صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک زحل
  4. »بخش 1 - ارواح رذیله که با ملک و ملت غداری کرده و دوزخ ایشان را قبول نکرده

بخش 1 - ارواح رذیله که با ملک و ملت غداری کرده و دوزخ ایشان را قبول نکرده

ارواح رذیلہ جنہوں نے ملک و ملت سے غداری کی اور انہیں دوزخ نے بھی قبول نہ کیا

The Base Spirits Who Betrayed Country and Nation, and Whom Hell Would Not Accept

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

پیر رومی آن امام راستان

آشنای هر مقام راستان

پیر رومی جو راہِ راست پر چلنے والوں کے پیشوا اور جوان کے ہر مقام سے آگاہ ہیں ۔

The Sage of Rum, leader of the righteous, familiar with all the stages of the righteous;

2

گفت ای گردون نورد سخت کوش

دیده ئی آن عالم زنار پوش

مجھ (زندہ رود) سے کہنے لگے کہ اے آسمانوں کی سیر کرنے والے سخت جان مسافر، کیا تو وہ زنار پوش جہان جو سامنے ہے کو دیکھ رہا ہے یہ غداروں کی روح کا ٹھکانا ہے اس لیے زنارپوش کہا، زنار ہندووَں کا مقدس دھاگا) ۔

Spoke: ‘Hard-toiling traveller of the heavens, do you see yonder world that wears a girdle?

3

آنچه بر گرد کمر پیچیده است

از دم استاره ئی دزدیده است

اس نے اپنی کمر کے گرد جو جنیو (زنار) لپیٹ رکھا ہے وہ اس نے ایک (دم دار) ستارے کی دم سے چرایا ہے ۔

That which it has twisted around its waist it stole from the tail of a star.

4

از گران سیری خرام او سکون

هر نکو از حکم او زشت و زبون

اس سیارہ کا سست رفتاری کی وجہ سے چلنا بھی اس کے ٹھہراوَ ہی کی صورت نظر آتا ہے ۔ اس کے حکم سے ہر نیکی، برائی اور ذلت بن جاتی ہے ۔

So heavy of pace it is, its motion seems stationary; under its rule, every good is turned to evil and base.

5

پیکر او گرچه از آب و گل است

بر زمینش پا نهادن مشکل است

اگرچہ اس جہان کا ڈھانچہ (پیکر) پانی اور مٹی سے ہے لیکن اس کی زمین پر پاؤں رکھنا مشکل ہے ۔

Though its form is fashioned of water and clay it is difficult to set foot on its soil.

6

صد هزار افرشتهٔ تندر بدست

قهر حق را قاسم از روز الست

ہزاروں فرشتے روزِ آفرینش ہی سے ہاتھوں میں بجلی کے کوڑے لیے خدا کا قہر نازل کر رہے ہیں ۔

A myriad angels, thunder in hand, dispensing God’s wrath since the Day of Alast;

7

دره پیهم می زند سیاره را

از مدارش بر کند سیاره را

یہ فرشتے سیارے پر مسلسل (پیہم) درے مارتے رہتے ہیں ، اور سیارہ کو اس کے مدار سے اکھاڑ ڈالتے ہیں ۔

Continually castigate the planet and dislodge it from its pivot.

8

عالمی مطرود و مردود سپهر

صبح او مانند شام از بخل مهر

وہ (فلک زحل) آسمان کا ایک دھتکارا ہوا اور رد کیا ہوا جہان تھا ۔ سورج کی کنجوسی یعنی روشنی نہ دینے کے باعث وہاں کی صبح بھی شام کی مانند تھی ۔

A world rejected and repelled by heaven; Its morn is as evening, the sun is so grudging.

9

منزل ارواح بی یوم النشور

دوزخ از احراقشان آمد نفور

یہ ان روحوں کا ٹھکانا تھا جن کے لیے روزِ قیامت بھی نہیں ہے ۔ ان کی اس غداری کے باعث دوزخ بھی انہیں جلانے کے لیے قبول نہیں کر رہی ۔ یہ روحیں انتہائی قابل نفرت تھیں ۔

It is the lodging-place of spirits that shall know no resurrection; which Hell itself shrank from burning:

10

اندرون او دو طاغوت کهن

روح قومی کشته از بهر دو تن

ان روحوں میں دو پرانے شیطان (غدار) تھے جنھوں نے اپنے دو جسموں کی خاطر ایک قوم کی روح مار ڈالی تھی ۔

Therein live two ancient demons who slew a people’s soul to save their skins,

11

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگ آدم ، ننگ دین ، ننگ وطن

بنگال کا میر جعفر اور دکن کا صادق، یہ دونوں (غدار ، شیطان) انسانیت، دین (مذہب) اور وطن کے لیے باعث شرم تھے ۔

Jaafar of Bengal and Sadiq of Deccan, shame to mankind, religion and fatherland,

12

نا قبول و ناامید و نامراد

ملتی از کارشان اندر فساد

یہ دونوں ناقبول اور نا امید اور نامراد رہے ۔ ان کی غداری سے ملت (قوم) فساد کی نذر ہو گئی ۔

Unaccepted, despairing, undesired, a nation ruined by their handiwork.

13

ملتی کو بند هر ملت گشاد

ملک و دینش از مقام خود فتاد

وہ ملت اسلامیہ جس نے ہر محکوم قوم کی غلامی کی زنجیر کھولی تھی، اس کا اپنا ملک اور دین اپنے بلند مقام و مرتبہ سے نیچے گر گیا ۔

A nation, which had loosed the bonds of every nation, thus lost its high sovereignty and its faith.

14

می ندانی خطهٔ هندوستان

آن عزیز خاطر صاحبدلان

کیا تو نہیں جانتا کہ ہندوستان کا خطہ اہل دل حضرات کو دلی طور پر عزیز، محبوب پیارا ہے ۔

Do you not know that the land of India, dear to the heart of every sensitive soul,

15

خطه ای هر جلوه اش گیتی فروز

در میان خاک و خون غلطد هنوز

جس کا ہر پہلو دنیا کو روشن کرنے والا ہے ۔ اب یہ خاک و خون میں لتھڑا پڑا ہے ۔

A land whose every manifestation lit up the world, now grovels amid dust and blood?

16

در گلش تخم غلامی را که کشت

این همه کردار آن ارواح زشت

اس کی مٹی میں غلامی کا بیج کس نے بویا، یہ سب انہی خبیث روحوں کا کام ہے ۔

Who sowed in its soil the seed of slavery? All this is the handiwork of those evil spirits.

17

در فضای نیلگون یکدم بایست

تا مکافات عمل بینی که چیست

(اے زندہ رود) تو اس سیارے کی نیلی فضا میں کچھ دیر کے لیے رک جاتا کہ تو دیکھ لے کہ مکافات عمل کیا ہے ۔

Pause a moment in the azure expanse that you may see the retribution for their deeds.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

آنچه دیدم می نگنجد در بیان

تن ز سهمش بیخبر گردد ز جان

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک زحل»بخش 2 - قلزم خونین

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور