صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک قمر
  4. »بخش 6 - حرکت به وادی یرغمید که ملائکه او را وادی طواسین می‌نامند

بخش 6 - حرکت به وادی یرغمید که ملائکه او را وادی طواسین می‌نامند

وادی یرغمید کی طرف جانا جسے ملائکہ وادی طواسین کہتے ہیں۔

Departure for the Valley of Yarghamid, Called by the Angels the Valley of Tawasin

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

رومی آن عشق و محبت را دلیل

تشنه کامان را کلامش سلسبیل

رومی نے جو عشق ومحبت کی دلیل ہیں اور جن کا کلام عشق کے پیاسوں کے لیے سلسبیل (جنت کا چشمہ) کی حیثیت رکھتا ہے ۔

Rumi, that guide to passion and love whose words are as Salsabil to throats athirst,

22

گفت «آن شعری که آتش اندروست

اصل او از گرمی الله هوست

مجھ اقبال سے کہا کہ وہ شعر جس کے اندر آگ ہے اس کی اصل بنیاد اللہ ہو کی گرمی سے ہے ۔

Said, ‘The poetry in which there is fire originates from the heat of ‘He is God!’

33

آن نوا گلشن کند خاشاک را

آن نوا برهم زند افلاک را

ایسی نوا خاشاک کو گلشن بنا دیتی ہے ۔ اور افلاک کو درہم برہم کر دیتی ہے ۔

That chant transforms rubbish into a rose-garden, that chant throws into confusion the spheres;

44

آن نوا بر حق گواهی میدهد

با فقیران پادشاهی میدهد

ایسی نوا ، شاعری حق پر گواہی دیتی اور فقیروں کو بادشاہی عطا کرتی ہے ۔

That chant bears testimony to the Truth, bestows on beggars the rank of kings.

55

خون ازو اندر بدن سیار تر

قلب از روح الامین بیدار تر

اس شاعری سے بدن کے اندر خون کی گردش تیز تر ہو جاتی ہے اور اس کی بنا پر دل روح الامین سے زیادہ بیدار ہو جاتا ہے ۔

Through it the blood courses swifter in the body, the heart grows more aware of the Trusty Spirit.

66

ای بسا شاعر که از سحر هنر

رهزن قلب است و ابلیس نظر

لیکن بہت سے شاعر اپنے فن کے جادو سے دل کے رہزن اور نظر کے ابلیس بن جاتے ہیں ۔

Many a poet through the magic of his art is a highwayman of hearts, a devil of the glance.

77

شاعر هندی خدایش یار باد

جان او بی لذت گفتار باد

ہندوستان کے شاعر کا خدا یار ہو اللہ اسے ہدایت دے اس کی جان لذتِ گفتار کے بغیر ہے ۔ یہ بیہودہ شاعری کرنے سے باز آ جائے ۔

The poet of India-God help him, and may his soul lack the joy of speech!

88

عشق را خنیاگری آموخته

با خلیلان آزری آموخته

اس نے عشق کو راگ رنگ سکھا دیا ہے اور خلیلوں یعنی توحید پرستوں کو آزری سکھا دی ہے ۔

Has taught love to become a minstrel, taught the friends of God the art of Azar.

99

حرف او چاویده و بی سوز و درد

مرد خوانند اهل درد او را نه مرد

اس کے الفاظ مترنم لیکن درد و سوز سے خالی ہیں اور اہل درد اس کو مرد نہیں مردہ کہتے ہیں ۔

His words are a sparrow’s chirp, no ardour or anguish; the people of passion call him a corpse, not a man.

1010

زان نوای خوش که نشناسد مقام

خوشتر آن حرفی که گوئی در منام

اس اچھی شاعری سے جو اپنے نچلے اونچے سروں سے نا آشنا ہے وہ بات بہتر ہے جو تو نیند یا خواب میں کرتا ہے ۔

Sweeter than that sweet chant which knows no mode are the words which you utter in a dream.

1111

فطرت شاعر سراپا جستجوست

خالق و پروردگار آرزوست

ایک صحیح شاعر کی فطرت سراپا جستجو ہے وہ آرزو کی تخلیق کرنے والا اور اسے پرورش کرنے والا ہے ۔

The poet’s nature is all searching, creator and nourisher of desire;

1212

شاعر اندر سینهٔ ملت چو دل

ملتی بی شاعری انبار گل

شاعر تو ملت کے سینے میں دل کی مانند ہے شاعر کے بغیر جو ملت ہے وہ محض مٹی کا ڈھیر ہے ۔

The poet is like the heart in a people’s breast, a people without a poet is a mere heap of clay.

1313

سوز و مستی نقشبند عالمی است

شاعری بی سوز و مستی ماتمی است

سوز اور مستی نئے عالم کے نقوش مرتب کرتی ہے ۔ سوز و مستی سے خالی شاعری ایک طرح سے ماتم کرنا ہے ۔ سوائے رونے دھونے کے اور کچھ نہیں ۔

Ardour and drunkenness embroider a world; poetry without ardour and drunkenness is a dirge.

1414

شعر را مقصود اگر آدم گری است

شاعری هم وارث پیغمبری است»

شعر سے اگر انسانی شخصیت کی تعمیر مقصود ہے تو ایسی شاعری پیغمبری کی وارث ہے ۔

If the purpose of poetry is the fashioning of men, poetry is likewise the heir of prophecy.’

1515

گفتم از پیغمبری هم باز گوی

سر او با مرد محرم باز گوی

میں (اقبال) نے کہا کہ پیغمبری کے بارے میں پھر کچھ فرمایئے ۔ اس کا راز اس واقفِ راز سے پھر کہیے (اس محرم راز سے اس کا راز بیان کیجیے) ۔

I said, ‘Speak again also of prophecy, speak again its secret to your confidant.’

1616

گفت «اقوام و ملل آیات اوست

عصر های ما ز مخلوقات اوست

رومی نے کہا کہ قو میں اور ملتیں ، پیغمبری کی نشانیاں ہیں ۔ ہمارے زمانے اس کی مخلوقات میں سے ہیں ۔

He said, ‘Peoples and nations are his signs, our centuries are things of his creation.

1717

از دم او ناطق آمد سنگ و خشت

ما همه مانند حاصل ، او چو کشت

اس (پیغمبر) کے دم سے پتھر اور اینٹوں میں بولنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہم تمام انسان حاصل ہیں اور وہ (پیغمبر) کھیت ہے ۔

His breath makes stones and bricks to speak; we all are as the harvest, he the sown field.

1818

پاک سازد استخوان و ریشه را

بال جبریلی دهد اندیشه را

وہ ہڈیوں اور ریشہ کو پاکیزہ بنا دیتا ہے ۔ اور فکر کو جبرئیل کے شپہر ، بازو عطا کرتا ہے ۔

He purifies the bones and fibres, gives to the thoughts the wings of Gabriel;

1919

های و هوی اندرون کائنات

از لب او نجم و نور و نازعات

کائنات کے اندر ہر طرح کے ہنگامے اس کے ہونٹوں سے نکلی ہوئی والنجم، النور اور نازعات جیسی سورتوں کے باعث ہیں ۔

The mutterings within the hearts of creatures upon his lip become Star, Light, and Pluckers.

2020

آفتابش را زوالی نیست نیست

منکر او را کمالی نیست نیست

اس کے آفتاب کو زوال ہرگز نہیں ہے ۔ اس کا جو منکر ہے اسے کوئی کمال ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا ہے ۔

To his sun there is no setting, none; to his denier never shall come perfection.

2121

رحمت حق صحبت احرار او

قهر یزدان ضربت کرار او

اس کے پیغمبر کے آزاد بندوں کی صحبت رحمتِ حق ہے جبکہ اس کے کرار (حضرت علی) کی ضرب خدا تعالیٰ کا قہر لاتی ہے ۔

God’s compassion is the company of his freemen, the wrath of God is his impetuous blow.

2222

گرچه باشی عقل کل از وی مرم

زانکه او بیند تن و جان را بهم

اگر تو عقل کل بھی ہو ، پھر بھی اس کی صحبت سے دور نہ بھاگ، کیونکہ پیغمبر کے نزدیک جان اور بدن باہم ایک ہیں یعنی اکٹھا رکھتا ہے ۔

Be you Universal Reason itself, flee not from him, for he beholds both body and soul together.

2323

تیز تر نه پا به راه یرغمید

تا ببینی آنچه می بایست دید

تو وادیِ یرغمید کے رستے کی طرف تیز تر قدم اٹھا تاکہ تو وہاں وہ کچھ دیکھے جو کچھ دیکھنا چاہیے ۔

Stride then more nimbly on the road to Yarghamid that you may see that which must be seen.

2424

کنده بر دیواری از سنگ قمر

چار طاسین نبوت را نگر»

چاند کے پتھروں سے بنی ہوئی ایک دیوار پر کندہ کیے ہوئے نبوت کے تو چار طاسین دیکھے گا ۔

Engraved upon a wall of moonstone behold the four Tasins of prophecy.’

2525

شوق راه خویش داند بی دلیل

شوق پروازی ببال جبرئیل

شوق کسی رہنما کے بغیر ہی اپنا راستہ دیکھ لیتا ہے ۔ شوق گویا جبرئیل کے شہپر سے پرواز کرتا ہے ۔

Yearning knows its own way without a guide, the yearning to fly with the wings of Gabriel;

2626

شوق را راه دراز آمد دو گام

این مسافر خسته گردد از مقام

شوق کے لیے طویل سفر دو قدموں سے زیادہ نہیں ۔ مسافر شوقِ مقام سے تنگ آ جاتا ہے ۔

For yearning the long road becomes two steps, such a traveller wearies of standing still.

2727

پا زدم مستانه سوی یرغمید

تا بلندیهای او آمد پدید

میں وادیِ یرغمید کی طرف مستانہ وار روانہ ہوا ۔ یہاں تک کہ اس وادی کی بلندیاں نظر آنے لگیں ۔

As if drunk I strode out towards Yarghamid until at last its heights became visible.

2828

من چه گویم از شکوه آن مقام

هفت کوکب در طواف او مدام

میں اس مقام کی شان و شکوہ کیا بیان کروں ۔ اس کی شان و شکوہ کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سات ستارے ہر وقت اس کے طواف میں لگے رہتے ہیں ۔

What shall I say of the splendour of that station? Seven stars circle about it unceasingly;

2929

فرشیان از نور او روشن ضمیر

عرشیان از سرمهٔ خاکش بصیر

اہل زمین اس کے نور سے روشن ضمیر ہیں اور اہل عرش اس کی خاک سرمے سے بصیرت حاصل کرتے ہیں ۔

The Carpet-angels are inly lit by its light, its dust’s collyrium brightens the eyes of the Throne-angels.

3030

حق مرا چشم و دل و گفتار داد

جستجوی عالم اسرار داد

اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مجھے آنکھ، دل اور قوت گویائی عطا فرمائی اور مجھ میں عالم اسرار کے رازوں کو جاننے کی جستجو پیدا کر دی ۔

God gave to me sight, heart and speech, gave me the urge to search for the world of secrets;

3131

پرده را بر گیرم از اسرار کل

با تو گویم از طواسین رسل

اب میں تمام رازوں سے پردہ اٹھاتا ہوں اور تجھے رسولوں کے طواسین کے بارے میں بتاتا ہوں ۔

Now I will unveil the mysteries of the universe, I will tell you of the Tawasin of the Apostles.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ترسم که تو میرانی زورق به سراب اندر

زادی به حجاب اندر میری به حجاب اندر

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 5 - نوای سروش

اگلی نظم

می دیرینه و معشوق جوان چیزی نیست

پیش صاحب نظران حور جنان چیزی نیست

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 7 - طاسین گوتم: توبه آوردن زن رقاصهٔ عشوه فروش

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور