شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
اناالحق جز مقام کبریا نیست
سزای او چلیپا هست یا نیست
انا الحق کہنا خدا کی بڑائی کے سوا (کسی کے لیے ) نہیں ہے ۔ اس کی سزا پھانسی ہے یا نہیں ہے ۔
A place of I am God is God’s own place. This sin takes to gallows or no disgrace?
اگر فردی بگوید سر زنش به
اگر قومی بگوید ناروا نیست
اگر ایک فرد انا الحق کہے اس کی سزا ہے اگر ایک قوم کہے تو جائز ہے ۔
If one man says this reprove at this wrong, If a nation says, then you get along.
به آن ملت اناالحق سازگار است
که از خونش نم هر شاخسار است
اس قوم کے لیے انا الحق کہنا موافق ہے کیونکہ اسکی ملت کے درخت کی ہر شاخ اسکے خون سے تر ہے ۔
I am the God suits to that nation lone, Whose blood’s moisture feels each branch grown.
نهان اندر جلال او جمالی
که او را نه سپهر آئینه دار است
وہ ملت جس کے اقتدار اور رعب میں فکر و خیال کی خوبصورتی چھپی ہوئی ہے اس کو یہ تو آسمان آئینے کی مانند ہیں (جن میں ہر چیز کا عکس واضح اور روشن نظر آتا ہے) ۔
In whose power hids a beauty queer, To him the nine heavens are servants clear.
میان امتان والا مقام است
که آن امت دو گیتی را امام است
ایسی ملت امتوں میں بلند مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ امت دونوں جہانوں کی پیشوا ہے ۔
Among nations large she holds a place great, That race is the leader of both worlds’ fate.
نیاساید ز کار آفرینش
که خواب و خستگی بر وی حرام است
ایسی ملت نئے انکشافات و تخلیقات کرنے سے تھکتی نہیں ۔ اس لیے نیند اور کاہلی و سستی اس پر حرام ہے ۔
From her novel acts, new miracles breed, To dream and weaken is banned in her creed.
وجودش شعله از سوز درون است
چو خس او را جهان چند و چون است
اس قوم کا وجود اندرونی سوز (عشق کی حرارت) سے شعلہ بن گیا ہے ۔ اس لیے اس کو یہ تخمین و ظن کا جہاں خس و خاشاک کی مانند ہے ۔
From her inner verve that race is a flame, To her the world charms is a worthless game.
کند شرح اناالحق همت او
پی هر «کن» که میگوید «یکون» است
اس قوم کا حوصلہ انا الحق کی تشریح کرتا ہے تو اس کے کن ہو جا کہنے پر فیکون ہو جاتا ہے ۔ یعنی ایسی قوم ایسے مقام پر فائز ہو جاتی ہے کہ اس کی زبان و دل نکلا ہوا ہر حرف پورا ہو جاتا ہے ۔
What means by I’m God her efforts define, Her each Kun (‘be’) says Yakun (‘become’) an object fine.
پرد در وسعت گردون یگانه
نگاه او به شاخ آشیانه
وہ قوم آسمانوں کی وسعتوں میں دوسروں سے الگ پرواز کرتی ہے ۔ اورر اس کی نگاہ گھونسلے کی شاخ پر ہوتی ہے ۔
Like a unique race thus she flies in space, With eyes ever set on her centre’s base.
مه و انجم گرفتار کمندش
بدست اوست تقدیر زمانه
چاند اور ستارے اس (انا الحق کے مقام پر موجود قوم) کی کمند کے اسیر ہوتے ہیں ۔ گویا زمانے کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔
The moon and stars in her lasso’s reach, Lies in her hand the fate of age each.
به باغان عندلیبی خوش صفیری
به راغان جره بازی زود گیری
ایسی قوم باغوں میں خوش آواز بلبل کی مانند ہوتی ہے ۔ یعنی دنیا میں امن و سکون کی علامت ہوتی ہے ۔ بیابانوں میں پرندوں پر جھپٹ کر حملہ کرنے والے شکاری باز کی طرح ہوتی ہے ۔ یعنی جنگ کے میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے ۔
In garden’s lawn he is song bird sweet, In jungles a hawk with ruthless heat.
امیر او به سلطانی فقیری
فقیر او به درویشی امیری
اس کے بادشاہ بادشاہی میں بھی فقیر اور اسکے فقیر درویشی میں بھی امیر ہوتے ہیں ۔
Her king in power is a poor man’s base, Her poor man in want has a kingly grace.
بجام نو کهن می از سبو ریز
فروغ خویش را بر کاخ و کو ریز
اپنے نئے پیالے سے پرانی شراب کو میرے نئے پیالے میں ڈال اپنی روشنی سے بلند عمارات اور گلی کوچوں کو فیض یاب کر ۔ یعنی اپنی پرانی روایات کو ازسر نو اپنا اور ایمان کی روشنی سے نئی نسل کو متعارف کروا ۔
Fill the old wine in the New Age bowl. Cast the self’s light on hills and lands whole.
اگر خواهی ثمر از شاخ منصور
به دل «لا غالب الا الله» فرو ریز
اگر تو منصور حلاج کی شاخ سے پھل (فائدہ) چاہتا ہے تو دل سے لا غالب الا اللہ کا قائل ہو جا ۔
If you wish to eat fruits from Mansoor’s bowl, Say none save Allah can rule the world whole.
زمین
نگارا، روز عیش و شادمانیست
هوای سبزه و صوت و اغانیست
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 161
طریق عشق جانا بی بلا نیست
زمانی بی بلا بودن روا نیست
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 104
به شبنم غنچهٔ نورسته می گفت
نگاه ما چمن زادان رسا نیست
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 131
تو می گوئی که من هستم خدا نیست
جهان آب و گل را انتها نیست
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 156