صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 361

غزل شمارهٔ 361

شاعر: سعدی

وزن: مفتعلن فاعلن مفتعلن فاعلن (منسرح مطوی مکشوف)

قافیہ: ام

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شمع بخواهد نشست بازنشین ای غلام

روی تو دیدن به صبح روز نماید تمام

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 360

اگلی نظم

مرا دو دیده به راه و دو گوش بر پیغام

تو مُستریح و به افسوس می‌رود ایام

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 362

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چند روی بی‌خبر آخر بنگر به بام

بام چه باشد بگو بر فلک سبزفام

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1714

هر کی بمیرد شود دشمن او دوستکام

دشمنم از مرگ من کور شود والسلام

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1715

امشب جان را ببر از تن چاکر تمام

تا نبود در جهان بیش مرا نقش و نام

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1716

شمع بخواهد نشست بازنشین ای غلام

روی تو دیدن به صبح روز نماید تمام

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 360

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00