شاعر
ابوالمجد مجدود بن آدم سنائی غزنوی (1070ء تا 1140ء) فارسی زبان کے ممتاز شاعر، عارف اور حکیم تھے۔ وہ غزنی میں پیدا ہوئے اور فارسی صوفیانہ شاعری کی ابتدائی اور مؤثر ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ سنائی نے فارسی ادب میں عرفان، اخلاق اور روحانی افکار کو جس وسعت اور گہرائی کے ساتھ شاعری کا موضوع بنایا، اس نے بعد کے عظیم شعرا، خصوصاً عطار، رومی اور سعدی پر گہرا اثر ڈالا۔
سنائی اپنے عہد کے علوم و فنون سے بخوبی واقف تھے، اور ان کے کلام سے دینی، فلسفیانہ اور ادبی علوم پر ان کی گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی تصانیف میں قصائد، غزلیات، قطعات، رباعیات، ترکیب بند اور ترجیع بند شامل ہیں، جبکہ ان کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کی مثنویاں ہیں۔ حدیقۃ الحقیقہ، طریق التحقیق، کارنامۂ بلخ، سیر العباد الی المعاد، عشق نامہ اور عقل نامہ ان کے نمایاں آثار میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے نام سے تین مکتوبات اور ایک نثری رسالہ بھی منسوب ہیں۔
سنائی کا انتقال 1140ء میں غزنی میں ہوا۔ فارسی ادب کی تاریخ میں انہیں صوفیانہ مثنوی کے اولین بڑے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے، اور ان کی شاعری آج بھی عرفانی ادب کے اہم ترین سرچشموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔