صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مشتری
  4. »بخش 4 - نوای طاهره

بخش 4 - نوای طاهره

نوای طاہرہ

The Song of Tahira

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: و

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
صداکاران: فاطمه زندی، دیاکو 87
بند 1
Toggle stanza 1
11
گر به تو افتدم نظر چهره به چهره رو به رو
شرح دهم غم تو را نکته به نکته مو به مو

اگر تجھ پر میری نظر کچھ اس طرح پڑے کہ تو میرے بالکل سامنے ہو اور تیرا چہرہ میرے چہرے کے سامنے ہو تو پھر میں تیرے غم عشق کی شرح ایک ایک گہری بات اور رمز کے ساتھ بیان کروں ۔

If ever confronting face to face my glance should alight on you I will describe to you my sorrow for you in minutest detail.

22
از پی دیدن رخت همچو صبا فتاده‌ام
خانه به خانه، در به در، کوچه به کوچه، کو به کو

تیرا چہرہ دیکھنے کے لیے میں صبح کی نرم و لطیف ہوا کی مانند چلی پھری ہوں اور میں گھر گھر ، در در اور کوچہ کوچہ اور گلی گلی پھری ہوں ، تیری تلاش میں کوئی کونہ نہیں چھوڑا ۔

That I may behold your cheek, like the zephyr I have visited house by house, door by door, lane by lane, street by street.

33
می‌رود از فراق تو خون دل از دو دیده‌ام
دجله به دجله، یم به یم، چشمه به چشمه، جو به جو

تیرے فراق میں میرا خون دل میری دونوں آنکھوں سے رواں ہے، بہہ رہا ہے اور وہ دریا دریا ، سمندر سمندر، چشمہ چشمہ اور ندی ندی بہہ رہا ہے ۔

Through separation from you my heart’s blood is flowing from my eyes river by river, sea by sea, fountain by fountain, stream by stream.

44
مهر تو را دل حزین بافته بر قماش جان
رشته به رشته، نخ به نخ، تار به تار، پو به پو

میرے غمزدہ دل نے تیری محبت کو جان کے قماش پر بن لیا ہے ، دھاگا دھاگا، نخ نخ ، تار تار اور تانا بانا خوب ملا کر بن لیا ہے ۔

My sorrowful heart wove your love into the fabric of my soul thread by thread, thrum by thrum, warp by warp, woof by woof.

55
در دل خویش طاهره، گشت و ندید جز تو را
صفحه به صفحه، لا به لا، پرده به پرده، تو به تو

طاہرہ نے اپنے دل کے اندر نظر ڈالی مگر اسے دل کے صفحہ صفحہ ، گوشہ گوشہ پردہ پردہ اور تہ بہ تہ میں تیرے سوا کوئی نظر نہ آیا ۔

Tahira repaired to her own heart, and saw none but you page by page, fold by fold, veil by veil, curtain by curtain.

بند 2
Toggle stanza 2
66
سوز و ساز عاشقان دردمند
شورهای تازه در جانم فکند

اہل درد عاشقوں (حلاج وغیرہ) کے پرسوز جذبوں نے میری جان میں نئے ہنگامے برپا کر دیے ہیں ۔

The ardour and passion of these anguished lovers cast fresh commotions into my soul;

77
مشکلات کهنه سر بیرون زدند
باز بر اندیشه‌ام شبخون زدند

پرانی مشکلات نے پھر اپنا سر اٹھایا اور ایک مرتبہ پھر میری فکر پر شب خون مارا ۔

Ancient problems reared their heads and made assault upon my mind.

88
قلزم فکرم سراپا اضطراب
ساحلش از زور طوفانی خراب

میری فکر کا سمندر پوری طرح طوفان خیز بن گیا اور طوفان کی شدت سے اس کا ساحل خراب ہو گیا ۔

The ocean of my thought was wholly agitated; its shore was devastated by the might of the tempest.

99
گفت رومی «وقت را از کف مده
ای که میخواهی گشوده هر گره

رومی نے کہا جو اپنی ہر مشکل کے حل کا خواہاں ہے تو وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دے ۔

Rumi said, ‘Do not lose any time, you who desire the resolution of every knot;

1010
چند در افکار خود باشی اسیر
این قیامت را برون ریز از ضمیر»

تو (زندہ رود) کب تک اپنے افکار میں اسیر رہے گا ۔

For long you have been a prisoner in your own thoughts, now pour this tumult out of your breast!’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

«بیا که قاعدهٔ آسمان بگردانیم

قضا بگردش رطل گران بگردانیم

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 3 - نوای غالب

اگلی نظم

از مقام مؤمنان دوری چرا

یعنی از فردوس مهجوری چرا

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 5 - زنده رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ می‌گوید

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای به دلم گرفته جا دمبدم از نظر مرو

مرهم سینه چون تویی مردم دیده هم تو شو

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 796

هین کژ و راست می‌روی باز چه خورده‌ای بگو

مست و خراب می‌روی خانه به خانه کو به کو

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2154

کی ز جهان برون شود جزو جهان هله بگو

کی برهد ز آب نم چون بجهد یکی ز دو

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2155

باده چو هست ای صنم بازمگیر و نی مگو

عرضه مکن دو دست تی پر کن زود آن سبو

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2159

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00