صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 854

غزل شمارهٔ 854

شاعر: رومی

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن (مضارع مثمن اخرب)

قافیہ: یننباشد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مر بحر را ز ماهی دایم گزیر باشد

زیرا به پیش دریا ماهی حقیر باشد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 853

اگلی نظم

عید آمد و خوش آمد دلدار دلکش آمد

هر مرده‌ای ز گوری برجست و پیشش آمد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 855

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گر گویمت که سروی سرو این چنین نباشد

ور گویمت که ماهی مه بر زمین نباشد

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 204

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00