غزل شمارهٔ 5081

Toggle stanza 1
شوخی که مرا هست تمنای وصالش
1

شوخی که مرا هست تمنای وصالش

وحشی تر از آهوی رمیده است خیالش

2

چشم و دل من تشنه حسنی است که از لطف

در آینه و آب نیفتاده مثالش

3

هر چند که گیرنده بود خون شهیدان

چون لاله بود داغدل از چهره آلش

4

گردید مه عید مرا ناخنه چشم

تا چشم من افتاد به ابروی هلالش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…