وادی یرغمید کی طرف جانا جسے ملائکہ وادی طواسین کہتے ہیں۔
Departure for the Valley of Yarghamid, Called by the Angels the Valley of Tawasin
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
رومی آن عشق و محبت را دلیل
تشنه کامان را کلامش سلسبیل
رومی نے جو عشق ومحبت کی دلیل ہیں اور جن کا کلام عشق کے پیاسوں کے لیے سلسبیل (جنت کا چشمہ) کی حیثیت رکھتا ہے ۔
Rumi, that guide to passion and love whose words are as Salsabil to throats athirst,
گفت «آن شعری که آتش اندروست
اصل او از گرمی الله هوست
مجھ اقبال سے کہا کہ وہ شعر جس کے اندر آگ ہے اس کی اصل بنیاد اللہ ہو کی گرمی سے ہے ۔
Said, ‘The poetry in which there is fire originates from the heat of ‘He is God!’
آن نوا گلشن کند خاشاک را
آن نوا برهم زند افلاک را
ایسی نوا خاشاک کو گلشن بنا دیتی ہے ۔ اور افلاک کو درہم برہم کر دیتی ہے ۔
That chant transforms rubbish into a rose-garden, that chant throws into confusion the spheres;
آن نوا بر حق گواهی میدهد
با فقیران پادشاهی میدهد
ایسی نوا ، شاعری حق پر گواہی دیتی اور فقیروں کو بادشاہی عطا کرتی ہے ۔
That chant bears testimony to the Truth, bestows on beggars the rank of kings.
خون ازو اندر بدن سیار تر
قلب از روح الامین بیدار تر
اس شاعری سے بدن کے اندر خون کی گردش تیز تر ہو جاتی ہے اور اس کی بنا پر دل روح الامین سے زیادہ بیدار ہو جاتا ہے ۔
Through it the blood courses swifter in the body, the heart grows more aware of the Trusty Spirit.
ای بسا شاعر که از سحر هنر
رهزن قلب است و ابلیس نظر
لیکن بہت سے شاعر اپنے فن کے جادو سے دل کے رہزن اور نظر کے ابلیس بن جاتے ہیں ۔
Many a poet through the magic of his art is a highwayman of hearts, a devil of the glance.
شاعر هندی خدایش یار باد
جان او بی لذت گفتار باد
ہندوستان کے شاعر کا خدا یار ہو اللہ اسے ہدایت دے اس کی جان لذتِ گفتار کے بغیر ہے ۔ یہ بیہودہ شاعری کرنے سے باز آ جائے ۔
The poet of India-God help him, and may his soul lack the joy of speech!
عشق را خنیاگری آموخته
با خلیلان آزری آموخته
اس نے عشق کو راگ رنگ سکھا دیا ہے اور خلیلوں یعنی توحید پرستوں کو آزری سکھا دی ہے ۔
Has taught love to become a minstrel, taught the friends of God the art of Azar.
حرف او چاویده و بی سوز و درد
مرد خوانند اهل درد او را نه مرد
اس کے الفاظ مترنم لیکن درد و سوز سے خالی ہیں اور اہل درد اس کو مرد نہیں مردہ کہتے ہیں ۔
His words are a sparrow’s chirp, no ardour or anguish; the people of passion call him a corpse, not a man.
زان نوای خوش که نشناسد مقام
خوشتر آن حرفی که گوئی در منام
اس اچھی شاعری سے جو اپنے نچلے اونچے سروں سے نا آشنا ہے وہ بات بہتر ہے جو تو نیند یا خواب میں کرتا ہے ۔
Sweeter than that sweet chant which knows no mode are the words which you utter in a dream.
فطرت شاعر سراپا جستجوست
خالق و پروردگار آرزوست
ایک صحیح شاعر کی فطرت سراپا جستجو ہے وہ آرزو کی تخلیق کرنے والا اور اسے پرورش کرنے والا ہے ۔
The poet’s nature is all searching, creator and nourisher of desire;
شاعر اندر سینهٔ ملت چو دل
ملتی بی شاعری انبار گل
شاعر تو ملت کے سینے میں دل کی مانند ہے شاعر کے بغیر جو ملت ہے وہ محض مٹی کا ڈھیر ہے ۔
The poet is like the heart in a people’s breast, a people without a poet is a mere heap of clay.
سوز و مستی نقشبند عالمی است
شاعری بی سوز و مستی ماتمی است
سوز اور مستی نئے عالم کے نقوش مرتب کرتی ہے ۔ سوز و مستی سے خالی شاعری ایک طرح سے ماتم کرنا ہے ۔ سوائے رونے دھونے کے اور کچھ نہیں ۔
Ardour and drunkenness embroider a world; poetry without ardour and drunkenness is a dirge.
شعر را مقصود اگر آدم گری است
شاعری هم وارث پیغمبری است»
شعر سے اگر انسانی شخصیت کی تعمیر مقصود ہے تو ایسی شاعری پیغمبری کی وارث ہے ۔
If the purpose of poetry is the fashioning of men, poetry is likewise the heir of prophecy.’
گفتم از پیغمبری هم باز گوی
سر او با مرد محرم باز گوی
میں (اقبال) نے کہا کہ پیغمبری کے بارے میں پھر کچھ فرمایئے ۔ اس کا راز اس واقفِ راز سے پھر کہیے (اس محرم راز سے اس کا راز بیان کیجیے) ۔
I said, ‘Speak again also of prophecy, speak again its secret to your confidant.’
گفت «اقوام و ملل آیات اوست
عصر های ما ز مخلوقات اوست
رومی نے کہا کہ قو میں اور ملتیں ، پیغمبری کی نشانیاں ہیں ۔ ہمارے زمانے اس کی مخلوقات میں سے ہیں ۔
He said, ‘Peoples and nations are his signs, our centuries are things of his creation.
از دم او ناطق آمد سنگ و خشت
ما همه مانند حاصل ، او چو کشت
اس (پیغمبر) کے دم سے پتھر اور اینٹوں میں بولنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہم تمام انسان حاصل ہیں اور وہ (پیغمبر) کھیت ہے ۔
His breath makes stones and bricks to speak; we all are as the harvest, he the sown field.
پاک سازد استخوان و ریشه را
بال جبریلی دهد اندیشه را
وہ ہڈیوں اور ریشہ کو پاکیزہ بنا دیتا ہے ۔ اور فکر کو جبرئیل کے شپہر ، بازو عطا کرتا ہے ۔
He purifies the bones and fibres, gives to the thoughts the wings of Gabriel;
های و هوی اندرون کائنات
از لب او نجم و نور و نازعات
کائنات کے اندر ہر طرح کے ہنگامے اس کے ہونٹوں سے نکلی ہوئی والنجم، النور اور نازعات جیسی سورتوں کے باعث ہیں ۔
The mutterings within the hearts of creatures upon his lip become Star, Light, and Pluckers.
آفتابش را زوالی نیست نیست
منکر او را کمالی نیست نیست
اس کے آفتاب کو زوال ہرگز نہیں ہے ۔ اس کا جو منکر ہے اسے کوئی کمال ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا ہے ۔
To his sun there is no setting, none; to his denier never shall come perfection.
رحمت حق صحبت احرار او
قهر یزدان ضربت کرار او
اس کے پیغمبر کے آزاد بندوں کی صحبت رحمتِ حق ہے جبکہ اس کے کرار (حضرت علی) کی ضرب خدا تعالیٰ کا قہر لاتی ہے ۔
God’s compassion is the company of his freemen, the wrath of God is his impetuous blow.
گرچه باشی عقل کل از وی مرم
زانکه او بیند تن و جان را بهم
اگر تو عقل کل بھی ہو ، پھر بھی اس کی صحبت سے دور نہ بھاگ، کیونکہ پیغمبر کے نزدیک جان اور بدن باہم ایک ہیں یعنی اکٹھا رکھتا ہے ۔
Be you Universal Reason itself, flee not from him, for he beholds both body and soul together.
تیز تر نه پا به راه یرغمید
تا ببینی آنچه می بایست دید
تو وادیِ یرغمید کے رستے کی طرف تیز تر قدم اٹھا تاکہ تو وہاں وہ کچھ دیکھے جو کچھ دیکھنا چاہیے ۔
Stride then more nimbly on the road to Yarghamid that you may see that which must be seen.
کنده بر دیواری از سنگ قمر
چار طاسین نبوت را نگر»
چاند کے پتھروں سے بنی ہوئی ایک دیوار پر کندہ کیے ہوئے نبوت کے تو چار طاسین دیکھے گا ۔
Engraved upon a wall of moonstone behold the four Tasins of prophecy.’
شوق راه خویش داند بی دلیل
شوق پروازی ببال جبرئیل
شوق کسی رہنما کے بغیر ہی اپنا راستہ دیکھ لیتا ہے ۔ شوق گویا جبرئیل کے شہپر سے پرواز کرتا ہے ۔
Yearning knows its own way without a guide, the yearning to fly with the wings of Gabriel;
شوق را راه دراز آمد دو گام
این مسافر خسته گردد از مقام
شوق کے لیے طویل سفر دو قدموں سے زیادہ نہیں ۔ مسافر شوقِ مقام سے تنگ آ جاتا ہے ۔
For yearning the long road becomes two steps, such a traveller wearies of standing still.
پا زدم مستانه سوی یرغمید
تا بلندیهای او آمد پدید
میں وادیِ یرغمید کی طرف مستانہ وار روانہ ہوا ۔ یہاں تک کہ اس وادی کی بلندیاں نظر آنے لگیں ۔
As if drunk I strode out towards Yarghamid until at last its heights became visible.
من چه گویم از شکوه آن مقام
هفت کوکب در طواف او مدام
میں اس مقام کی شان و شکوہ کیا بیان کروں ۔ اس کی شان و شکوہ کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سات ستارے ہر وقت اس کے طواف میں لگے رہتے ہیں ۔
What shall I say of the splendour of that station? Seven stars circle about it unceasingly;
فرشیان از نور او روشن ضمیر
عرشیان از سرمهٔ خاکش بصیر
اہل زمین اس کے نور سے روشن ضمیر ہیں اور اہل عرش اس کی خاک سرمے سے بصیرت حاصل کرتے ہیں ۔
The Carpet-angels are inly lit by its light, its dust’s collyrium brightens the eyes of the Throne-angels.
حق مرا چشم و دل و گفتار داد
جستجوی عالم اسرار داد
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مجھے آنکھ، دل اور قوت گویائی عطا فرمائی اور مجھ میں عالم اسرار کے رازوں کو جاننے کی جستجو پیدا کر دی ۔
God gave to me sight, heart and speech, gave me the urge to search for the world of secrets;
پرده را بر گیرم از اسرار کل
با تو گویم از طواسین رسل
اب میں تمام رازوں سے پردہ اٹھاتا ہوں اور تجھے رسولوں کے طواسین کے بارے میں بتاتا ہوں ۔
Now I will unveil the mysteries of the universe, I will tell you of the Tawasin of the Apostles.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور