شاعر
حکیم ابوالفتح عمر بن ابراہیم خیام نیشاپوری (1047ء تا 1131ء)، جو عموماً عمر خیام کے نام سے معروف ہیں، اسلامی دنیا کے ممتاز فلسفی، ریاضی دان، منجم اور شاعر تھے۔ آپ نیشاپور میں پیدا ہوئے اور علم و حکمت کے مختلف میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
عمر خیام نے سلجوقی دور میں رصدِ ملکشاہی کی ترتیب اور جلالی تقویم کی اصلاح میں اہم کردار ادا کیا۔ ریاضی، جبر، ہندسہ اور فلکیات کے علوم میں ان کی تحقیقات اپنے زمانے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی تھیں۔ ان کی مشہور علمی تصانیف میں رسالہ فی شرح ما اشکل من مصادرات کتاب اقلیدس، رسالہ فی الاحتیال لمعرفۃ مقداری الذہب والفضۃ فی جسم مرکب منہما، اور لوازم الامکنہ شامل ہیں۔
انہوں نے فارسی اور عربی دونوں زبانوں میں تصنیف و تالیف کی اور شاعری بھی کی۔ اگرچہ وہ اپنے عہد میں بطور عالم اور ریاضی دان زیادہ معروف تھے، لیکن بعد کی صدیوں میں ان کی فارسی رباعیات نے غیر معمولی عالمی شہرت حاصل کی۔ آج عمر خیام کا شمار فارسی ادب کی نمایاں ترین شخصیات میں ہوتا ہے، اور ان کی رباعیات دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
عمر خیام نے 1131ء میں نیشاپور ہی میں وفات پائی، جہاں ان کا مزار آج بھی اہلِ علم و ادب کی توجہ کا مرکز ہے۔