صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 604

غزل شمارهٔ 604

شاعر: صائب

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: شرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عرق به چهره نشسته است آن پریوش را

که دیده است به این آبداری آتش را؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 603

اگلی نظم

گذاشتیم به اغیار زلف پر خم را

به دست دیو سپردیم خاتم جم را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 605

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

شکیب نیست ز معشوق، عشق سرکش را

که سوختن نبود اشتهای آتش را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 601

ز آه سرد چه پرواست حسن سرکش را؟

نسیم، بال و پر سرکشی است آتش را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 602

عرق به چهره نشسته است آن پریوش را

که دیده است به این آبداری آتش را؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 603

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00