صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 400

رباعی شمارهٔ 400

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: نداندیشی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا چند ز جان مستمند اندیشی

تا کی ز جهان پر گزند اندیشی

2

آنچ از تو توان شدن همین کالبدست

یک مزبله‌گو مباش چند اندیشی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در خدمت ما اگر زمانی باشی

در دولت صاحب قرانی باشی

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 399

اگلی نظم

ای عود بهشت فعل بیدی تا کی

وی ابر امید ناامیدی تا کی

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 401

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

تا چند ز جان مستمند اندیشی

تا کی ز جهان پرگزند اندیشی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1812

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور