صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 121

رباعی شمارهٔ 121

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انمیباید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

عرفی نه مرا حاصل کان می باید

محصول زمین و آسمان می باید

2

آن کو به قناعت مثل آید، او را

گر هیچ نه، گنج شایگان می باید

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خوش آن که شراب همتم مست کند

آوازهٔ امید مرا پست کند

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 120

اگلی نظم

عرفی لب معنی ام دم از نور زند

آتش به نهاد شجر طور زند

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 122

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آنی که فدای تو روان می‌باید

پیش رخ تو نثار جان می‌باید

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 177

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور