صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »طریق التحقیق
  3. »بخش 27 - حکایت

بخش 27 - حکایت

شاعر: سنایی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

صنف: مثنوی

Toggle stanza 1
1

اندر آن دم که مبدع اشیا

کرد نقش وجود را پیدا

2

قدسیان چشم بر تو بگشادند

حال را در تردد افتادند

3

یوسفی دیده‌اند زیبا روی

شاهدی دیده‌اند نیکوخوی

4

از عدم آمده به شهر وجود

کرده منزل به طالع مسعود

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تو اگر نیک نیکی اربدبد

بدونیک تو باتو باشد خود

سنایی»طریق التحقیق»بخش 26 - کما تعیشون تموتون وکما تموتون تحشرون

اگلی نظم

همه افتاده‌اند در تک و تاز

کرده بر تو زبان طعن دراز

سنایی»طریق التحقیق»بخش 28 - قالوا اتجعل فیها من یفسد فیها ویسفک الدماء

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور