شاعر
مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی (1207ء تا 1273ء) فارسی زبان کے عظیم ترین صوفی شاعروں، عارفوں اور مفکروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ بلخ میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے اناطولیہ کے شہر قونیہ میں مقیم ہوئے، جہاں آپ کی علمی، روحانی اور ادبی شخصیت نے کمال پایا۔ آپ دنیا بھر میں مولانا، رومی اور مولوی کے ناموں سے معروف ہیں۔
رومی کے والد، شیخ بہاء الدین ولد، اپنے عہد کے ممتاز علما اور صوفیا میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی سرپرستی اور بعد ازاں برہان الدین محقق ترمذی کی تربیت نے مولانا کی علمی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدا میں رومی تدریس، وعظ اور فتویٰ کے منصب سے وابستہ تھے اور اپنے زمانے کے جید علما میں شمار ہوتے تھے۔
1244ء میں شمس الدین تبریزی سے ان کی تاریخی ملاقات نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ شمس کی صحبت نے رومی کے باطن میں ایک عظیم روحانی انقلاب برپا کیا، جس کے نتیجے میں ان کی توجہ رسمی علوم سے بڑھ کر عشق، عرفان اور باطنی سلوک کی طرف ہو گئی۔ ان کے بیشتر عرفانی افکار اور شاعری اسی روحانی تجربے کا مظہر ہیں۔
مولانا کے ادبی آثار میں مثنوی معنوی، دیوانِ شمس تبریزی، رباعیات، مکتوبات، فیہ ما فیہ اور مجالس سبعہ شامل ہیں۔ مثنوی معنوی کو فارسی ادب اور تصوف کا ایک عظیم شاہکار سمجھا جاتا ہے، اور اسے دنیا کی اہم ترین روحانی و ادبی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جبکہ دیوان شمس کو فارسی کی عاشقانہ و عارفانہ روایت کی سب سے بلند پایہ تصنیف شمار کیا جاتا ہے۔
مولانا نے 1273ء میں قونیہ میں وفات پائی۔ ان کا فکر و ادب صدیوں سے مشرق و مغرب کے اہلِ علم، اہلِ ادب اور طالبانِ معرفت کے لیے سرچشمۂ فیض بنا ہوا ہے، اور آج بھی ان کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعروں میں ہوتا ہے۔