صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 115

رباعی شمارهٔ 115

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستهایشرمتباد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای آن که ز درد رسته ای، شرمت باد

فارغ ز بلا نشسته ای، شرمت باد

2

تو سنگ دلی و تهمت بی اثری

بر جلوهٔ حسن بسته ای، شرمت باد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تا کی برت اظهار عدم نتوان کرد

یک مو ز رعونت تو کم نتوان کرد

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 114

اگلی نظم

در علم و عمل چو ذوفنون آید مرد

آرایش بیرون و درون آید مرد

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 116

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور