شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
کسی کو بر خودی زد «لااله» را
ز خاک مرده رویاند نگه را
جو شخص لا الہ کو خودی کی زد (کسوٹی) پر لگا لیتا ہے ۔ مردہ مٹی سے خودی والی نگاہ حاصل کر لیتا ہے ۔
Who makes Ego firm by ‘Layla’s tie, From lifeless sands can make a seeing eye.
مده از دست دامان چنین مرد
که دیدم در کمندش مهر و مه را
تو اپنے ہاتھ سے اس طرح کے مرد (جو خودی سے آشنا ہو) کا دامن نہ چھوڑنا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ چاند اور سورج پر کمند ڈالتا ہے (وہ باذن اللہ زمانے کی گردش پلٹ سکتا ہے ۔ تقدیر بدل سکتا ہے ) ۔
Lose not ever that man’s greatest boon, In whose reach I see the Sun and Moon.
تو ای نادان دل آگاه دریاب
بخود مثل نیاکان راه دریاب
اے بے وقوف انسان تو آگاہی رکھنے والا بڑا دل پیدا کر ۔ بزرگوں کی طرح خود کو بڑے راستے سے آشنا کر ۔
O ignorant man get a knowing heart, In wake of thy elders learn thy own part.
چسان مؤمن کند پوشیده را فاش
ز «لا» موجود «الا الله» دریاب
ایک مومن کس طرح چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں سے حقیقت سے آشنائی کر ۔
Flow can a ‘momin’ tell His Secret act, From ‘La’ got the Allah’s positive fact’.
دل تو داغ پنهانی ندارد
تب و تاب مسلمانی ندارد
تیرا دل چھپے ہوئے داغ یا اسرار نہیں رکھتا اور تیرا دل مسلمان کی چمک دمک نہیں رکھتا ۔
Thy heart keeps not that hidden scar. A Muslim’s shine it lacks so far.
خیابان خودی را داده ئی آب
از آن دریا که طوفانی ندارد
خودی کے باغ کی روشوں کو اس دریا سے پانی دے جو عشق کا کوئی طوفان نہیں رکھتا ۔
You always water the Soil of Ego, From a lake which knows no furious flow: