صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک قمر
  4. »بخش 5 - نوای سروش

بخش 5 - نوای سروش

نغمۂ سروش

The Song of Surosh

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: اباندر

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ترسم که تو میرانی زورق به سراب اندر

زادی به حجاب اندر میری به حجاب اندر

مجھے یہ ڈر ہے کہ تو سراب میں کشتی چلاتا رہے گا، تو حجاب ، پردے میں پیدا ہوا ہے اور حجاب ہی میں مر جائے گا ۔ (سراب سے مراد عقل ہے) ۔

I fear that you are steering the barque into a mirage; born within a veil, you will die within a veil.

2

چون سرمه رازی را از دیده فروشستم

تقدیر امم دیدم پنهان بکتاب اندر

جب میں نے اپنی آنکھوں سے رازی (کی تفسیر) کا سرمہ دھو ڈالا تو میں نے قوموں کی تقدیر (راز) کتاب (قرآن) کے اندر چھپی دیکھی ۔

When I washed the collyrium of Razi from my eyes I saw the destinies of nations hidden in the Book

3

بر کشت و خیابان پیچ بر کوه و بیابان پیچ

برقی که بخود پیچد میرد به سحاب اندر

(تو ایک بجلی ہے) تو بادل کے اندر ہی خود پر نہ گر بلکہ بادل سے باہر نکل کر کھیت، باغ اور کوہ و بیاباں پر گر، کیونکہ جو بجلی اپنے اندر اندر ہی گرتی ہے وہ بادل ہی میں مر جاتی یا رہ جاتی ہے ۔

Twist over field and avenue, twist over mountain and desert – the lightning that twists upon itself dies within the cloud.

4

با مغربیان بودم پر جستم و کم دیدم

مردی که مقاماتش ناید بحساب اندر

میں اہل مغرب میں رہا ہوں ۔ وہاں میں نے بہت جستجو کی لیکن مجھے کوئی ایسا مرد نظر نہیں آیا جس کے مقامات بے شمار ہوں ۔

I dwelt a while with the Westerners, sought much and saw scarcely the man whose musical modes turn not upon number.

5

بی درد جهانگیری آن قرب میسر نیست

گلشن بگریبان کش ای بو بگلاب اندر

تسخیر کائنات کی محنت اٹھائے بغیر وہ قرب حاصل نہیں ہوتا جو مومن کی شان ہے ۔ اے گلاب کے اندر کی خوشبو ہی پر اکتفا کرنے والے تو گلشن کو اپنے گریبان میں لے ۔

Without the anguish of battle that propinquity is not attainable; you who speak of ‘scent in rose-water, ‘, go, ravish the rose-bush!

6

ای زاهد ظاهر بین گیرم که خودی فانی است

لیکن تو نمی بینی طوفان به حباب اندر

اے ظاہر بیں زاہد میں مانتا ہوں کہ خودی فانی ہے لیکن کیا تو وہ طوفان نہیں دیکھتا جو بلبلے کے اندر موجود ہے ۔

Superficial ascetic, I concede that selfhood is transient, but you do not see the whirlpool within the bubble.

7

این صوت دلاویزی از زخمهٔ مطرب نیست

مهجور جنان حوری نالد به رباب اندر

یہ دل آویز مطرب کے مضراب سے پیدا نہیں ہو رہی بلکہ یہ جنت سے بچھڑی ہوئی ایک حور ہے جو رباب کے اندر نالہ و فریاد کر رہی ہے ۔

This delightful music comes not from the minstrel’s plucking, a houri exiled from Paradise is weeping within the lute.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرد عارف گفتگو را در ببست

مست خود گردید و از عالم گسست

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 4 - جلوهٔ سروش

اگلی نظم

رومی آن عشق و محبت را دلیل

تشنه کامان را کلامش سلسبیل

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 6 - حرکت به وادی یرغمید که ملائکه او را وادی طواسین می‌نامند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چون رخ به سراب آری ای مه به شراب اندر

اقبال گیا روید در عین سراب اندر

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 164

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور