طاسین محمد: حرم کعبہ میں ابو جہل کی روح کا نوحہ۔
Tasin of Mohammed
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
سینهٔ ما از محمد داغ داغ
از دم او کعبه را گل شد چراغ
ہمارا سینہ محمد کی وجہ سے داغ داغ ہے ۔ آپ کی پھونک سے کعبہ کا چراغ بجھ گیا ۔
My breast is riven and anguished by this Mohammed; his breath has put out the burning lamp of the Kaaba.
از هلاک قیصر و کسری سرود
نوجوانان را ز دست ما ربود
آپ نے قیصر و کسریٰ کی تباہی و بربادی کی بات کی اور نوجوانوں کو ہم سے چھین لیا ہے ۔
He has sung of the destruction of Caesar and Chosroes, he has stolen away from us our young men.
ساحر و اندر کلامش ساحری است
این دو حرف لااله خود کافری است
آپ جادوگر ہیں اور آپ کے کلام میں جادوگری ہے ۔ یہ جو لا الہ کے دو الفاظ ہیں بجائے خود کافری ہیں (آپ نے سحر کلام سے توحید کا نغمہ بلند کیا) ۔
He is a wizard, and wizardry is in his speech: these two words ‘One God’ are very unbelief.
تا بساط دین آبا در نورد
با خداوندان ما کرد آنچه کرد
جب آپ نے ہمارے آبا کے دین کی بساط لپیٹ دی ہے تو آپ نے ہمارے خداؤں کے ساتھ وہ کیا جو ناقابل بیان ہے
So he has rolled up the carpet of our fathers’ faith and has done with our Lord Gods what he has done.
پاش پاش از ضربتش لات و منات
انتقام از وی بگیر ای کائنات
آپ کی ضرب سے لات و منات جیسے بت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ۔ اے کائنات تو آپ سے اس کا بدلہ لے ۔
The blow of his fist has scattered Lat and Manat: take vengeance upon him, you created beings!
دل به غایب بست و از حاضر گسست
نقش حاضر را فسون او شکست
آپ نے غیب سے دل لگایا اور حاضر یعنی سامنے رکھے ہوئے بتوں سے دل ہٹا لیا ۔
He bound his heart to the invisible, broke with the visible, his incantation shattered the living, present image.
دیده بر غایب فرو بستن خطاست
آنچه اندر دیده می ناید کجاست
غیب پر نگاہ جمائے رکھنا غلطی ہے ۔ وہ جو نظر ہی نہیں آتا وہ کہاں ہے یعنی اس کا وجود نہیں ہے ۔
It is wrong to attach the eye to the invisible; that which comes not into sight-wherever is it?
پیش غایب سجده بردن کوری است
دین نو کور است و کوری دوری است
غیب کے آگے سجدہ کرنا اندھے پن کی علامت ہے ۔ یہ نیا دین (دین اسلام) اندھا ہے اور یہ اندھا پن حقیقت سے دور لے جاتا ہے ۔
It is blindness to make prostration to the invisible; the new religion is blindness, and blindness is remoteness.
خم شدن پیش خدای بی جهات
بنده را ذوقی نبخشد این صلوت
بے جہات خدا، لاثانی خدا کے آگے جھکنا (جو سجدے کی علامت ہے ) یہ ایسی نماز ہے جو بندے کو ذوق عطا نہیں کرتی ۔
To bend double before an undimensioned God such prayers bring no joy to the worshipper.
مذهب او قاطع ملک و نسب
از قریش و منکر از فضل عرب
آپ کا مذہب (اسلام) ملک اور خاندان کی جڑیں کاٹ دیتا ہے ۔ آپ کا تعلق قریش خاندان سے ہے اور آپ عرب کی فضیلت کے منکر ہیں ۔
His creed cuts through the rulership and lineage of Koraish, denies the supremacy of the Arabs;
در نگاه او یکی بالا و پست
با غلام خویش بر یک خوان نشست
آپکی نگاہ میں اعلیٰ اور ادنیٰ سبھی ایک برابر ہیں ۔ آپ اپنے غلام کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے ہیں ۔
In his eyes lofty and lowly are the same thing he has sat down at the same table with his slave.
قدر احرار عرب نشناخته
با کلفتان حبش در ساخته
آپنے عرب کے آزاد لوگوں کی قدر نہیں پہچانی ۔ آپ نے حبشہ کے سیاہ فام لوگوں سے موافقت اختیار کر لی ۔
He has not recognized the worth of the noble Arabs but associated with uncouth Abyssinians;
احمران با اسودان آمیختند
آبروی دودمانی ریختند
آپ نے گوروں کو کالوں کے ساتھ ملا دیا اور خاندان کی وقعت ختم کر دی ۔
Redskins have been confounded with blackskins, the honour of tribe and family has been destroyed.
این مساوات این مواخات اعجمی است
خوب میدانم که سلمان مزدکی است
یہ برابری اور یہ بھائی چارا غیر عرب لوگوں کا نظریہ ہے ۔ میں ابوجہل اچھی طرح جانتا ہوں کہ سلمان ، مزدک کا پرستار ہے (غیر عرب ہے ) ۔
This equality and fraternity are foreign things – I know very well that Salman is a Mazdakite;
ابن عبدالله فریبش خورده است
رستخیزی بر عرب آورده است
عبداللہ کے بیٹے (حضور اکرم ) نے اس نظریے کا فریب کھایا ہے اور یوں عرب میں قیامت برپا کر دی ہے ۔
The son of Abdullah has been duped by him and he has brought disaster upon the Arab people.
عترت هاشم ز خود مهجور گشت
از دو رکعت چشم شان بی نور گشت
ہاشم کے خاندان والے اپنے نسب سے ہی دور ہو گئے ہیں ۔ دو رکعتوں کی نماز سے ان کی آنکھیں بے نور ہو گئی ہیں ۔
Hashim’s progeny have become estranged one from another, a couple of prayers have utterly blinded them.
اعجمی را اصل عدنانی کجاست
گنگ را گفتار سحبانی کجاست
اسلام نے غیر عربوں کے برابر تو کر دیا ہے لیکن یہ بھی تو معلوم ہو کہ غیر عرب کی عدنانی اصل کہاں ہے ۔ بھلا ایک گونگے آدمی میں سبحانی جیسا فصیح انداز گفتگو کیونکر پیدا ہو سکتا ہے ۔
What is alien stock, compared with the Adnani, what betokens Sahbani speech to the barbarian?
چشم خاصان عرب گردیده کور
بر نیائی ای زهیر از خاک گور
عرب کے خاص لوگوں کی آنکھ اندھی ہو گئی ہے ۔ اے زہیر تو خاکِ قبر سے باہر کیوں نہیں نکل آتا
The eyes of the elect of the Arabs have been darkened; will you not rise up, Zuhair, from the dust of the tomb?
ای تو ما را اندرین صحرا دلیل
بشکن افسون نوای جبرئیل
اے کہ تو ہمارے لیے اس صحرا میں رہنما ہے باہر آ اور جبرئیل کی نوا کا جادو توڑ دے ۔
You who are for us a guide through this desert, shatter the spell of the chant of Gabriel!
باز گوی ای سنگ اسود باز گوی
آنچه دیدیم از محمد باز گوی
تو پھر کہہ اے سنگ اسود پھر کہہ ۔ ہم نے محمدسے جو کچھ دیکھا ہے وہ تو پھر کہہ ۔
Tell again, you Black Stone, now tell again, tell again what we have suffered through Mohammed!
ای هبل ، ای بنده را پوزش پذیر
خانهٔ خود را ز بی کیشان بگیر
اے ہبل ، تو جو بندوں کی معذرت و معافی قبول کرنے والا ہے بے دینوں سے اپنا گھر واپس لے ۔
Hubal, thou who acceptest the excuses of thy servants, seize back thy temple from the irreligious ones;
گلهٔ شان را به گرگان کن سبیل
تلخ کن خرمایشان را بر نخیل
ان کے بھیڑوں کے ریوڑ کو بھیڑوں کے سپرد کر دے اور کھجور کے درخت پر جو کھجوریں ہیں ان کو ان کے لیے کڑوی بنا دے ۔
Expose their flock unto the ravening wolves, make their dates bitter upon the palm-tree!
صرصری ده با هوای بادیه
«انهم اعجاز نخل خاویه»
تو ان پر صحرا کی ہوا کو تیز اور زہریلی گرم ہوا بنا کر بھیج تا کہ وہ اس طرح گر جائیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے گرتے ہیں ۔
Let loose a burning wind on the air of the desert as if they were stumps of fallen-down palm-trees
ای منات ای لات ازین منزل مرو
گر ز منزل میروی از دل مرو
اے منات اور اے لات، اس منزل (کعبہ) سے نہ جاوَ (نہ نکلو) ۔
O Manat, O Lat, go not forth from this abode, or if you leave this abode, go not from our hearts!
ای ترا اندر دو چشم ما وثاق
مهلتی ، ان کنت ازمعت الفراق»
اے وہ (لات و منات) کہ ہماری آنکھوں کے اندر تمہارا گھر ہے، اگر تم نے ہم سے جدا ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے پھر بھی تھوڑی دیر کے لیے تو رک جاوَ ۔
You who have forever a lodging in our eyes, tarry a little, if you intend to depart from me.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور