صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور ملت
  4. »بخش 2 - خودی

بخش 2 - خودی

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: هرا

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
1

کسی کو بر خودی زد «لااله» را

ز خاک مرده رویاند نگه را

جو شخص لا الہ کو خودی کی زد (کسوٹی) پر لگا لیتا ہے ۔ مردہ مٹی سے خودی والی نگاہ حاصل کر لیتا ہے ۔

Who makes Ego firm by ‘Layla’s tie, From lifeless sands can make a seeing eye.

2

مده از دست دامان چنین مرد

که دیدم در کمندش مهر و مه را

تو اپنے ہاتھ سے اس طرح کے مرد (جو خودی سے آشنا ہو) کا دامن نہ چھوڑنا کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ چاند اور سورج پر کمند ڈالتا ہے (وہ باذن اللہ زمانے کی گردش پلٹ سکتا ہے ۔ تقدیر بدل سکتا ہے ) ۔

Lose not ever that man’s greatest boon, In whose reach I see the Sun and Moon.

بند 2
Toggle stanza 2
3

تو ای نادان دل آگاه دریاب

بخود مثل نیاکان راه دریاب

اے بے وقوف انسان تو آگاہی رکھنے والا بڑا دل پیدا کر ۔ بزرگوں کی طرح خود کو بڑے راستے سے آشنا کر ۔

O ignorant man get a knowing heart, In wake of thy elders learn thy own part.

4

چسان مؤمن کند پوشیده را فاش

ز «لا» موجود «الا الله» دریاب

ایک مومن کس طرح چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں سے حقیقت سے آشنائی کر ۔

Flow can a ‘momin’ tell His Secret act, From ‘La’ got the Allah’s positive fact’.

بند 3
Toggle stanza 3
5

دل تو داغ پنهانی ندارد

تب و تاب مسلمانی ندارد

تیرا دل چھپے ہوئے داغ یا اسرار نہیں رکھتا اور تیرا دل مسلمان کی چمک دمک نہیں رکھتا ۔

Thy heart keeps not that hidden scar. A Muslim’s shine it lacks so far.

6

خیابان خودی را داده ئی آب

از آن دریا که طوفانی ندارد

خودی کے باغ کی روشوں کو اس دریا سے پانی دے جو عشق کا کوئی طوفان نہیں رکھتا ۔

You always water the Soil of Ego, From a lake which knows no furious flow:

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به منزل کوش مانند مه نو

درین نیلی فضا هر دم فزون شو

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 1 - به حق دل بند و راه مصطفی رو

اگلی نظم

اناالحق جز مقام کبریا نیست

سزای او چلیپا هست یا نیست

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 3 - انا الحق