صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات خیام به پژوهش سیدعلی میرافضلی
  3. »رباعیات محتمل
  4. »شمارهٔ 47

شمارهٔ 47

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وشی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: رباعی

صداکار: حامد بوطیقا
Toggle stanza 1
1
2
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چون فارغی ای ‌دوست ز هر اسراری

چندین چه خوری بیهُده هر تیماری؟

خیام»رباعیات خیام به پژوهش سیدعلی میرافضلی»رباعیات محتمل»شمارهٔ 46

اگلی نظم

زاهد نکند به زهدْ سود ای ساقی

زیرا که قَدَر عمل نمود ای ساقی

خیام»رباعیات خیام به پژوهش سیدعلی میرافضلی»رباعیات محتمل»شمارهٔ 48

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دوش آمد و گفت: روز و شب میجوشی

تادین ندهی ز دست در بیهوشی

عطار»مختارنامه»باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق»شمارهٔ 2

آن مایه ز دنیا که خوری یا پوشی

معذوری اگر در طلبش می‌کوشی

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 157

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00