صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1812

رباعی شمارهٔ 1812

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: نداندیشی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا چند ز جان مستمند اندیشی

تا کی ز جهان پرگزند اندیشی

2

آنچه از تو ستد همین کالبد است

یک مزبله گو مباش چند اندیشی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیوسته مها عزم سفر می‌داری

چون چرخ مرا زیر و زبر می‌داری

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1811

اگلی نظم

تا خاک قدوم هر مقدم نشوی

سالار سپاه نفس و آدم نشوی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1813

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

تا چند ز جان مستمند اندیشی

تا کی ز جهان پر گزند اندیشی

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 400

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور