صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور ملت
  4. »بخش 9 - تو چه دانی که درین گرد سواری باشد

بخش 9 - تو چه دانی که درین گرد سواری باشد

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اگیر

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
11

دگر آیین تسلیم و رضا گیر

طریق صدق و اخلاص و وفا گیر

اے مسلمان ایک مرتبہ پھر تسلیم و رضا کو اپنا شعار بنا ۔ اور سچائی، محبت وخلوص اور وفا کے طریقے کو اپنا ۔

Learn the ways to win His pleasure and grace, Be truthful to Him and whole human race.

22

مگو شعرم چنین است و چنان نیست

جنون زیرکی از من فراگیر

یہ نہ کہہ کہ میرا شعر اس طرح اور اس طرح ہے ۔ یعنی تنقید نہ کر اور نہ ہی بے جا تحسین سے کام لے بلکہ میرے اس جنون سے دانائی یا حکمت حاصل کر ۔

Take me not poet in this or that sense, Look my passions depth from the wisdom’s lens.

بند 2
Toggle stanza 2
33

چمن‌ها زان جنون ویرانه گردد

که از هنگامه‌ها بیگانه گردد

اس جنون (عشق) سے باغات بھی ویران ہو جاتے ہیں کیونکہ (زندگی کو ) ہنگاموں سے اجنبی بنا دیتا ہے ۔

If a craze consumes the garden’s face, And saps its beauty and social grace.

44

ازآن هویی که افکندم درین شهر

جنون ماند ولی فرزانه گردد

میں ا س آہ و نالہ سے (عشق و مستی کو) اس شہر میں بھیجنے والا ہوں ۔ لیکن یہ جنوں سمجھداری رکھنے والا ہے یعنی ناکارہ انسان کو کارآمد انسان بنا دینے والا ہے ۔

I poured a verve and roar, in this town lanes, Will leave a craze yet to sharpen their brains.

بند 3
Toggle stanza 3
55

نخستین لاله صبح بهارم

پیا پی سوزم از داغی که دارم

میں صبح بہار کا پہلا لالے کا پھول ہوں جو اس داغ جو میں رکھتا ہوں مسلسل تڑپ رہا ہوں ۔

The poppy of my dawn’s first vernal tide, Is burning alone from a scar I hide.

66

بچشم کم مبین تنهائیم را

که من صد کاروان گل در کنارم

میری تنہائی کو تنگ نظری سے نہ دیکھ کیونکہ میرے پہلو میں سینکڑوں گلاب کے پھولوں کے قافلے موجود ہیں ۔

So under rate not my verve’s lone part, See caravans budding from my heart.

بند 4
Toggle stanza 4
77

پریشانم چو گرد ره گذاری

که بر دوش هوا گیرد قراری

میں راستے کی گرد کی طرح پریشان ہوں ۔ وہ حالت جو ہوا کے کندھوں پر سوار ہو یعنی بہت زیادہ بکھری ہوئی ۔

So scattered I’m like dust of the way, On the wings of storms I cannot stay.

88

خوشا بختی و خرم روزگاری

که بیرون آید از من شهسواری

وہ زمانہ کتنا خوش نصیب اور شاداب ہو گا جس میں مجھ سے کوئی شہ سوار (مومن) پیدا ہو گا ۔

How august and happy would be that day, When a ride is born from my own clay.

بند 5
Toggle stanza 5
99

خوش آن قومی پریشان روزگاری

که زاید از ضمیرش پخته کاری

وہ قوم جو زمانے کے مصائب کا شکار ہے خوش بخت ہے ۔ کیونکہ اس کے ضمیر سے مرد کامل پیدا ہونے والا ہے

How lucky a nation whom wheel of fate, Had caused a wonder through a leader great.

1010

نمودش سری از اسرار غیب است

ز هر گردی برون ناید سواری

اس (مرد کامل) کا ظاہر ہونا پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز ہے ۔ کیونکہ ہر اڑتی ہوئی گرد و غبار سے کوئی سوار ظاہر نہیں ہوتا ۔

His birth a secret of a secret hand, Who would change her fate in a manner grand.

بند 6
Toggle stanza 6
1111

به بحر خویش چون موجی تپیدم

تپیدم تا به طوفانی رسیدم

میں اپنے سمندر میں لہر کی طرح تڑپتا ہوں ۔ میں تڑپنے کی وجہ سے طوفان (خدائے واحد) سے آشنا ہو گیا ہوں ۔

In self’s own sea, I’m thus a restive’ wave, Till my waves in tempest to Coast would lave.

1212

دگر رنگی ازین خوشتر ندیدم

بخون خویش تصویرش کشیدم

میں نے اس سے بہتر (زندگی کا ) دوسرا کوئی رنگ نہیں دیکھا ۔ میں نے اس کی تصویر اپنے خون سے بنائی ہے ۔ یعنی خودی کی بدولت معرفت حق حاصل کرنا نہایت تگ و دو والا کام ہے ۔

I found no better cast than my own face, With my own blood his picture I trace.

بند 7
Toggle stanza 7
1313

نگاهش پر کند خالی سبوها

دواند می به تاک آرزوها

اس (مرد کامل) کی نگاہ شراب کے خالی پیالوں کو بھر دے گی ۔ ان کی خواہشات کی انگور کی بیل میں شراب دوڑا دے گی ۔

His glance would fill up the empty bowl, He runs the will’s wine in vine’s veins whole.

1414

ز طوفانی که بخشد رایگانی

حریف بحر گردد آب جوها

اس طوفان سے (مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے انعام) بلامعاوضہ ہی مل جائے گا ۔ نہریں (کمزور مسلمان) سمندر کا مقابلہ کرنے کی اہل ہو جائیں گی ۔

His storms and gales are a God gift free, He made a small brook, ‘rival of sea.

بند 8
Toggle stanza 8
1515

چو بر گیرد زمام کاروان را

دهد ذوق تجلی هر نهان را

جب (مرد کامل) قافلہ کی باگ دوڑ پکڑے گا تو ہر پوشیدہ کو تجلی کا ذوق و شوق عطا کر دے گیا ۔ یعنی چھپی ہوئی صلاحتیں ظاہر ہو جائیں گی ۔

The caravans reins he would take when, He gives vision taste to each hidden then.

1616

کند افلاکیان را آنچنان فاش

ته پا می کشد نه آسمان را

(مرد کامل) آسمانوں کے راز اس طرح ظاہر کرتا ہے جیسے پاؤں کے نیچے نو آسمانوں کو کھینچا جاتا ہے ۔

He makes so much bare the heavenly hosts That all nine skies would be tinder his force.

بند 9
Toggle stanza 9
1717

مبارکباد کن آن پاک جان را

که زاید آن امیر کاروان را

اس پاکیزہ روح (خاتون) کو مبارکباد دینا جو اس کارواں کے سردار کو پیدا کرے گی ۔

To that holy mother I greet with pride, From whom will be born the caravan’s guide.

1818

ز آغوش چنین فرخنده مادر

خجالت می دهم حور جنان را

ایسی خوشبخت ماں کی گود سے جنت کی حوروں کو شرمندگی عطا کر رہا ہوں ۔

On the lap of, ‘that’ fortunate dame, The paradise nymphs would feel a shame.

بند 10
Toggle stanza 10
1919

دل اندر سینه گوید دلبری هست

متاعی آفرین غارتگری هست

میرے سینے میں میرا دل کہہ رہا ہے کہ کوئی مرد کامل ضرور ہے ۔ دولت جتنی چاہے پیدا کر اس کو تباہ کرنے کے لیے کوئی ضرور ہے ۔

My heart thus says that the hero will hail, So gather you stocks as he would assail.

2020

به گوشم آمد از گردون دم مرگ

«شکوفه چون فرو ریزد بری هست»

میری موت کے وقت آسمان سے مجھے آواز آئی کہ جب کلی پودے سے گرتی ہے تو پھل پیدا ہوتا ہے ۔ یعنی میرے بعد کوئی رہنما ضرور آئے گا ۔

At death bed I heard a voice with zoom, When a flower fades a bud would bloom.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سحرگاهان که روشن شد در و دشت

صدا زد مرغی از شاخ نخیلی

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 8 - ای فرزند صحرا

اگلی نظم

عرب خود را به نور مصطفی سوخت

چراغ مردهٔ مشرق بر افروخت

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 10 - خلافت و ملوکیت

◆