صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک قمر
  4. »بخش 9 - طاسین مسیح: رویای حکیم طالسطایی

بخش 9 - طاسین مسیح: رویای حکیم طالسطایی

طاسین مسیح: حکیم طالسطائی کا رؤیا

Tasin of Christ

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
رویای حکیم تولستوی
Toggle stanza 1
11

در میان کوهسار هفت مرگ

وادی بی طایر و بی شاخ و برگ

کوہسار ہفت مرگ کے اندر ایک ایسی وادی ہے جس میں نہ تو کوئی پرندہ ہے اور نہ کوئی درخت اور سبزہ ہی ہے ۔

In the midst of the mountain-range of Seven Deaths is a valley where no bird stirs, no branches, no leaf;

22

تاب مه از دود گرد او چو قیر

آفتاب اندر فضایش تشنه میر

چاند کی روشنی اس کے گرد دھوئیں کے باعث تارکول کی سی سیاہ ہو گئی ہے اور سورج اس کی فضا میں پیاسا مر جاتا ہے ۔

The smoke encircling it turns the moon’s light to pitch, the sun in its broad heavens seems dying of thirst.

33

رود سیماب ، اندر آن وادی روان

خم به خم مانند جوی کهکشان

اس وادی کے اندر پارے کی ندی بہ رہی ہے جو کہکشاں کی نہر کی مانند بل کھاتی ہوئی رواں ہے ۔

A river of quicksilver flows through that valley meandering like the stream of the Milky Way.

44

پیش او پست و بلند راه هیچ

تند سیر و موج موج و پیچ پیچ

اس ندی کے لیے راستے کی اونچائی اور پستی کوئی چیز نہیں ۔ وہ تیز بہنے والی اور موج در موج اور بل اور بل کھاتی ہوئی ہے ۔

Before it the hollows and heights of the road are nothing, so swift its current, wave on wave, twist on twist.

55

غرق در سیماب مردی تا کمر

با هزاران ناله های بی اثر

اس ندی کے پارے میں ایک آدمی کمر تک ڈوبا ہوا تھا جو ہزاروں بے اثر نالے کر رہا تھا ۔

A man stood, drowned up to his waist, in that quicksilver uttering a thousand ineffectual laments,

66

قسمت او ابر و باد و آب نی

تشنه و آبی به جز سیماب نی

اس کی قسمت میں نہ کوئی بادل تھا نہ کوئی ہوا اور نہ پانی تھا ۔ وہ پیاسا مگر پارے کے سوا کوئی پانی نہ تھا ۔

Rain, wind and water were not his portion – athirst he, and no water save the quicksilver.

77

برکران دیدم زنی نازک تنی

چشم او صد کاروان را رهزنی

میں نے کنارے پر ایک نازک بدن عورت دیکھی جس کی آنکھیں سینکڑوں قافلوں کی رہزن تھیں ۔

On the bank I espied a slim-bodied woman whose eyes would have waylaid a hundred caravans,

88

کافری آموز پیران کنشت

از نگاهش زشت خوب و خوب زشت

وہ حسینہ راہبوں ، پادریوں کو کافری سکھاتی تھی ۔ اس کی نگاہ سے برا اچھا اور اچھا برا بن جاتا تھا ۔

One that taught infidelity to the Church-elders, her glance turned ugly to beautiful, beautiful to ugly.

99

گفتمش تو کیستی نام تو چیست

این سراپا ناله و فریاد کیست

میں نے اس سے پوچھا کہ تو کون ہے اور تیرا نام کیا ہےاور یہ جو سراپا پرنالہ و فریاد بنا ہوا ہے کون ہے

I said to her, ‘Who are you? What is your name? What is this utter lamentation and weeping?’

1010

گفت در چشمم فسون سامری است

نامم افرنگین و کارم ساحری است

اس نے کہا کہ میری آنکھوں میں سامری کا جادو ہے ۔ میرا نام افرنگین ہے اور میرا کام جادوگری ہے ۔

She said, ‘In my eye is the spell of the Samiri; my name is Ifrangin, my profession is wizardry.’

1111

ناگهان آن جوی سیمین یخ ببست

استخوان آن جوان در تن شکست

اچانک وہ چاندی کی طرح سفید ندی جمی ہوئی برف بن گئی اور اس میں غرق جوان کی ہڈیاں اس کے جسم میں ٹوٹ گئیں ۔

All of a sudden that silvery stream froze, the bones of that youth broke in his body.

1212

بانگ زد ای وای بر تقدیر من

وای بر فریاد بی تأثیر من

وہ جوان چلایا کہ افسوس ہے میری تقدیر پر اور میری اس بے اثر فریاد پر ۔

He cried aloud, ‘Alas, alas for my destiny! Alas for my ineffectual lamentation!’

1313

گفت افرنگین «اگر داری نظر

اندگی اعمال خود را هم نگر

اس جوان سے افرنگین کہنے لگی کہ اگر تو صاحب نظر ہے تو ذرا اپنے اعمال کو بھی دیکھ ۔

Ifrangin said, ‘If you have eyes to see, look a little also at your own deeds.

1414

پور مریم آن چراغ کائنات

نور او اندر جهات و بی جهات

مریم کا بیٹا جو کائنات کا چراغ تھا جس کا نور مکان اور لامکان میں ہے ۔

The Son of Mary, that Lamp of all creation whose light lit up the world dimensioned and undimensioned.

1515

آن فلاطوس آن صلیب آن روی زرد

زیر گردون تو چه کردی او چه کرد

اس فلاطوس، اس صلیب اور اس زرد چہرے کو دیکھ ، آسمان تلے تونے کیا کیا اور اس نے کیا کیا ۔

That Pilate, and that cross, that pallid face – what wrought you, what wrought he beneath the skies!

1616

ای بجانت لذت ایمان حرام

ای پرستار بتان سیم خام

اے وہ جوان جس کی تیری جان پر ایمان کی لذت حرام ہے تو جو کچی چاندی کے بتوں کا پجاری ہے ۔

You, to whose soul the joy of faith is forbidden, worshipper of idols fashioned of raw silver,

1717

قیمت روح القدس نشناختی

تن خریدی نقد جان در باختی»

تو نے روح القدس کی قدروقیمت نہ پہچانی تو نے جسم خریدا اور روح کو ہار دیا ۔

You did not know the worth of the Holy Spirit, you bought the body, gambled away the soul!’

1818

طعنهٔ آن نازنین جلوه مست

آن جوان را نشتر اندر دل شکست

حسن کے جلوے میں مست اس نازنین کا طعنہ اس جوان کے دل میں نشتر کی طرح ٹوٹ گیا (اس کے دل پر افسوسناک اثر ہوا) ۔

The reproach of that fair woman, drunken with blandishment, was a lancet that pierced the youth’s heart.

1919

گفت «ای گندم نمای جو فروش

از تو شیخ و برهمن ملت فروش

وہ نوجوان بولا، اے گندم دکھا کر جو بیچنے والی فریبی حسینہ تیری وجہ سے شیخ اور برہمن ملت فروش بن چکے ہیں ۔

He said, ‘You who display wheat and sell barley, because of you Shaikh and Brahmin sell their own country.

2020

عقل و دین از کافریهای تو خوار

عشق از سوداگریهای تو خوار

تیری کافری سے عقل اور دین خوار ہو گئے ہیں ، تیری سوداگری نے عشق کو ذلیل و رسوا کر دیا ہے ۔

Your infidelities have debased reason and religion, your profit-mongerings have cheapened love.

2121

مهر تو آزار و آزار نهان

کین تو مرگ است و مرگ ناگهان

تیری محبت ایک بیماری ہے اور بیماری بھی ایسی جو پوشیدہ ہے ۔ تیری دشمنی موت ہے اور موت بھی ایسی جو اچانک واقع ہوتی ہے ۔

Your love is torment, and secret torment at that; your hatred is death, and sudden death at that!

2222

صحبتی با آب و گل ورزیده ئی

بنده را از پیش حق دزدیده ئی

تو نے دنیا سے صحبت اختیار کر رکھی ہے اور بندے کو اللہ کے حضور سے چرا لائی ہے ۔

You have associated with water and clay, you have stolen away God’s servant from Him.

2323

حکمتی کو عقدهٔ اشیا گشاد

با تو غیر از فکر چنگیزی نداد

وہ حکمت جس نے اشیا کی گتھی سلجھائی ، اس نے تجھے چنگیزی سوچ کے علاوہ اور کچھ نہ دیا ۔

Wisdom, which loosened the knots of things, to you has given only thoughts of devastation.

2424

داند آن مردی که صاحب جوهر است

جرم تو از جرم من سنگین تر است

جو بھی کوئی حقیقت شناس ہے وہ یہ جانتا ہے کہ تیرا جرم میرے جرم سے زیادہ سنگین ہے ۔

That man whose substance is true knows well your crime is heavier than my crime.

2525

از دم او رفته جان آمد بتن

از تو جان را دخمه میگردد بدن

اس حضرت عیسیٰ کی پھونک سے بدن سے نکلی ہوئی جان پھر بدن میں آ جاتی تھی ۔ جبکہ تیری وجہ سے بدن جان کے لیے قبر بن گیا ہے ۔ پہلے مصرع میں حضرت عیسیٰ کے معجزہ کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دم سے مردہ زندہ ہو جایا کرتا تھا ۔

His breath restored the departed soul to the body; you make the body a mausoleum for the soul.

2626

آنچه ما کردیم با ناسوت او

ملت او کرد با لاهوت او

جو کچھ ہم نے اس (حضرت عیسی ) کے جسم کے ساتھ کیا ان کی ملت نے ان کی روح کے ساتھ وہی کچھ کیا ۔

What we have done unto His humanity His community has done unto His divinity.

2727

مرگ تو اهل جهان را زندگی است

باش تا بینی که انجام تو چیست»

تیری موت اہلِ جہان کے لیے زندگی ہے ۔ تو ذرا ٹھہر پھر تجھے اپنا انجام معلوم ہو جائے گا ۔

Your death is life for the people of the world: wait now, and see what your end shall be!’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از تو مخلوقات من نالان چو نی

از تو ما را فرودین مانند دی

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 8 - طاسین زرتشت: آزمایش کردن اهریمن زرتشت را

اگلی نظم

سینهٔ ما از محمد داغ داغ

از دم او کعبه را گل شد چراغ

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک قمر»بخش 10 - طاسین محمد: نوحهٔ ابوجهل در حرم کعبه

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور