صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک قمر
  4. »بخش 7 - طاسین گوتم: توبه آوردن زن رقاصهٔ عشوه فروش

بخش 7 - طاسین گوتم: توبه آوردن زن رقاصهٔ عشوه فروش

طاسین گوتم: ایک رقاصۂ عشوہ فروش کا توبہ کرنا۔

Tasin of Gautama

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
گوتم

GAUTAM

Toggle stanza 1
1

می دیرینه و معشوق جوان چیزی نیست

پیش صاحب نظران حور جنان چیزی نیست

پرانی شراب اور جوان معشوق کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اہل نظر کے نزدیک جنت کی حور بھی کوئی چیز نہیں ہے ۔

Ancient wine and youthful beloved are-nothing; for men of true vision the houris of Paradise are-nothing.

2

هر چه از محکم و پاینده شناسی گذرد

کوه و صحرا و بر و بحر و کران چیزی نیست

ہر وہ شے جسے تو مضبوط اور ہمیشہ رہنے والی سمجھتا ہے وہ گزر جانے والی ہے اسے فنا ہے ۔ یہ پہاڑ اور صحرا اور خشکی اور سمندر اور ساحل سب کی کوئی اہمیت نہیں ہے (ہر شے فانی ہے) ۔

Whatever you know as firm and enduring passes away, mountain and desert, land, sea and shore are-nothing.

3

دانش مغربیان فلسفه مشرقیان

همه بتخانه و در طوف بتان چیزی نیست

اہل مغرب، یورپ کی دانش اور اہل مشرق کا فلسفہ ، یہ سب بت کدے ہیں اور بتوں کے طواف سے کچھ حاصل نہیں ہے ۔

The science of the Westerners, the philosophy of the Easterners are all idol-houses, and the visiting of idols yields-nothing

4

از خود اندیش و ازین بادیه ترسان مگذر

که تو هستی و وجود دو جهان چیزی نیست

تو اپنے آپ پر غور کر اور اس بیابان سے خوف زدہ ہوتے ہوئے نہ گزر، اس لیے کہ صرف تو باقی رہنے والا ہے اور دونوں جہانوں کا وجود کوئی چیز نہیں ہے ۔

Think upon Self, and pass not fearfully through this desert, for you are, while the substance of both worlds is – nothing

5

در طریقی که به نوک مژه کاویدم من

منزل و قافله و ریگ روان چیزی نیست

وہ راہ جسے میں نے اپنی پلکوں کی نوک سے تراشا ہے اس میں منزل اور قافلہ اور اڑتی ہوئی ریت کوئی چیز نہیں ہے ۔

On the road which I hewed out with the point of my eyelash station and caravan and shifting sands are-nothing.

6

بگذر از غیب که این وهم و گمان چیزی نیست

در جهان بودن و رستن ز جهان چیزی هست

تو غیب سے گزر جا، اس لیے کہ یہ سب وہم و گمان ہے اور وہم و گمان کوئی چیز نہیں ہے ، جہان میں بستے ہوئے اس سے آزاد رہنا ضرور قابل قدر شے ہے ۔

Transcend the unseen, for this doubt and surmise are nothing; to be in the world and to escape from the world-that is. Something!

7

آن بهشتی که خدائی بتو بخشد همه هیچ

تا جزای عمل تست جنان چیزی هست

وہ بہشت جو خدا نے تجھے عطا کی ہے وہ سب ہیچ ہے ۔ ہاں اگر وہ جنت تیرے عملوں کے باعث، جزا کی صورت میں تجھے ملی ہے تو وہ ضرور کوئی چیز ہے ۔

The Paradise that some God grants unto you is nothing; when Paradise is the reward of your labours-that is something.

8

راحت جان طلبی راحت جان چیزی نیست

در غم همنفسان اشک روان چیزی هست

کیا تجھے آرام جاں کی خواہش ہے یاد رکھ کہ آرامِ جاں کوئی چیز نہیں ہے ۔ ہاں اپنے ساتھیوں کے غم میں شریک ہو کر آنسو بہانا ایک قابل قدر بات ہے ۔

Do you seek repose for your soul? The soul’s repose is nothing; the tear shed in sorrow for your companions-that is something.

9

چشم مخمور و نگاه غلط انداز و سرود

همه خوبست ولی خوشتر از آن چیزی هست

نشیلی آنکھ اور غلط انداز اور گانا بجانا، سب اچھی باتیں ہیں لیکن ان سے بھی اچھی کوئی چیز ہے ۔

The wine-drenched eye, the temptress glance and the song are all fair, but sweeter than these-there is something.

10

حسن رخسار دمی هست و دمی دیگر نیست

حسن کردار و خیالات خوشان چیزی هست

رخسار کا حسن کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہو وہ ایک لمحہ ہے اور دوسرے لمحہ نہیں ۔ البتہ کردار و عمل اور خیالات کا حسن ضرور اہمیت رکھتے ہیں ۔

The cheek’s beauty lives for a moment, in a moment is no more; the beauty of action and fine ideals-that is something.

بند 2
رقاصه

HE DANCING GIRL

Toggle stanza 2
11

فرصت کشمکش مده این دل بیقرار را

یک دو شکن زیاده کن گیسوی تابدار را

(رقاصہ کہتی ہے ) تو اس بیقرار دل کو کشمکش کا موقع یا اجازت نہ دے ۔ تو اپنے پیچدار گیسووَں میں ایک دو بل اور ڈال دے ۔

Give not occasion for conturbation to this restless heart; add one or two curls more to my twisted tress.

12

از تو درون سینه ام برق تجلئی که من

با مه و مهر داده ام تلخی انتظار را

تیری وجہ سے میرے سینے میں وہ برق تجلی ہے کہ میں نے چاند اور سورج کو بھی انتظار کی تلخی سے دوچار کر دیا ہے ۔

In my breast is such a lightning-flash of revelation from you, I have yielded the bitterness of expectation to the moon and the sun.

13

ذوق حضور در جهان رسم صنم گری نهاد

عشق فریب می دهد جان امیدوار را

ذوقِ دید نے دنیا میں بت گری کی رسم کی بنیاد رکھی، امیدوار جان کو عشق فریب دیتا ہے ۔

The joy of God’s presence founded in this world idolatry’s wont; love ever eludes the soul that is full of hope.

14

تا به فراغ خاطری نغمهٔ تازه ئی زنم

باز به مرغزار ده طایر مرغزار را

اس خاطر کہ میں دل جمعی سے کوئی نیا نغمہ چھیڑوں تو پھر سے سبزہ زار کے پرندے کو سبزہ زار کی طرف بھیج دے ۔

So that with carefree heart I may play a new melody give back again to the meadow the true bird of the meadow.

15

طبع بلند داده‌ای بند ز پای من گشای

تا به پلاس تو دهم خلعت شهریار را

تو نے مجھے اگر بلند طبع سے نوازا ہے تو پھر میرے پاؤں سے زنجیر کھول دے تاکہ میں تیرے عطا کیے ہوئے بوریائی لباس کے عوض بادشاہ کی خلعت دے دوں ۔

You have granted me a lofty nature; release the shackle from my foot that I may bestow a prince’s robe upon your sackcloth

16

تیشه اگر به سنگ زد این چه مقام گفت‌و‌گوست

عشق به دوش می‌کشد این همه کوهسار را

اگر فرہاد نے پتھر پر تیشہ چلایا تو یہ کونسا مقامِ گفتگو ہے ۔ (قابل ذکر بات ہے ) کہ عشق تو اس سارے پہاڑی سلسلے کو کندھوں پر اٹھا لیتا ہے ۔

If the axe struck against the stone, what cause of talk is that? Love can carry upon its back a whole mountain-range!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رومی آن عشق و محبت را دلیل

تشنه کامان را کلامش سلسبیل

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 6 - حرکت به وادی یرغمید که ملائکه او را وادی طواسین می‌نامند

اگلی نظم

از تو مخلوقات من نالان چو نی

از تو ما را فرودین مانند دی

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 8 - طاسین زرتشت: آزمایش کردن اهریمن زرتشت را

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور