صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 337

غزل شمارهٔ 337

شاعر: صائب

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: امیبردمارا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چنان دانسته می باید درین دنیا نهی پا را

که بر موی میان مور در صحرا نهی پا را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 336

اگلی نظم

اگر غفلت نهان در سنگ خارا می‌کند ما را

جوانمردست درد عشق، پیدا می‌کند ما را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 338

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به خاک تیره آخر خودسری‌ها می‌برد ما را

چو آتش‌، گردن‌افرازی ته پا می‌برد ما را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 44

ز بزم وصل‌ خواهش‌های بی‌جا می‌برد ما را

چو گوهر موج ما بیرون دریا می‌برد ما را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 45

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00