صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 408

غزل شمارهٔ 408

شاعر: عرفی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: ابمیچکدش

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

از سخن شهد ناب می چکدش

وز تبسم شراب می چکدش

2

می توان گفت از آن طراوت حسن

کز جبین آفتاب می چکدش

3

که زد این نیش بر دل گرمم

کآتش از پیچ و تاب می چکدش

4

هر حدیثی که پرسم از همت

آبرو از جواب می چکدش

5

آتش عشق نشئه ای دارد

که شراب از کباب می چکدش

6

چه کند عرفی ار نریزد اشک

از جگر خون ناب می چکدش

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از بس که بود جان، دم رفتن نگرانش

هر گام اجل می کشد از رحم عنانش

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 407

اگلی نظم

به عمرها ننهم پا برون ز خانهٔ خویش

نگاهبان خودم من بر آستانهٔ خویش

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 409

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور