شاعر
ملک الشعرا میرزا محمد علی صائب تبریزی (1592ء تا 1669ء) فارسی زبان کے نامور شاعر اور سبکِ ہندی کے سب سے نمایاں نمائندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ صفوی دور میں پیدا ہوئے اور فارسی شاعری میں مضمون آفرینی، نازک خیالی اور فکری جدت کے ایسے معمار ثابت ہوئے کہ بعد کے ناقدین نے انہیں "شاہِ سبکِ ہندی" کا لقب دیا۔ ان کی شاعری نے اس طرزِ سخن کو نئی جہتیں عطا کیں، یہاں تک کہ بعض اہلِ ادب نے ان کے اسلوب کو سبکِ صائب کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔
صائب نے جوانی میں اپنے عہد کے بہت سے اہلِ قلم کی طرح ہندوستان کا سفر کیا اور کئی برس وہاں قیام کیا۔ اس دوران انہیں برصغیر کی علمی و ادبی فضا سے استفادہ کا موقع ملا۔ بعد ازاں ایران واپس آ کر شاہ عباس دوم صفوی کے دربار سے وابستہ ہوئے اور ملک الشعرا کے منصب پر فائز ہوئے۔
صائب تبریزی کثیرالشعر شاعر تھے۔ ان کے اشعار کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، تاہم محققین عموماً ایک لاکھ اشعار کے قریب تعداد کو قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ ان کی اصل شہرت غزل گوئی میں ہے، اور ان کے بیشتر آثار اسی صنف میں ہیں۔ اگرچہ انہوں نے قصیدہ، مثنوی، قطعہ اور دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کی، لیکن ان کی فنی عظمت کا سب سے نمایاں اظہار غزل میں ہوا۔ آذربائجانی ترکی میں بھی ان کی چند غزلیں محفوظ ہیں۔
صائب کی شاعری کی نمایاں خصوصیات میں نازک خیال آفرینی، دقیق مضمون بندی، دل نشیں تشبیہات اور روزمرہ زندگی کے تجربات کو فنی لطافت کے ساتھ بیان کرنا شامل ہے۔ ان کے بے شمار اشعار فارسی ادب کے یادگار اور ضرب المثل بن جانے والے نمونوں میں شمار ہوتے ہیں۔
صائب تبریزی نے 1669ء میں اصفہان میں وفات پائی۔ ان کا مزار اصفہان کے محلۂ عباس آباد میں واقع ہے۔