صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1813

رباعی شمارهٔ 1813

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: دمنشوی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا خاک قدوم هر مقدم نشوی

سالار سپاه نفس و آدم نشوی

2

تا از من و مای خود مسلم نشوی

با این ملکان محرم و همدم نشوی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تا چند ز جان مستمند اندیشی

تا کی ز جهان پرگزند اندیشی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1812

اگلی نظم

تا درد نیابی تو به درمان نرسی

تا جان ندهی به وصل جانان نرسی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1814

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور