صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 142

غزل شمارهٔ 142

شاعر: سنایی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: رد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

لشکر شب رفت و صبح اندر رسید

خیز و مهرویا فراز آور نبید

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 141

اگلی نظم

معشوق مرا ره قلندر زد

زان راه به جانم آتش اندر زد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 143

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

طبّ جالینوس باشد کیر در کون تو برد

طبع صفراوی بود، لیمو در آن باید فشرد

سعدی»خبیثات و مجالس الهزل»خبیثات»شمارهٔ 14

طرفه می‌دارند یاران صبر من بر داغ و درد

داغ و دردی کز تو باشد خوشترست از باغ ورد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 162

در جهان با مردمان دانی که چون باید گذاشت

آن قدر عمری که دارد مردم آزاد مرد؟

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 53

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00