شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
به منزل کوش مانند مه نو
درین نیلی فضا هر دم فزون شو
نئے چاند کی طرح منزل کو پانے کی کوشش کرتے رہو ۔ اس نیلی فضا میں ہر لمحہ بڑھتے رہو ۔
Be nearer to the aim like a moon new, Seek the higher heights with efforts anew.
مقام خویش اگر خواهی درین دیر
به حق دل بند و راه مصطفی رو
اگر تو اس جہان میں اپنا مقام پانا چاہتا ہے تو اللہ سے دل لگا اور حضرت محمد ﷺ کے راستے پرچلو (ان کی شریعت اور اسوہَ حسنہ کو اختیار کرو) ۔
A place in this lane if you wish to make, Make a tie with God in the Prophet’s wake.
چو موج از بحر خود بالیده ام من
بخود مثل گهر پیچیده ام من
میں اپنے سمندر سے لہر کی طرح ابھرتا ہوں ۔ میں موتی کی طرح اپنے آپ سے الجھتا ہوں ۔
My self’s own sea gave a rise to me, It sharpen’d my wits like pearls in sea.
از آن نمرود با من سر گران است
به تعمیر حرم کوشیده ام من
دور حاضر کا نمرود (انگریز) ا س لیے مجھ سے ناراض ہے کیونکہ میں نے کعبہ کی تعمیر کی کوشش کی ہے ۔ یعنی اپنے کلام کے ذریعے مسلمانوں میں ازسر نو اسلام کی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔
On me that ‘Nimrod’ is boiling with rage. Fm trying to build up ‘Harem’s’ image.
بیا ساقی بگردان ساتگین را
بیفشان بر دو گیتی آستین را
اے ساقی آ اور شراب کے بڑے پیالے کو گردش میں لا ۔ اپنی آستین کو دونوں جہانوں سے بے نیاز کر دے ۔
Come O’ bearer and move the cup of Wine, And leave the worlds both under long veils line,
حقیقت را به رندی فاش کردند
که ملا کم شناسد رمز دین را
کارکنان قضا و قدر نے حقیقت کو ایک رند پر ظاہر کر دیا ۔ ملا دین کی باتوں کو نہیں پہچانتا ۔
He raised all the curtains before this sot, The codes of His Path the ‘Mullah’ knew not.
بیا ساقی نقاب از رخ برافکن
چکید از چشم من خون دل من
اے ساقی آ، میرے چہرے سے چہرہ اٹھا دے یعنی حجاب اٹھا دے ۔ میری آنکھ سے میرے دل کا خون ٹپک رہا ہے ۔
Come O’ bearer and raise the veils aside, Cause my heart’s blood’ dripping from the eyes side.
به آن لحنی که نه شرقی نه غربی است
نوائی از مقام «لاتخف» زن
اس زبان (قرآن کی زبان) سے جو نہ شرقی ہے اور نہ مغربی ۔ لا تخف کے مقام سے صدا پیدا کر ۔ مراد کہ قرآن کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے وقت کے فرعونوں سے جہاد کر ۔
From a tone which gives no East or West trace, Send a ‘no fear note’ from the ‘no fear place.’
برون از سینه کش تکبیر خود را
بخاک خویش زن اکسیر خود را
اپنے سینے سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر ۔ اپنی مٹی میں اکسیر کا سا عمل پیدا کر ۔
Raise from thy bosom a ‘Call of God Great’, Hit thy own exir on thy dusty fate.
خودی را گیر و محکم گیر و خوش زی
مده در دست کس تقدیر خود را
اپنے اندر خودی پیدا کر، پھر اسے مضبوط بنا اور تو خوشی سے زندگی گزار ۔ اپنی تقدیر کو کسی کے ہاتھ میں نہ دے ۔
Gaurd thy ego ever, lead a life nice, To none give thy luck at any great price.
مسلمان از خودی مرد تمام است
بخاکش تا خودی میرد غلام است
خودی کی وجہ سے مسلمان ایک مکمل مرد ہے ۔ جب اس کی مٹی سے خود ی مر جاتی ہے تو غلام بن جاتا ہے ، مراد نفس کا غلام بن جاتا ہے ۔
From self a Muslim is man perfect He is slave when it dies in heart in fact.
اگر خود را متاع خویش دانی
نگه را جز بخود بستن حرام است
اگر تو خود کو سرمایہ جانتا، سمجھتا ہے تو اپنے سوا کسی دوسرے پر نظر رکھنا حرام ہے ۔
If you take thy ‘self’, ‘a priceless’ lot, To look save Thee is a tabood thought.
مسلمانان که خود را فاش دیدند
به هر دریا چو گوهر آرمیدند
وہ مسلمان جنھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح دیکھ لیا ۔ وہ جس دریا میں اترے وہ اس میں موتی کی طرح پرسکون رہے ۔
As long the Muslim, in self can peep, Like pearls they rest in the oceans deep.
اگر از خود رمیدند اندرین دیر
بجان تو که مرگ خود خریدند
اگر وہ اس بت خانہ دنیا میں اپنے آپ سے دور اور بیگانہ رہے، تو تیری جان کی قسم انھوں نے اپنے ہاتھوں اپنی موت خریدی
From ego if you ran in this fane, Your own death you buy for life’s bargain.
گشودم پردهء از روی تقدیر
مشو نومید و راه مصطفی گیر
میں نے تقدیر کے چہرے سے نقاب ہٹایا ہے ۔ اے مسلمان مایوس نہ ہو اور مصطفی کا راستہ اختیار کر ۔
The veils of thy fortune lo! I ope, Take the Prophet’s path give up no hope.
اگر باور نداری آنچه گفتم
ز دین بگریز و مرگ کافری میر
اگر تو اس پر یقین نہیں رکھتا جو کچھ بھی میں نے کہا تو اے مسلم دین اسلام سے بھاگ اور کافر کی موت مر ۔
If you believe not whatever I say, Give up the faith and die in Kafir’s way.
به ترکان بسته درها را گشادند
بنای مصریان محکم نهادند
اہل ترک پر ترقی کے بند دروازے کھول دیے گئے ہیں ۔ اہل مصر کی بنیاد کو بھی مضبوط اور مستحکم کر دیا گیا ہے ۔
Now all the shut doors for Turks are ope. The Egypt’s base would be firm I hope.
تو هم دستی بدامان خودی زن
که بی او ملک و دین کس را ندادند
تو بھی اپنے ہاتھ سے خودی کے دامن کو پکڑ لے کیونکہ اس کے بغیر ملک و دین کسی کو نہیں دیا گیا ۔
You give a rap too at the Ego’s door, None knew without it his faith and land’s lore.
هر آن قومی که می ریزد بهارش
نسازد جز به بوهای رمیده
ہر وہ قوم جس کے باغ کی بہار جا چکی ہے یعنی جو زوال کا شکار ہو چکی ہے ۔ وہ سوائے اڑ جانے یا ختم ہو جانے والی خوشبووَں کے کسی سے موافقت نہیں رکھتی ۔
A nation whose spring falls to decay, She always craves for the good old days.
ز خاکش لاله می روید ولیکن
قبائی دارد از رنگ پریده
اس کی خاک سے لالہ اگتا ہے لیکن اس کی قبا (لالے کا سرخ لباس) ا رنگ اڑنے والا ہے ۔ یعنی اس کی خوبصورتی عارضی ہے ۔
A poppy grows though from her dusty gems, It also takes a gown of fading stems.
خدا آن ملتی را سروری داد
که تقدیرش به دست خویش بنوشت
خدا نے اس قوم کو حاکمیت ودیعت کی ہے جس نے اپنی تقدیر اپنے ہاتھ سے لکھی ہے ۔
God gave that nation a sway o’er lands, Who shaped her fortunes with her hands.
به آن ملت سروکاری ندارد
که دهقانش برای دیگران کشت
وہ خدا اس قوم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا جس کے کسان دوسروں کے لیے کھیتی باڑی کرتے ہیں ۔
With that nation he keeps no links. Whose farmer tills for other’s drinks.
ز رازی حکمت قرآن بیاموز
چراغی از چراغ او بر افروز
اے مسلمان رازی سے قرآن کی حکمت سیکھ، اس کے علم کے چراغ سے اپنا چراغ روشن کر ۔
From Razi thus learn the Quran’s insight, From his lamp he lit up his own lamp’s light.
ولی این نکته را از من فرا گیر
که نتوان زیستن بی مستی و سوز
لیکن اس بات کی باریکی کو مجھ سے سمجھ ۔ کیونکہ عشق کی مستی اور حرارت کے بغیر زندگی نہیں گزاری جا سکتی ۔
But a point from me you must learn hence, That can’t be life, lacking flame and trance.
زمین
شبی چون مه نمودی روی نیکو
برآمد نعره از انجم که ما هو
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 798
دلا کام از لبش با چشم تر جو
والا لم تجد ما کنت ترجو
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 800
در این رقص و در این های و در این هو
میان ماست گردان میر مه رو
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2188
من از دست کمانداران ابرو
نمییارم گذر کردن به هر سو
سعدیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 479
پدر گفتش که چون زر سایه افکند
ترا از گوهر و از پایه افکند
عطارالهی نامهبخش بیستمجواب پدر