صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 177

رباعی شمارهٔ 177

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انمیباید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

آنی که فدای تو روان می‌باید

پیش رخ تو نثار جان می‌باید

2

من هیچ ندانم که کرا مانی تو

ای دوست چنانی که چنان می‌باید

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یک روز دلت به مهر ما نگراید

دیوت همه جز راه بلا ننماید

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 176

اگلی نظم

گاهی فلکم گریستن فرماید

ناخفته دو چشم را عنا فرماید

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 178

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

عرفی نه مرا حاصل کان می باید

محصول زمین و آسمان می باید

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 121

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور