صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 162

غزل شمارهٔ 162

شاعر: سعدی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: رد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کس این کند که ز یار و دیار برگردد

کند هرآینه چون روزگار برگردد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 161

اگلی نظم

هر که می با تو خورد عربده کرد

هر که روی تو دید عشق آورد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 163

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

اقتدا بر عاشقان کن گر دلیلت هست درد

ور نداری درد گرد مذهب رندان مگرد

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 142

طبّ جالینوس باشد کیر در کون تو برد

طبع صفراوی بود، لیمو در آن باید فشرد

سعدی»خبیثات و مجالس الهزل»خبیثات»شمارهٔ 14

در جهان با مردمان دانی که چون باید گذاشت

آن قدر عمری که دارد مردم آزاد مرد؟

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 53

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00