شاعر
مولانا جمال الدین محمد عرفی شیرازی (1555ء تا 1590ء) فارسی زبان کے ممتاز شاعر اور سبکِ ہندی کے نمایاں نمائندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ شیراز میں پیدا ہوئے، جہاں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور ادب، موسیقی اور خوش نویسی میں مہارت پیدا کی۔ کم عمری ہی سے شاعری کی طرف ان کا رجحان نمایاں تھا، اور جلد ہی وہ شیراز کی ادبی محفلوں میں اپنی صلاحیتوں کے باعث معروف ہو گئے۔
جوانی میں عرفی ہندوستان روانہ ہوئے، جہاں انہیں فارسی زبان و ادب کے فروغ کے لیے سازگار ماحول ملا۔ ابتدا میں ان کی ملاقات نامور شاعر فیضی سے ہوئی، اور بعد ازاں حکیم ابوالفتح گیلانی کے توسط سے وہ عبدالرحیم خانِ خاناں اور مغل دربار کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہوئے۔ اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے جلد ہی ہندوستان میں نمایاں مقام حاصل کر لیا اور اکبر کے عہد کے ممتاز فارسی گو شعرا میں شمار ہونے لگے۔
عرفی کی اصل شہرت قصیدہ گوئی میں ہے۔ ان کے قصائد فکری بلندی، قوتِ بیان اور نادر مضمون آفرینی کے باعث فارسی ادب میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے غزل، رباعی، مثنوی اور قطعہ جیسے دیگر شعری اصناف میں بھی طبع آزمائی کی، لیکن قصیدہ نگاری میں ان کی مہارت نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز ترین شاعروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ان کا شمار سبکِ ہندی کی تشکیل اور ارتقا میں اہم کردار ادا کرنے والے شعرا میں ہوتا ہے۔
عرفی کی کلیات تقریباً چودہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ ان کی معروف تصانیف میں مثنویاں مجمع الابکار اور فرہاد و شیرین شامل ہیں، جبکہ تصوف کے موضوع پر نفسیہ کے نام سے ایک نثری رسالہ بھی ان سے منسوب ہے۔
عرفی شیرازی نے 1590ء میں لاہور میں وفات پائی۔ بعد ازاں ان کے جسدِ خاکی کو نجف منتقل کیا گیا۔