جلوۂ سروش
The Splendour of Surosh
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
مرد عارف گفتگو را در ببست
مست خود گردید و از عالم گسست
مرد عارف (وشوامتر) نے گفتگو کا دروازہ بند کر دیا (خاموش ہو گیا) وہ اپنے آپ میں مست ہو گیا اور اس نے عالم سے اپنا تعلق توڑ لیا ۔
There upon the wise man ceased his discourse; self-intoxicated, he broke away from the world.
ذوق و شوق او را ز دست او ربود
در وجود آمد ز نیرنگ شهود
اس کے ذوق و شوق نے اسے اس کے ہاتھ سے چھین لیا (وہ بے خود و مست ہو گیا) اور وہ شہود کا طلسم توڑ کر وجود میں آ گیا ۔
Ecstasy and yearning snatched him out of his own hands. Then came into being, by the magic of divine vision.
با حضورش ذره ها مانند طور
بی حضور او نه نور و نی ظهور
اس کی حضوری سے ذرے طور کی مانند ہو گئے ۔ اس کی حضوری توجہ کے بغیر نہ تو کوئی نور تھا اور نہ کوئی ظہور تھا ۔
When it is present the motes become like Mount Sinai, without its presence there is nor light nor manifestation.
نازنینی در طلسم آن شبی
آن شبی بی کوکبی را کوکبی
اس رات کے طلسم کے اندر ایک نازنین نمودا ار ہوئی ، جو اس بے ستارہ رات کے لیے گویا ستارہ تھی ۔
(Sarosh arrives): A delicate creature in the talisman of that night, a star shining upon that starless night.
سنبلستان دو زلفش تا کمر
تاب گیر از طلعتش کوه و کمر
اس کی دونوں زلفوں کے سنبلستان اس کی کمر تک لٹکے ہوئے تھے اور اس کے چمکتے چہرے سے پہاڑ اور کمر روشنی حاصل کرتے تھے ۔
The hyacinth-curls of his two tresses reached his waist, mountains and foothills drew brilliance from his face.
غرق اندر جلوهٔ مستانه ئی
خوش سرود آن مست بی پیمانه ئی
وہ مستانہ جلوے میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ شراب کا پیالہ پیے بغیر اس مست نازنین نے دلکش نغمہ چھیڑا ۔
Wholly drowned in a drunken epiphany, drunken without wine, he chanted melodiously.
پیش او گردنده فانوس خیال
ذوفنون مثل سپهر دیر سال
اس کے سامنے خیال کا فانوس گردش کرتا تھا جو بیحد قدیم آسمان کی طرح ذوفنون تھا ۔
Before him the lantern of the imagination span around, full of wiles as the ancient sphere of heaven;
اندر آن فانوس پیکر رنگ رنگ
شکره بر گنجشک و بر آهو پلنگ
اس فانونس کے اندر قسم قسم کے اور طرح طرح کے پیکر تھے ۔ باز، چڑیا اور چیتا ہرن پر جھپٹتا نظر آتا تھا ۔
In that lantern appeared a form of many hues, hawk pouncing on sparrow, panther seizing deer.
من به رومی گفتم ای دانای راز
بر رفیق کم نظر بگشای راز
میں (اقبال) نے رومی سے کہا کہ اے دانائے راز اپنے اس کم عقل ساتھی پر یہ راز کھول (یہ نازنین کون ہے) ۔
I said to Rumi, ‘You who know the secret, reveal the secret to your companion of little vision.’
گفت «این پیکر چو سیم تابناک
زاد در اندیشهٔ یزدان پاک
رومی نے کہا کہ اس چاندی کی طرح چمکتے ہوئے پیکر نے خدائے پاک کی مشیت میں جنم لیا ۔
He said, ‘This form like unto flashing silver was born in the thought of the holy God;
باز بیتابانه از ذوق نمود
در شبستان وجود امید فرود
پھر یہ پیکر ذوقِ نمود سے بیقرار ہو کر وجود کے شبستان میں اتر آیا ۔
Impatiently, out of the joy of self- manifestation, he came down into the dormitory of existence,
همچو ما آواره و غربت نصیب
تو غریبی ، من غریبم ، او غریب
یہ بھی ہماری طرح بے مقصد گھوم رہا ہے اور بے وطن ہے ۔ تو بھی بے وطن ہے ، میں بھی بے وطن ہوں اور وہ بھی بے وطن ہے ۔
Like ourselves a wanderer, exile his portion – you are an exile, I am an exile, he is an exile.
شأن او جبریلی و نامش سروش
می برد از هوش و می آرد بهوش
اس کی شان جبرئیل کی سی اور اس کا نام سروش ہے ۔ وہ ہوش لے جاتا اور ہوش لاتا ہے ۔
His rank is that of Gabriel, his name is Sarosh, he transports from sense, and restores to sense.
غنچهٔ ما را گشود از شبنمش
مرده آتش ، زنده از سوز دمش
اس کی شبنم سے ہماری کلی کھلتی ہے ۔ اس کے سانس کے سوز سے بجھی ہوئی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔
It was his dew that opened our bud, the fire of his breath kindled the dead ember.
زخمهٔ شاعر به ساز دل ازوست
چاکها در پردهٔ محمل ازوست
دل کے ساز پر شاعر کی مضراب اس کی وجہ سے ہے ۔ محمل کے پردے میں چاک اسی کی وجہ سے ہے ۔
The poet’s plectrum striking the chords of the heart is of him, and it is he who rends the veil shrouding the Kaaba.
دیده ام در نغمهٔ او عالمی
آتشی گیر از نوای او دمی»
میں نے اس کے نغمہ کے اندر ایک نئی دنیا دیکھی ہے ۔ تو بھی تھوڑی دیر کے لئے اس کی نوا سے حرارت حاصل کر ۔
Within his melody I have glimpsed an entire universe now take fire for a moment from his song.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور