صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 1407

غزل شمارهٔ 1407

شاعر: رومی

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: رم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکاران: فاطمه زندی، نازنین بازیان
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر شب و هر سحر تو را من به دعا بخواستم

تا به چه شیوه‌ها تو را من ز خدا بخواستم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1406

اگلی نظم

تا به کی ای شکر چو تن بی‌دل و جان فغان کنم

چند ز برگ ریز غم زرد شوم خزان کنم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1408

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ترک قلندر من دوش درآمد از درم

بوسه گشاد بر لبم تنگ کشید در برم

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 530

دوش چه خورده‌ای بگو ای بت همچو شکرم

تا همه عمر بعد از این من شب و روز از آن خورم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1402

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00