شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
قافیہ: مجوازمنکلامعارفانه
صنف: قطعه
مجو از من کلامی عارفانه
که من دارم سرشتی عاشقانه
مجھ سے عارفانہ شاعری کی خواہش نہ رکھ (تلاش نہ کر) کیونکہ میں عاشقانہ فطرت رکھتا ہوں ۔
Seek not of me the gnostic’s‐verse and prose, As I hold the nature of faithful beaux.
سرشک لاله گون را اندرین باغ
بیفشانم چو شبنم دانه دانه
میں اس (ملت کے) باغ میں لالہ کے پھول کے سرخ آنسو شبنم کی طرح دانہ دانہ کر کے بکھیر رہا ہوں ۔ یعنی اپنی شاعری کے ایک ایک لفظ کو ملت کے افراد کے ذہن و قلب میں سمو رہا ہوں ۔
The poppy like tears in this garden main, I am flowing like dew drops grain by grain.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور