صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1971

رباعی شمارهٔ 1971

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: مباشی

صنف: رباعی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
ناخوانده به هرجا که روی غم باشی
ور خوانده روی تو محرم آن دم باشی
22
تا کافر را خدا نخواند نرود
شرمت بادا ز کافری کم باشی
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

می‌فرماید خدا که ای هرجائی

از عام ببر که خاص آن مائی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1970

اگلی نظم

نقّاش رُخَت اگر نه یزدان بودی

استاد تو در نقش تو حیران بودی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1972

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00