صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 687

رباعی شمارهٔ 687

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وچهکند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دریا نکند سیر مرا جو چه کند

گلشن چو نباشدم مرا بو چه کند

2

گر یار کرانه کرد او معذور است

من ماندم و صبر نیز تا او چه کند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در عشق توم وفا قرین می‌باید

وصل تو گمانست، یقین می‌باید

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 686

اگلی نظم

دردی داری که بحر را پر دارد

دردی که هزار بحر پر در دارد

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 688

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور