مغرب کے امرا و روسا اے وہ کہ تم نے ایک دنیا کو کسی جنگ و جدل کے بغیر اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے ۔

O Whiteman! O lords of the West! You who have conquered many lands without fighting a battle.

1212

این جهان بی ابتدا بی انتهاست

بندهٔ غدار را مولا کجاست»

یہ جہا ن بے ابتدا بھی ہے اور بے انتہا بھی (بے حد وسیع ہے) اس میں ایک غدار بندے کا آقا و مولا یا سرپرست کہاں ہے

Tell us where can we find the patron of traitors.

1313

ناگهان آمد صدای هولناک

سینهٔ صحرا و دریا چاک چاک

اچانک ایک بھیانک آواز سنائی دی جس سے صحرا اور سمندر کا سینہ پھٹ کے رہ گیا ۔

Suddenly, a scaring thunder fell upon that split the desert and the sea into pieces.

1414

ربط اقلیم بدن از هم گسیخت

دمبدم که پاره بر که پاره ریخت

اس آواز سے جسم کی سلطنت کے باہمی ربط ٹوٹ کر رہ گئے (بدن کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے ) اور مسلسل چٹان پر چٹان گرنے لگی ۔

Body limbs limped because of that; the rocks started falling on each other continuously.

1515

کوهها مثل سحاب اندر مرور

انهدام عالمی بی بانگ صور

پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگے اور صور (وہ صور جو قیامت کے روز اسرافیل پھونکے گا ) کی آواز کے بغیر ہی جہان تہ و بالا ہونے لگا ۔

Mountains started floating like clouds; the universe was turned upside down without blowing of Soor.

1616

برق و تندر از تب و تاب درون

آشیان جستند اندر بحر خون

آسمانی بجلی اور کڑک (بادل کی گرج، رعد) اپنی اندرونی چمک دمک کی بنا پر خون کے سمندر میں اپنا آشیانہ تلاش کرنے لگی (امان ڈھونڈنے لگی ) ۔

Because of the heat even lightening and the thunder started looking for refuge in the river of the blood.

1717

موجها پر شور و از خود رفته تر

غرق خون گردید آن کوه و کمر

سمندر کی موجیں پرشور اور بے قابو ہو رہی تھیں ، وہاں کے پہار اور گھاٹیاں خون میں ڈوب گئیں ۔

Noisy waves started ragging and inundaunted the vallies and the mountains.

1818

آنچه بر پیدا و ناپیدا گذشت

خیل انجم دید و بی پروا گذشت

وہاں جو کچھ ظاہر اور باطن پر گزرا اسے ستاروں کے لشکر نے دیکھا اور بے پروا ہو کر وہاں سے گزر گیا ۔

The stars watched all that happerned to being and not-being and passed by unconcerned.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شمع جان افسرد در فانوس هند

هندیان بیگانه از ناموس هند

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زحل»بخش 4 - روح هندوستان ناله و فریاد می‌کند

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور