صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 686

رباعی شمارهٔ 686

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ینمیباید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11

در عشق توم وفا قرین می‌باید

وصل تو گمانست، یقین می‌باید

22

کار من دل خواسته در خدمت تو

بد نیست ولیکن به ازین می‌باید

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

درویش که اسرار جهان می‌بخشد

هردم ملکی به رایگان می‌بخشد

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 685

اگلی نظم

دریا نکند سیر مرا جو چه کند

گلشن چو نباشدم مرا بو چه کند

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 687

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

در عشق توام وفا قرین میباید

وصل تو گمانست و یقین میباید

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 670

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور