شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
سحرگاهان که روشن شد در و دشت
صدا زد مرغی از شاخ نخیلی
صبح کے وقت جب رستے اور صحرا روشن ہو گئے تو کھجور کی شاخ پر بیٹھے ہوئے ایک مرغ نے آواز بلند کی ۔
When all the desert sides were bright from dawn, From tree a bird tuned to a youth in lawn.
فروهل خیمه ای فرزند صحرا
که نتوان زیست بی ذوق رحیلی
اے صحرا کے رہنے والے شخص خیمہ چھوڑ دے کیونکہ سفر کا لطف لیے بغیر زندگی گزاری نہیں جا سکتی ۔
O desert’s son! leave thy tent with haste, You lead a dull life which lacks journey taste.
عرب را حق دلیل کاروان کرد
که او با فقر خود را امتحان کرد
عرب لوگوں کو اللہ نے قافلے کی رہنمائی کرنے والا بنایا ہے ۔ کیونکہ اس نے اپنا احتساب (آزمائش) فقر کے ذریعے کیا ہے ۔
The Truth chose Arab for caravan’s lead, On faqr since he tested his own self’s breed.
اگر فقر تهی دستان غیور است
جهانی را ته و بالا توان کرد
اگر بے سروسامان لوگوں میں غیرت والا فقر پیدا ہو جائے تو اس سے ایک جہان کو تہ و بالا کیا جا سکتا ہے ۔
If the poor’s content with envy is green, His growth can upset the whole world’s scene.
در آن شبها خروش صبح فرداست
که روشن از تجلیهای سیناست
وہاں کی راتوں میں آنے والی کل کا شور و غل پایا جاتا ہے کیونکہ وہ وادی سینا کی تجلیوں سے روشن ہیں ۔
Those nights had the uproar for future’s dawn, Being lit up with light of the Sinai’s lawn.
تن و جان محکم از باد در و دشت
طلوع امتان از کوه و صحراست
صحرا اور بستیوں سے جسم اور روح دونوں مضبوط ہوتے ہیں ۔ دنیا میں آگے نکلنے والی قو میں صحرا اور پہاڑ سے ہی نکلتی ہیں ۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہَ صحرائی یا مرد کوہستانی
Thus the desert life made their brawns and brains, Arid nations arose Crom those desert lanes.
زمین
امیرالمؤمنین عمر رضی الله عنه در وقت خلافت خود در مدینه دیواری گل می کرد، یهودیی پیش وی تظلم کرد که حاکم بصره متاعی از من به صدهزار درم خریده است و در ادای ثمن آن تعلل می کند.
فرمود که کاغذ پاره ای داری؟ گفت: نی سفالی برداشت و بر آنجا نوشت که شکایت کنندگان از تو بی حسابند و شکرگزارندگان نایاب از موجبات شکایت بپرهیز یا از مسند حکومت برخیز و در آخر نوشت که کتبه عمر بن الخطاب.
جامیبهارستانروضهٔ سوم (در ذکر پادشاهان)بخش 14
یکی از لوازم صحبت آن است که خانه بپردازی یا با خانه خدای در سازی.
حکایت بر مزاج مستمع گوی
سعدیگلستانباب هشتم در آداب صحبتحکمت شمارهٔ 80